<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:43:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:43:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ایچ ایم اے کا نجی نیٹ ورکس کے غیر مجاز استعمال پر ڈسکوز کے خلاف کارروائی کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284972/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ایچ ایم اے) نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے درخواست کی ہے کہ کراچی کے صنعتی زونز میں ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کی جانب سے نجی ملکیتی بجلی کے نظام کے غیر مجاز استعمال کے معاملے پر فوری کارروائی کی جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کئی فیکٹریوں نے 1970 اور 1980 کی دہائی میں اپنی زمین پر ذاتی خرچ پر 11کے وی سب اسٹیشنز اور ڈسٹری بیوشن سسٹمز قائم کیے تھے، جو صرف ان کی اپنی ضرورت کے لیے تھے۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ ڈسکوز نے ان نجی سسٹمز کے ذریعے اردگرد کے صارفین کو بھی بجلی فراہم کرنا شروع کر دی، وہ بھی بغیر کسی اجازت نامے (این او سی)، معاہدے یا مالکان کو معاوضہ دیے بغیر ایسا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایچ ایم اے کے مطابق یہ عمل نیپرا کے کنزیومر سروس مینوئل اور متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی ہے، جن کے تحت کسی بھی نجی ڈسٹری بیوشن سسٹم سے نئے کنکشن کے لیے مالک کی تحریری اجازت لازمی قرار دی گئی ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ متعدد کیسز میں مالکان کو نہ تو آگاہ کیا گیا اور نہ ہی ان سے مشاورت کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جب کوئی فیکٹری بند ہو جائے یا مالک اپنی جائیداد فروخت یا دوبارہ تعمیر کرنا چاہے تو ڈسکوز اپنے قائم کردہ کنکشنز ہٹانے سے انکار کر دیتے ہیں یا اس کی مکمل لاگت مالک پر ڈال دیتے ہیں، جس سے صنعتی زمین کے مالکان کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایچ ایم اے نے مزید کہا ہے کہ موجودہ قوانین کے تحت نجی ڈسٹری بیوشن سسٹمز کو پبلک سسٹمز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، مگر اس عمل میں مالکان کو کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا، جو آئینی طور پر نجی املاک کے تحفظ کے اصولوں کے خلاف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئین کے آرٹیکل 24 کا حوالہ دیتے ہوئے ایسوسی ایشن نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بغیر معاوضے کے نجی انفرااسٹرکچر کو عوامی استعمال میں دینا غیر قانونی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایچ ایم اے نے نیپرا سے پانچ نکاتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے، جن میں غیر قانونی کنکشنز کی نشاندہی، مالکان کو لاگت سے استثنا، تبدیلی کے عمل میں مکمل معاوضہ، لازمی این او سی سسٹم، اور ماضی کے متاثرہ مالکان کو ری فنڈز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن نے امید ظاہر کی ہے کہ نیپرا اس معاملے پر جلد کارروائی کرے گا تاکہ صنعتی شعبے کے حقوق اور قانونی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ایچ ایم اے) نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے درخواست کی ہے کہ کراچی کے صنعتی زونز میں ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کی جانب سے نجی ملکیتی بجلی کے نظام کے غیر مجاز استعمال کے معاملے پر فوری کارروائی کی جائے۔</strong></p>
<p>ایسوسی ایشن نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کئی فیکٹریوں نے 1970 اور 1980 کی دہائی میں اپنی زمین پر ذاتی خرچ پر 11کے وی سب اسٹیشنز اور ڈسٹری بیوشن سسٹمز قائم کیے تھے، جو صرف ان کی اپنی ضرورت کے لیے تھے۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ ڈسکوز نے ان نجی سسٹمز کے ذریعے اردگرد کے صارفین کو بھی بجلی فراہم کرنا شروع کر دی، وہ بھی بغیر کسی اجازت نامے (این او سی)، معاہدے یا مالکان کو معاوضہ دیے بغیر ایسا کیا۔</p>
<p>پی ایچ ایم اے کے مطابق یہ عمل نیپرا کے کنزیومر سروس مینوئل اور متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی ہے، جن کے تحت کسی بھی نجی ڈسٹری بیوشن سسٹم سے نئے کنکشن کے لیے مالک کی تحریری اجازت لازمی قرار دی گئی ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ متعدد کیسز میں مالکان کو نہ تو آگاہ کیا گیا اور نہ ہی ان سے مشاورت کی گئی۔</p>
<p>درخواست میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جب کوئی فیکٹری بند ہو جائے یا مالک اپنی جائیداد فروخت یا دوبارہ تعمیر کرنا چاہے تو ڈسکوز اپنے قائم کردہ کنکشنز ہٹانے سے انکار کر دیتے ہیں یا اس کی مکمل لاگت مالک پر ڈال دیتے ہیں، جس سے صنعتی زمین کے مالکان کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p>پی ایچ ایم اے نے مزید کہا ہے کہ موجودہ قوانین کے تحت نجی ڈسٹری بیوشن سسٹمز کو پبلک سسٹمز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، مگر اس عمل میں مالکان کو کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا، جو آئینی طور پر نجی املاک کے تحفظ کے اصولوں کے خلاف ہے۔</p>
<p>آئین کے آرٹیکل 24 کا حوالہ دیتے ہوئے ایسوسی ایشن نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بغیر معاوضے کے نجی انفرااسٹرکچر کو عوامی استعمال میں دینا غیر قانونی ہے۔</p>
<p>پی ایچ ایم اے نے نیپرا سے پانچ نکاتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے، جن میں غیر قانونی کنکشنز کی نشاندہی، مالکان کو لاگت سے استثنا، تبدیلی کے عمل میں مکمل معاوضہ، لازمی این او سی سسٹم، اور ماضی کے متاثرہ مالکان کو ری فنڈز شامل ہیں۔</p>
<p>ایسوسی ایشن نے امید ظاہر کی ہے کہ نیپرا اس معاملے پر جلد کارروائی کرے گا تاکہ صنعتی شعبے کے حقوق اور قانونی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284972</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Apr 2026 09:27:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انور خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/130925019358962.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/130925019358962.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
