<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان نے نہ صرف امن قائم کیا بلکہ دنیا کو 3 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کا فائدہ بھی پہنچایا، عاطف میاں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284948/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے حالیہ ایران–امریکہ تنازع میں ثالث کے طور پر ابھرنے کو برسوں کی سب سے اہم سفارتی کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے، جو اس کے اسٹریٹجک کردار اور موقع شناسی پر مبنی سفارت کاری کے امتزاج کی نشاندہی کرتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پاکستان نے نہ صرف دنیا کو ایک جغرافیائی سیاسی تباہی سے بچایا بلکہ عالمی معیشت کو 3 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کا فائدہ بھی پہنچایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات معروف پاکستانی نژاد امریکی ماہرِ معاشیات عاطف میاں، جو اس وقت پرنسٹن یونیورسٹی میں معاشیات کے پروفیسر ہیں نے کہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاطف میاں نے کہا کہ 7 اپریل کو دنیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس دھمکی کے باعث بحران کے دہانے پر پہنچ گئی تھی کہ “آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہو جائے گی”۔ ان کے مطابق دوپہر تک پولی مارکیٹ پر جنگ بندی کے امکانات 5 فیصد سے بھی کم تھے، لیکن آخری لمحات کی سفارتی کوششوں کے بعد، جس کی قیادت پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کی، جنگ بندی کے امکانات صفر سے بڑھ کر 100 فیصد تک پہنچ گئے، اور دونوں جانب سے پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/AtifRMian/status/2042431553649754342?'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/AtifRMian/status/2042431553649754342?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرِ معاشیات کے مطابق جنگ بندی کے امکانات میں یہ اچانک تبدیلی اس بات کا موقع فراہم کرتی ہے کہ پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کی مالی قدر کا اندازہ لگایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ جنگ بندی کے اعلان کے وقت امریکی اسٹاک مارکیٹ ایس اینڈ پی 500 میں 2.9 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ عالمی مارکیٹس میں بھی اسی نوعیت کا ردعمل دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق عالمی منڈیاں تقریباً 125 ٹریلین ڈالر کی مالیت رکھتی ہیں، لہٰذا 2.9 فیصد اضافہ دنیا کے لیے 3.6  ٹریلین ڈالر کے فائدے کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دنیا کے لیے اپنی جی ڈی پی سے دس گنا زیادہ معاشی قدر پیدا کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تجزیہ اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے چھ ہفتوں پر محیط جنگ میں دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا، جو اس ڈیڈ لائن سے چند گھنٹے قبل ہوا تھا جس کے بعد انہوں نے ایران کو سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ بندی کے بعد امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر فضائی حملے رک گئے ہیں، تاہم ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی برقرار ہے جس کے باعث عالمی توانائی کی سپلائی میں شدید رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔ اسی دوران اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لبنان میں تنازع بھی جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات جاری ہیں جن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی جیسے اہم رہنما شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان مذاکرات کو دہائیوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان سب سے اہم سفارتی رابطہ قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاطف میاں نے کہا کہ ان کے لیے سب سے اہم بات کھربوں ڈالر کا فائدہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر ایک امن قائم کرنے والے ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اس نئی شناخت کو اپناتے ہوئے نہ صرف بیرون ملک بلکہ اندرون ملک بھی امن کے فروغ کے لیے کام کرے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے حالیہ ایران–امریکہ تنازع میں ثالث کے طور پر ابھرنے کو برسوں کی سب سے اہم سفارتی کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے، جو اس کے اسٹریٹجک کردار اور موقع شناسی پر مبنی سفارت کاری کے امتزاج کی نشاندہی کرتا ہے۔</strong></p>
<p>تاہم پاکستان نے نہ صرف دنیا کو ایک جغرافیائی سیاسی تباہی سے بچایا بلکہ عالمی معیشت کو 3 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کا فائدہ بھی پہنچایا ہے۔</p>
<p>یہ بات معروف پاکستانی نژاد امریکی ماہرِ معاشیات عاطف میاں، جو اس وقت پرنسٹن یونیورسٹی میں معاشیات کے پروفیسر ہیں نے کہی ہے۔</p>
<p>عاطف میاں نے کہا کہ 7 اپریل کو دنیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس دھمکی کے باعث بحران کے دہانے پر پہنچ گئی تھی کہ “آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہو جائے گی”۔ ان کے مطابق دوپہر تک پولی مارکیٹ پر جنگ بندی کے امکانات 5 فیصد سے بھی کم تھے، لیکن آخری لمحات کی سفارتی کوششوں کے بعد، جس کی قیادت پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کی، جنگ بندی کے امکانات صفر سے بڑھ کر 100 فیصد تک پہنچ گئے، اور دونوں جانب سے پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/AtifRMian/status/2042431553649754342?'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/AtifRMian/status/2042431553649754342?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ماہرِ معاشیات کے مطابق جنگ بندی کے امکانات میں یہ اچانک تبدیلی اس بات کا موقع فراہم کرتی ہے کہ پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کی مالی قدر کا اندازہ لگایا جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ جنگ بندی کے اعلان کے وقت امریکی اسٹاک مارکیٹ ایس اینڈ پی 500 میں 2.9 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ عالمی مارکیٹس میں بھی اسی نوعیت کا ردعمل دیکھا گیا۔</p>
<p>ان کے مطابق عالمی منڈیاں تقریباً 125 ٹریلین ڈالر کی مالیت رکھتی ہیں، لہٰذا 2.9 فیصد اضافہ دنیا کے لیے 3.6  ٹریلین ڈالر کے فائدے کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دنیا کے لیے اپنی جی ڈی پی سے دس گنا زیادہ معاشی قدر پیدا کی ہے۔</p>
<p>یہ تجزیہ اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے چھ ہفتوں پر محیط جنگ میں دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا، جو اس ڈیڈ لائن سے چند گھنٹے قبل ہوا تھا جس کے بعد انہوں نے ایران کو سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی۔</p>
<p>جنگ بندی کے بعد امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر فضائی حملے رک گئے ہیں، تاہم ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی برقرار ہے جس کے باعث عالمی توانائی کی سپلائی میں شدید رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔ اسی دوران اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لبنان میں تنازع بھی جاری ہے۔</p>
<p>ادھر اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات جاری ہیں جن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی جیسے اہم رہنما شامل ہیں۔</p>
<p>ان مذاکرات کو دہائیوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان سب سے اہم سفارتی رابطہ قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p>عاطف میاں نے کہا کہ ان کے لیے سب سے اہم بات کھربوں ڈالر کا فائدہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر ایک امن قائم کرنے والے ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اس نئی شناخت کو اپناتے ہوئے نہ صرف بیرون ملک بلکہ اندرون ملک بھی امن کے فروغ کے لیے کام کرے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284948</guid>
      <pubDate>Sun, 12 Apr 2026 13:08:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/1213015120bf7d3.webp" type="image/webp" medium="image" height="1024" width="1536">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/1213015120bf7d3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
