<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:44:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:44:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مسجد اقصیٰ اور کمزور ہوتا اسٹیٹس کو</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284945/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جمعرات کی صبح سویرے ہزاروں مسلمان 41 روزہ بندش کے بعد دوبارہ مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں نماز ادا کرنے کے لیے واپس آئے—اس موقع پر کئی افراد جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور واضح طور پر انتہائی متاثر دکھائی دیے کہ وہ دوبارہ وہاں  آسکے۔ یہ لمحہ جتنا طاقتور تھا اتنا ہی معنی خیز بھی تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسجدِ اقصیٰ کے گرد بار بار پیدا ہونے والی کشیدگیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دنیا کے سب سے حساس مذہبی مقامات میں سے ایک کے حوالے سے طویل عرصے سے قائم اسٹیٹس کو کتنا کمزور اور تیزی سے متاثر ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس انتظام کے تحت یہ مسجدی احاطہ—اسلام میں تیسرا مقدس ترین مقام، جسے یہودی ٹیمپل ماؤنٹ کے نام سے جانتے ہیں—مسلمانوں کی مکمل عبادت کا مقام رہتا ہے، جس کا انتظام اردن کی قیادت میں قائم وقف کے پاس ہے، جبکہ بیرونی سیکیورٹی پر اسرائیل کا کنٹرول ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم بار بار کی بندشیں، بڑھتی ہوئی پابندیاں، اور اعلیٰ سطحی داخلے اس سمجھوتے سے بتدریج انحراف کی نشاندہی کرتے ہیں، جس کے خطے کے استحکام پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ بندش 1967 کے بعد سے طویل ترین بندشوں میں شمار ہوتی ہے۔ اگرچہ اسرائیلی حکام نے اسے وسیع تر علاقائی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات، بشمول امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگی صورتحال، کے تناظر میں سیکیورٹی خدشات قرار دیا، لیکن اقدامات کا تسلسل اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ صرف وقتی احتیاط نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتنا ہی تشویشناک امر اسرائیلی حکام کی جانب سے اس احاطے میں بار بار داخلہ ہے۔ دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر کے اقدامات—جو 2023 میں منصب سنبھالنے کے بعد سے متعدد بار صحنوں میں داخل ہو چکے ہیں اور حال ہی میں اس ہفتے کے آغاز میں بھی وہاں گئے—کو عام دوروں کے بجائے ایک دانستہ سیاسی پیغام کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے اقدامات اسرائیل کے اندرونی سیاسی ماحول سے کہیں زیادہ اثر رکھتے ہیں؛ مسلم دنیا میں انہیں اس مقدس مقام کی مذہبی اور تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ایک ایسے خطے میں جو پہلے ہی گہرے عدم اعتماد کا شکار ہے، علامتیں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے—اور یہاں یہ علامت انتہائی اشتعال انگیز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان پیش رفتوں پر مسلم اکثریتی ممالک، جن میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، قطر اور اردن شامل ہیں، نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ان کی تشویش ایک وسیع تر اتفاقِ رائے کی عکاسی کرتی ہے کہ مسجدِ اقصیٰ کی حیثیت میں کسی بھی یکطرفہ تبدیلی سے وسیع مذہبی اور سیاسی کشیدگی بھڑک سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی وزارت خارجہ نے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے دیرینہ مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ مسجدِ اقصیٰ کے تقدس اور قانونی حیثیت کا تحفظ لازمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل مسئلہ صرف اس مقدس مقام تک رسائی کا نہیں۔ یہ معاملہ معاہدوں کی ساکھ، قانون کی بالادستی کے احترام، اور پہلے ہی کمزور امن کے امکانات سے جڑا ہوا ہے۔ ایسے اقدامات جو مذہبی آزادی کو متاثر کریں، جذبات کو بھڑکانے اور تقسیم کو مزید گہرا کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس وقت فوری ضرورت تحمل، جوابدہی اور سٹیٹس کو کی واضح بحالی کے عزم کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسجدِ اقصیٰ کا تقدس صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ اس بات کا امتحان بھی ہے کہ کیا انتہائی متنازع مقامات کو انصاف، حساسیت اور احترام کے ساتھ منظم کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی فریقین—خصوصاً وہ جو خطے میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں—کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے کہ طے شدہ فریم ورک کی پابندی کی جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو اشتعال اور مذمت کا سلسلہ جاری رہے گا، اور پہلے ہی کمزور پڑتے ہوئے منصفانہ اور دیرپا امن کے امکانات مزید مدھم ہو جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جمعرات کی صبح سویرے ہزاروں مسلمان 41 روزہ بندش کے بعد دوبارہ مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں نماز ادا کرنے کے لیے واپس آئے—اس موقع پر کئی افراد جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور واضح طور پر انتہائی متاثر دکھائی دیے کہ وہ دوبارہ وہاں  آسکے۔ یہ لمحہ جتنا طاقتور تھا اتنا ہی معنی خیز بھی تھا۔</strong></p>
<p>مسجدِ اقصیٰ کے گرد بار بار پیدا ہونے والی کشیدگیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دنیا کے سب سے حساس مذہبی مقامات میں سے ایک کے حوالے سے طویل عرصے سے قائم اسٹیٹس کو کتنا کمزور اور تیزی سے متاثر ہو رہا ہے۔</p>
<p>اس انتظام کے تحت یہ مسجدی احاطہ—اسلام میں تیسرا مقدس ترین مقام، جسے یہودی ٹیمپل ماؤنٹ کے نام سے جانتے ہیں—مسلمانوں کی مکمل عبادت کا مقام رہتا ہے، جس کا انتظام اردن کی قیادت میں قائم وقف کے پاس ہے، جبکہ بیرونی سیکیورٹی پر اسرائیل کا کنٹرول ہے۔</p>
<p>تاہم بار بار کی بندشیں، بڑھتی ہوئی پابندیاں، اور اعلیٰ سطحی داخلے اس سمجھوتے سے بتدریج انحراف کی نشاندہی کرتے ہیں، جس کے خطے کے استحکام پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>حالیہ بندش 1967 کے بعد سے طویل ترین بندشوں میں شمار ہوتی ہے۔ اگرچہ اسرائیلی حکام نے اسے وسیع تر علاقائی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات، بشمول امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگی صورتحال، کے تناظر میں سیکیورٹی خدشات قرار دیا، لیکن اقدامات کا تسلسل اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ صرف وقتی احتیاط نہیں۔</p>
<p>اتنا ہی تشویشناک امر اسرائیلی حکام کی جانب سے اس احاطے میں بار بار داخلہ ہے۔ دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر کے اقدامات—جو 2023 میں منصب سنبھالنے کے بعد سے متعدد بار صحنوں میں داخل ہو چکے ہیں اور حال ہی میں اس ہفتے کے آغاز میں بھی وہاں گئے—کو عام دوروں کے بجائے ایک دانستہ سیاسی پیغام کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔</p>
<p>ایسے اقدامات اسرائیل کے اندرونی سیاسی ماحول سے کہیں زیادہ اثر رکھتے ہیں؛ مسلم دنیا میں انہیں اس مقدس مقام کی مذہبی اور تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ایک ایسے خطے میں جو پہلے ہی گہرے عدم اعتماد کا شکار ہے، علامتیں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے—اور یہاں یہ علامت انتہائی اشتعال انگیز ہے۔</p>
<p>ان پیش رفتوں پر مسلم اکثریتی ممالک، جن میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، قطر اور اردن شامل ہیں، نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ان کی تشویش ایک وسیع تر اتفاقِ رائے کی عکاسی کرتی ہے کہ مسجدِ اقصیٰ کی حیثیت میں کسی بھی یکطرفہ تبدیلی سے وسیع مذہبی اور سیاسی کشیدگی بھڑک سکتی ہے۔</p>
<p>پاکستان کی وزارت خارجہ نے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے دیرینہ مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ مسجدِ اقصیٰ کے تقدس اور قانونی حیثیت کا تحفظ لازمی ہے۔</p>
<p>اصل مسئلہ صرف اس مقدس مقام تک رسائی کا نہیں۔ یہ معاملہ معاہدوں کی ساکھ، قانون کی بالادستی کے احترام، اور پہلے ہی کمزور امن کے امکانات سے جڑا ہوا ہے۔ ایسے اقدامات جو مذہبی آزادی کو متاثر کریں، جذبات کو بھڑکانے اور تقسیم کو مزید گہرا کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس وقت فوری ضرورت تحمل، جوابدہی اور سٹیٹس کو کی واضح بحالی کے عزم کی ہے۔</p>
<p>مسجدِ اقصیٰ کا تقدس صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ اس بات کا امتحان بھی ہے کہ کیا انتہائی متنازع مقامات کو انصاف، حساسیت اور احترام کے ساتھ منظم کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔</p>
<p>بین الاقوامی فریقین—خصوصاً وہ جو خطے میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں—کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے کہ طے شدہ فریم ورک کی پابندی کی جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو اشتعال اور مذمت کا سلسلہ جاری رہے گا، اور پہلے ہی کمزور پڑتے ہوئے منصفانہ اور دیرپا امن کے امکانات مزید مدھم ہو جائیں گے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284945</guid>
      <pubDate>Sun, 12 Apr 2026 12:50:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/121248137244fda.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/121248137244fda.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
