<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خیبر پختونخوا کے پیٹرول پمپ مالکان کا مارجن میں اضافے کا مطالبہ، ہڑتال کی دھمکی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284941/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پیٹرول پمپ مالکان اور ڈیلرز نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے حالیہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے مطابق ان کے سیلز کمیشن میں اضافہ نہ کیا تو وہ صوبہ بھر میں ہڑتال کر سکتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبر پختونخوا پیٹرولیم ڈیلرز اور کارٹیج کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین گل نواز آفریدی نے ہفتے کے روز پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرول ڈیلرز اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام ٹیکس ادا کرنے کے باوجود حکومت کی جانب سے صرف چھ فیصد مارجن دیا جا رہا ہے جو ناکافی ہے اور اسے بڑھا کر آٹھ فیصد کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ صوبے بھر میں پیٹرول پمپس بند کر کے پہیہ جام ہڑتال کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گل نواز آفریدی نے الزام لگایا کہ انتظامیہ غیر قانونی ڈبہ پیٹرول پمپس کو تحفظ فراہم کر رہی ہے جو مکمل طور پر غیر قانونی ہیں اور قانونی کاروباری افراد کے ساتھ ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کے اہلکار تو پیٹرول پمپس پر پیمائش کی جانچ کے لیے آتے ہیں لیکن پولیس، پٹواری، تحصیلدار اور دیگر غیر متعلقہ افراد دفاتر پر چھاپے مار کر رشوت طلب کرتے ہیں، تاہم ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم سیکٹر سے وابستہ قانونی کاروباری افراد کو ان غیر قانونی عناصر سے تحفظ دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پیٹرول پمپ مالکان وفاقی بورڈ آف ریونیو، صوبائی اور دیگر اداروں کو باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتے ہیں اور ملازمین کی تنخواہوں میں سالانہ اضافہ بھی کرتے ہیں، تاہم چھ فیصد مارجن بڑھتے ہوئے اخراجات کے بعد کم ہو کر انتہائی کم سطح پر رہ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق موجودہ حالات میں پیٹرول پمپس کی فروخت بھی کم ہو گئی ہے جبکہ غیر قانونی ڈبہ پمپس تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور انتظامیہ ان کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ فیڈریشن کی مرکزی قیادت نے بھی یہ مسئلہ وفاقی حکومت کے سامنے رکھا ہے اور اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک گیر شٹر ڈاؤن کی کال دی جا سکتی ہے، جس کی صوبائی قیادت مکمل حمایت کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پیٹرول پمپ مالکان اور ڈیلرز نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے حالیہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے مطابق ان کے سیلز کمیشن میں اضافہ نہ کیا تو وہ صوبہ بھر میں ہڑتال کر سکتے ہیں۔</strong></p>
<p>خیبر پختونخوا پیٹرولیم ڈیلرز اور کارٹیج کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین گل نواز آفریدی نے ہفتے کے روز پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرول ڈیلرز اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام ٹیکس ادا کرنے کے باوجود حکومت کی جانب سے صرف چھ فیصد مارجن دیا جا رہا ہے جو ناکافی ہے اور اسے بڑھا کر آٹھ فیصد کیا جائے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ صوبے بھر میں پیٹرول پمپس بند کر کے پہیہ جام ہڑتال کریں گے۔</p>
<p>گل نواز آفریدی نے الزام لگایا کہ انتظامیہ غیر قانونی ڈبہ پیٹرول پمپس کو تحفظ فراہم کر رہی ہے جو مکمل طور پر غیر قانونی ہیں اور قانونی کاروباری افراد کے ساتھ ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کے اہلکار تو پیٹرول پمپس پر پیمائش کی جانچ کے لیے آتے ہیں لیکن پولیس، پٹواری، تحصیلدار اور دیگر غیر متعلقہ افراد دفاتر پر چھاپے مار کر رشوت طلب کرتے ہیں، تاہم ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔</p>
<p>انہوں نے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم سیکٹر سے وابستہ قانونی کاروباری افراد کو ان غیر قانونی عناصر سے تحفظ دیا جائے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پیٹرول پمپ مالکان وفاقی بورڈ آف ریونیو، صوبائی اور دیگر اداروں کو باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتے ہیں اور ملازمین کی تنخواہوں میں سالانہ اضافہ بھی کرتے ہیں، تاہم چھ فیصد مارجن بڑھتے ہوئے اخراجات کے بعد کم ہو کر انتہائی کم سطح پر رہ جاتا ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق موجودہ حالات میں پیٹرول پمپس کی فروخت بھی کم ہو گئی ہے جبکہ غیر قانونی ڈبہ پمپس تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور انتظامیہ ان کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ فیڈریشن کی مرکزی قیادت نے بھی یہ مسئلہ وفاقی حکومت کے سامنے رکھا ہے اور اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک گیر شٹر ڈاؤن کی کال دی جا سکتی ہے، جس کی صوبائی قیادت مکمل حمایت کرے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284941</guid>
      <pubDate>Sun, 12 Apr 2026 11:38:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امجد علی شاہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/12113646eccb4af.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/12113646eccb4af.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
