<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ماحولیاتی دباؤ اور آبادی کا بڑھتا سیلاب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284981/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;محکمہ موسمیات پاکستان نے حال ہی میں درجہ حرارت میں خطرناک اضافے کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے جہاں مارچ میں گرمی کی وہ شدید لہریں دیکھی گئیں جو کبھی 2030ء کے لیے متوقع تھیں۔ محکمہ موسمیات کی تازہ ترین رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ رات کے وقت کم سے کم درجہ حرارت 14.7°C تک جا پہنچا، جو کہ 12°C کی طویل مدتی اوسط سے 2.7°C زیادہ ہے۔ یہ ریکارڈ پر دوسری بلند ترین سطح ہے جبکہ دن کے وقت زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 28.5°C رہا، جو معمول سے 2°C زائد ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہ کے دوران قومی سطح پر اوسط درجہ حرارت 21.6°C رہا جو تاریخ کا پانچواں بلند ترین درجہ حرارت ہے اور 19.3°C کی تاریخی اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ سال کے ایک غیر معمولی گرم اور غیر مستحکم آغاز کی نشاندہی کرتا ہے۔ درجہ حرارت میں یہ تشویشناک اضافہ ایک اتنے ہی خطرناک آبادیاتی رجحان کے ساتھ سامنے آ رہا ہے جس میں وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستان اگلے پانچ سالوں میں دنیا کا چوتھا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان رجحانات کا ملاپ محض اتفاقی نہیں ہے۔ آبادی میں تیزی سے اضافہ توانائی کی طلب، شہروں کے پھیلاؤ اور وسائل کی کمی میں شدت پیدا کرتا ہے جس سے ماحولیاتی دباؤ (کلائمیٹ اسٹریس) مزید بڑھ جاتا ہے جبکہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت عوامی صحت، پیداواری صلاحیت اور معاشی استحکام کو نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ دونوں عوامل مل کر ایک ایسا تباہ کن چکر بناتے ہیں جو جی ڈی پی کی شرحِ نمو کے لیے خطرہ ہے، پائیدار ترقی کی بنیادوں کو کمزور کرتا ہے اور ایک ترقی یافتہ معیشت بننے کی جانب ہماری پہلے سے ہی کمزور پیش رفت کو روکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی یہ مشکل بنیادی طور پر غیر منصفانہ ہے: عالمی اخراج میں اس کا حصہ نہایت معمولی ہے، مگر اسے دنیا کے شدید ترین موسمیاتی اثرات کا سامنا ہے۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، بے ترتیب مون سون بارشوں سے لے کر گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث تباہ کن سیلاب تک، ملک مختلف قسم کے شدید موسمی حالات کا سامنا کر رہا ہے جو وقت کے ساتھ زیادہ بار اور زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔نازک ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹمز) بحالی کی حد سے آگے نکل رہے ہیں، کیونکہ پانی کی قلت اور سیلاب کی وجہ سے دیہی علاقوں کے ذرائع معاش غیر مستحکم ہورہے ہیں جبکہ شہری مراکز بار بار ایسے موسمی واقعات کا شکار ہو کر مفلوج ہوجاتے ہیں جن کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت ان میں موجود نہیں ہے۔ اس صورتحال میں آبادی میں تیزی سے اضافہ خاص طور پر بڑھتے درجہ حرارت اور دیگر ماحولیاتی جھٹکوں کے اثرات کو مزید سنگین بنارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہری مراکز میں آبادی میں بے ہنگم اضافہ گنجان اور غیرمنصوبہ بند تعمیرات کا باعث بن رہا ہے جو حرارت کو جذب کرلیتی ہیں، جس سے اربن ہیٹ آئی لینڈ (شہری حدت کے جزیروں) کا اثر مزید شدت اختیار کر جاتا ہے۔ دوسری جانب شہروں سے باہر یہی اضافہ پانی کی کمی اور زرعی دباؤ کو بڑھا کر ملک کی ماحولیاتی اور سماجی و معاشی کمزوریوں کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے صرف کلائمیٹ ایکشن پلانز اور بڑے بجٹ ہی کافی نہیں  بلکہ اس کے لیے آبادی میں مسلسل ہونے والے اضافے پر قابو پانا بھی ناگزیر ہے۔ سالانہ 62 لاکھ افراد کے اضافے، 3.6 کی شرحِ پیدائش اور 2.55 فیصد کی شرحِ نمو کے ساتھ، یہ صورتحال واضح طور پر ناقابلِ برداشت ہے۔ اگر ملک ایک ایسی مستحکم جی ڈی پی گروتھ چاہتا ہے جو اسے ایک مکمل ترقی یافتہ معیشت میں بدل سکے تو اس رجحان کو روکنا ہوگا۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ 2.55 فیصد کی آبادیاتی شرحِ نمو کا مطلب یہ ہے کہ معیشت کو محض موجودہ آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی اسی رفتار سے ترقی کرنی ہوگی۔ بار بار آنے والے معاشی جھٹکوں کے درمیان یہ ایک انتہائی کٹھن ہدف ہے جو اس پھیلاؤ کو لگام دینے کی ضرورت کو مزید فوری اور اہم بنا دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک ناقابلِ تسخیر چیلنج نہیں ہونا چاہیے۔ بنگلہ دیش اور انڈونیشیا جیسے ممالک نے اسی طرح کے آبادی دباؤ کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے جہاں انہوں نے ترقی کے ثمرات کو بڑھاتے ہوئے آبادی میں اضافے کی شرح کو سست کیا۔ ان ممالک نے جس کلیدی حکمتِ عملی کو مؤثر طریقے سے اپنایا وہ خواندگی، بالخصوص خواتین کی تعلیم میں اضافہ تھا۔ یہ مسلسل ثابت ہوا ہے کہ خواتین کی تعلیم شرحِ پیدائش کو کم کرتی ہے کیونکہ تعلیم یافتہ خواتین کو زیادہ خود مختاری، تولیدی صحت کی سہولیات تک رسائی اور خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں باخبر فیصلے کرنے کا شعور حاصل ہوتا ہے۔ مزید برآں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آبادی میں اضافے کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط اور ملک گیر پلان آف ایکشن کی ضرورت ہے۔ اگرچہ آبادی کی پالیسی ایک صوبائی موضوع ہوسکتی ہے لیکن اس قدر بڑے چیلنج کا مقابلہ بکھری ہوئی اور غیر مربوط کوششوں سے نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند ماہ قبل وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال نے ایک نیشنل پاپولیشن کونسل کے قیام کی تجویز دی تھی جس کی صدارت وزیرِ اعظم کریں اور اس میں تمام صوبوں کی نمائندگی شامل ہو۔ اس خیال پر فوری غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح این ایف سی ایوارڈ کے فارمولے پر نظرِ ثانی کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے کیونکہ یہ وسائل کی تقسیم کو بڑی حد تک آبادی کے حجم سے جوڑتا ہے جس سے صوبوں کو آبادی پر قابو پانے کے بجائے اس میں اضافے کی ترغیب ملتی ہے۔ آبادی میں اضافے کو کنٹرول کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ پاکستان ان وسائل اور ہمت کے ساتھ ماحولیاتی بحران کا مقابلہ کر سکے جس کی اسے اشد ضرورت ہے، ایک جامع اور قومی سطح پر مربوط حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>محکمہ موسمیات پاکستان نے حال ہی میں درجہ حرارت میں خطرناک اضافے کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے جہاں مارچ میں گرمی کی وہ شدید لہریں دیکھی گئیں جو کبھی 2030ء کے لیے متوقع تھیں۔ محکمہ موسمیات کی تازہ ترین رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ رات کے وقت کم سے کم درجہ حرارت 14.7°C تک جا پہنچا، جو کہ 12°C کی طویل مدتی اوسط سے 2.7°C زیادہ ہے۔ یہ ریکارڈ پر دوسری بلند ترین سطح ہے جبکہ دن کے وقت زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 28.5°C رہا، جو معمول سے 2°C زائد ہے۔</strong></p>
<p>ماہ کے دوران قومی سطح پر اوسط درجہ حرارت 21.6°C رہا جو تاریخ کا پانچواں بلند ترین درجہ حرارت ہے اور 19.3°C کی تاریخی اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ سال کے ایک غیر معمولی گرم اور غیر مستحکم آغاز کی نشاندہی کرتا ہے۔ درجہ حرارت میں یہ تشویشناک اضافہ ایک اتنے ہی خطرناک آبادیاتی رجحان کے ساتھ سامنے آ رہا ہے جس میں وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستان اگلے پانچ سالوں میں دنیا کا چوتھا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن سکتا ہے۔</p>
<p>ان رجحانات کا ملاپ محض اتفاقی نہیں ہے۔ آبادی میں تیزی سے اضافہ توانائی کی طلب، شہروں کے پھیلاؤ اور وسائل کی کمی میں شدت پیدا کرتا ہے جس سے ماحولیاتی دباؤ (کلائمیٹ اسٹریس) مزید بڑھ جاتا ہے جبکہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت عوامی صحت، پیداواری صلاحیت اور معاشی استحکام کو نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ دونوں عوامل مل کر ایک ایسا تباہ کن چکر بناتے ہیں جو جی ڈی پی کی شرحِ نمو کے لیے خطرہ ہے، پائیدار ترقی کی بنیادوں کو کمزور کرتا ہے اور ایک ترقی یافتہ معیشت بننے کی جانب ہماری پہلے سے ہی کمزور پیش رفت کو روکتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کی یہ مشکل بنیادی طور پر غیر منصفانہ ہے: عالمی اخراج میں اس کا حصہ نہایت معمولی ہے، مگر اسے دنیا کے شدید ترین موسمیاتی اثرات کا سامنا ہے۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، بے ترتیب مون سون بارشوں سے لے کر گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث تباہ کن سیلاب تک، ملک مختلف قسم کے شدید موسمی حالات کا سامنا کر رہا ہے جو وقت کے ساتھ زیادہ بار اور زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔نازک ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹمز) بحالی کی حد سے آگے نکل رہے ہیں، کیونکہ پانی کی قلت اور سیلاب کی وجہ سے دیہی علاقوں کے ذرائع معاش غیر مستحکم ہورہے ہیں جبکہ شہری مراکز بار بار ایسے موسمی واقعات کا شکار ہو کر مفلوج ہوجاتے ہیں جن کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت ان میں موجود نہیں ہے۔ اس صورتحال میں آبادی میں تیزی سے اضافہ خاص طور پر بڑھتے درجہ حرارت اور دیگر ماحولیاتی جھٹکوں کے اثرات کو مزید سنگین بنارہا ہے۔</p>
<p>شہری مراکز میں آبادی میں بے ہنگم اضافہ گنجان اور غیرمنصوبہ بند تعمیرات کا باعث بن رہا ہے جو حرارت کو جذب کرلیتی ہیں، جس سے اربن ہیٹ آئی لینڈ (شہری حدت کے جزیروں) کا اثر مزید شدت اختیار کر جاتا ہے۔ دوسری جانب شہروں سے باہر یہی اضافہ پانی کی کمی اور زرعی دباؤ کو بڑھا کر ملک کی ماحولیاتی اور سماجی و معاشی کمزوریوں کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کے ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے صرف کلائمیٹ ایکشن پلانز اور بڑے بجٹ ہی کافی نہیں  بلکہ اس کے لیے آبادی میں مسلسل ہونے والے اضافے پر قابو پانا بھی ناگزیر ہے۔ سالانہ 62 لاکھ افراد کے اضافے، 3.6 کی شرحِ پیدائش اور 2.55 فیصد کی شرحِ نمو کے ساتھ، یہ صورتحال واضح طور پر ناقابلِ برداشت ہے۔ اگر ملک ایک ایسی مستحکم جی ڈی پی گروتھ چاہتا ہے جو اسے ایک مکمل ترقی یافتہ معیشت میں بدل سکے تو اس رجحان کو روکنا ہوگا۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ 2.55 فیصد کی آبادیاتی شرحِ نمو کا مطلب یہ ہے کہ معیشت کو محض موجودہ آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی اسی رفتار سے ترقی کرنی ہوگی۔ بار بار آنے والے معاشی جھٹکوں کے درمیان یہ ایک انتہائی کٹھن ہدف ہے جو اس پھیلاؤ کو لگام دینے کی ضرورت کو مزید فوری اور اہم بنا دیتا ہے۔</p>
<p>یہ ایک ناقابلِ تسخیر چیلنج نہیں ہونا چاہیے۔ بنگلہ دیش اور انڈونیشیا جیسے ممالک نے اسی طرح کے آبادی دباؤ کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے جہاں انہوں نے ترقی کے ثمرات کو بڑھاتے ہوئے آبادی میں اضافے کی شرح کو سست کیا۔ ان ممالک نے جس کلیدی حکمتِ عملی کو مؤثر طریقے سے اپنایا وہ خواندگی، بالخصوص خواتین کی تعلیم میں اضافہ تھا۔ یہ مسلسل ثابت ہوا ہے کہ خواتین کی تعلیم شرحِ پیدائش کو کم کرتی ہے کیونکہ تعلیم یافتہ خواتین کو زیادہ خود مختاری، تولیدی صحت کی سہولیات تک رسائی اور خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں باخبر فیصلے کرنے کا شعور حاصل ہوتا ہے۔ مزید برآں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آبادی میں اضافے کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط اور ملک گیر پلان آف ایکشن کی ضرورت ہے۔ اگرچہ آبادی کی پالیسی ایک صوبائی موضوع ہوسکتی ہے لیکن اس قدر بڑے چیلنج کا مقابلہ بکھری ہوئی اور غیر مربوط کوششوں سے نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p>چند ماہ قبل وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال نے ایک نیشنل پاپولیشن کونسل کے قیام کی تجویز دی تھی جس کی صدارت وزیرِ اعظم کریں اور اس میں تمام صوبوں کی نمائندگی شامل ہو۔ اس خیال پر فوری غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح این ایف سی ایوارڈ کے فارمولے پر نظرِ ثانی کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے کیونکہ یہ وسائل کی تقسیم کو بڑی حد تک آبادی کے حجم سے جوڑتا ہے جس سے صوبوں کو آبادی پر قابو پانے کے بجائے اس میں اضافے کی ترغیب ملتی ہے۔ آبادی میں اضافے کو کنٹرول کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ پاکستان ان وسائل اور ہمت کے ساتھ ماحولیاتی بحران کا مقابلہ کر سکے جس کی اسے اشد ضرورت ہے، ایک جامع اور قومی سطح پر مربوط حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284981</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Apr 2026 11:09:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/13105843f4ff2a2.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/13105843f4ff2a2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
