<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:45:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:45:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاور ڈویژن نے 36 ارب ڈالر کا سرکلر ڈیٹ ری فنانسنگ منصوبہ مؤخر کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284968/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاور ڈویژن نے36 ارب ڈالر کے پاور سیکٹر کے سرکلر ڈیٹ ری فنانسنگ منصوبے کو مؤخر کر دیا ہے، کیونکہ موجودہ حالات میں نہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے اور نہ ہی سعودی عرب اس کے لیے فنڈنگ فراہم کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ پاور سیکٹر کے باخبر ذرائع نے یہ بات بزنس ریکارڈر کو بتائی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن نے یہ منصوبہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور سعودی عرب کے ساتھ شیئر کیا تھا تاکہ مالی سال 2027 سے شروع ہونے والے 13 سالہ عرصے کے لیے 36 ارب ڈالر کے قرضے حاصل کیے جا سکیں، جس کا مقصد پاور سیکٹر کے قرضوں کی سروسنگ کا بوجھ کم کرنا اور خاص طور پر صنعتی شعبے کے لیے بجلی کے نرخ کم کرنا تھا۔ دسمبر 2025 میں یہ منصوبہ وزیرِاعظم شہباز شریف کو بھی پیش کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق ورلڈ بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک سمیت بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ تقریباً 2 فیصد شرح سود پر بات چیت جاری تھی، جبکہ سعودی عرب سے 1 فیصد کی کم شرح پر فنانسنگ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس منصوبے کے تحت مختلف مالی سالوں میں ری فنانسنگ کی مجوزہ رقوم طے کی گئی تھیں، جن کا آغاز 2027 میں 4.40 ارب ڈالر سے ہو کر 2039 تک بتدریج 1.21 ارب ڈالر تک کم ہونا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت پاور سیکٹر کا سرکلر ڈیٹ تقریباً 1.9 ٹریلین روپے ہے، تاہم حکومت اسے 30 جون 2026 تک 1.614 ٹریلین روپے تک محدود رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ حکومت پہلے ہی کمرشل بینکوں سے 1.225 ٹریلین روپے حاصل کر چکی ہے تاکہ اس قرضے کو کم کیا جا سکے، اور آئندہ چھ سال تک 3.23 روپے فی یونٹ کے حساب سے ڈیٹ سروس چارج وصول جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ اس قرضے کو صفر تک لایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجوزہ منصوبے کے مطابق اگر 2 فیصد شرح سود پر قرض حاصل ہوتا تو صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخ مالی سال 2027 میں 8.70 سینٹس فی یونٹ تک کم ہو سکتے تھے، جبکہ آئندہ برسوں میں یہ معمولی اتار چڑھاؤ کے ساتھ 2039 تک تقریباً 9.18 سینٹس تک رہتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اگر سعودی عرب سے 1 فیصد شرح سود پر فنانسنگ حاصل ہو جاتی تو صنعتی ٹیرف مزید کم ہو کر 2027 میں 8.62 سینٹس فی یونٹ تک آ سکتے تھے اور 2039 تک 9.03 سینٹس کے قریب رہتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ہر ملک کے لیے ایک حد تک ایکسپوژر ہوتا ہے، اور ان کے مطابق پاکستان اگر اپنی ترجیحات تبدیل کرے تو رعایتی قرض حاصل کر سکتا ہے، تاہم موجودہ شرائط پر کوئی ادارہ فنڈنگ دینے کی پوزیشن میں نہیں۔ اگرچہ یہ ادارے زیادہ شرح سود پر قرض فراہم کر سکتے ہیں، لیکن پاکستان اس میں دلچسپی نہیں رکھتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ ابھی تک کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا، اور وہ اس وقت مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال میں مصروف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاور ڈویژن نے36 ارب ڈالر کے پاور سیکٹر کے سرکلر ڈیٹ ری فنانسنگ منصوبے کو مؤخر کر دیا ہے، کیونکہ موجودہ حالات میں نہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے اور نہ ہی سعودی عرب اس کے لیے فنڈنگ فراہم کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ پاور سیکٹر کے باخبر ذرائع نے یہ بات بزنس ریکارڈر کو بتائی۔</strong></p>
<p>پاور ڈویژن نے یہ منصوبہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور سعودی عرب کے ساتھ شیئر کیا تھا تاکہ مالی سال 2027 سے شروع ہونے والے 13 سالہ عرصے کے لیے 36 ارب ڈالر کے قرضے حاصل کیے جا سکیں، جس کا مقصد پاور سیکٹر کے قرضوں کی سروسنگ کا بوجھ کم کرنا اور خاص طور پر صنعتی شعبے کے لیے بجلی کے نرخ کم کرنا تھا۔ دسمبر 2025 میں یہ منصوبہ وزیرِاعظم شہباز شریف کو بھی پیش کیا گیا تھا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق ورلڈ بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک سمیت بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ تقریباً 2 فیصد شرح سود پر بات چیت جاری تھی، جبکہ سعودی عرب سے 1 فیصد کی کم شرح پر فنانسنگ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔</p>
<p>اس منصوبے کے تحت مختلف مالی سالوں میں ری فنانسنگ کی مجوزہ رقوم طے کی گئی تھیں، جن کا آغاز 2027 میں 4.40 ارب ڈالر سے ہو کر 2039 تک بتدریج 1.21 ارب ڈالر تک کم ہونا تھا۔</p>
<p>اس وقت پاور سیکٹر کا سرکلر ڈیٹ تقریباً 1.9 ٹریلین روپے ہے، تاہم حکومت اسے 30 جون 2026 تک 1.614 ٹریلین روپے تک محدود رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ حکومت پہلے ہی کمرشل بینکوں سے 1.225 ٹریلین روپے حاصل کر چکی ہے تاکہ اس قرضے کو کم کیا جا سکے، اور آئندہ چھ سال تک 3.23 روپے فی یونٹ کے حساب سے ڈیٹ سروس چارج وصول جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ اس قرضے کو صفر تک لایا جا سکے۔</p>
<p>مجوزہ منصوبے کے مطابق اگر 2 فیصد شرح سود پر قرض حاصل ہوتا تو صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخ مالی سال 2027 میں 8.70 سینٹس فی یونٹ تک کم ہو سکتے تھے، جبکہ آئندہ برسوں میں یہ معمولی اتار چڑھاؤ کے ساتھ 2039 تک تقریباً 9.18 سینٹس تک رہتے۔</p>
<p>دوسری جانب اگر سعودی عرب سے 1 فیصد شرح سود پر فنانسنگ حاصل ہو جاتی تو صنعتی ٹیرف مزید کم ہو کر 2027 میں 8.62 سینٹس فی یونٹ تک آ سکتے تھے اور 2039 تک 9.03 سینٹس کے قریب رہتے۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ہر ملک کے لیے ایک حد تک ایکسپوژر ہوتا ہے، اور ان کے مطابق پاکستان اگر اپنی ترجیحات تبدیل کرے تو رعایتی قرض حاصل کر سکتا ہے، تاہم موجودہ شرائط پر کوئی ادارہ فنڈنگ دینے کی پوزیشن میں نہیں۔ اگرچہ یہ ادارے زیادہ شرح سود پر قرض فراہم کر سکتے ہیں، لیکن پاکستان اس میں دلچسپی نہیں رکھتا۔</p>
<p>سعودی عرب کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ ابھی تک کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا، اور وہ اس وقت مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال میں مصروف ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284968</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Apr 2026 08:56:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/130854415a1c934.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/130854415a1c934.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
