<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:42:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:42:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیکس حکام کو سرحدی علاقوں میں ٹیمپرڈ گاڑیوں کے استعمال کی اجازت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284935/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اپریل 2026 سے اپنی اینٹی اسمگلنگ اور انفورسمنٹ فارمیشنز کو سرحدی علاقوں میں آپریشنل سرگرمیوں کے لیے 1800 سی سی سے زائد ٹمپرڈ گاڑیوں کے استعمال کی اجازت دے دی ہے۔ یہ اہم فیصلہ ہفتہ کے روز جاری کیے گئے کسٹمز جنرل آرڈر (سی جی او) 4 آف 2026 کے ذریعے نافذ کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق 1800 سی سی سے زائد گاڑیوں کے استعمال کی اجازت بلوچستان میں چیف کلکٹر کسٹمز کے تحت مشکل علاقوں کی اپریزمینٹ فارمیشنز کو بھی دی جا سکتی ہے، جن میں گوادر، گبد (بارڈر پوائنٹ 250)، مند، پنجگور، تفتان، کٹاگر، دالبندین اور چمن شامل ہیں۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں انگور اڈہ، غلام خان، خرلاچی، طورخم، گلگت اور سوست سمیت ٹرانزٹ ٹریڈ اور دیگر سرحدی علاقوں میں بھی یہ سہولت فراہم کی جا سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر نے واضح کیا کہ کٹ اینڈ ویلڈ یا ٹیمپرڈ چیسس نمبر والی ضبط شدہ گاڑیوں کے شفاف استعمال اور فروخت کے لیے یکساں طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے، جو یکم اپریل 2026 سے نافذ العمل ہے۔ اس پالیسی کے تحت صرف سرکاری اور نیم سرکاری ادارے، نیز سرکاری ملکیت کے تعلیمی، طبی اور سائنسی ادارے ان گاڑیوں کی خریداری کے اہل ہوں گے۔ ان گاڑیوں کی کسی بھی فرد کو ذاتی حیثیت میں فروخت کی سختی سے ممانعت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے مطابق کسٹمز ونگ کے تحت کام کرنے والی فارمیشنز کو سرکاری استعمال کے لیے ان گاڑیوں کی الاٹمنٹ میں ترجیح دی جائے گی۔ تمام متعلقہ فارمیشنز کو اپنی ضرورت کے مطابق گاڑیوں کی تعداد اور جواز پر مبنی تجاویز جمع کرانا ہوں گی، جن کا جائزہ ممبر کسٹمز آپریشنز کی سربراہی میں قائم کمیٹی لے گی اور حتمی منظوری دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، ہر فارمیشن کو اپنی ضروریات کا سہ ماہی جائزہ لینا ہوگا اور کسی بھی تبدیلی کی صورت میں نئی منظوری کے لیے درخواست دینا ہوگی۔ اگر الاٹ شدہ گاڑیاں ناقابلِ استعمال ہو جائیں تو مناسب متبادل فراہم کیا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر نے ضبط شدہ ٹمپرڈ گاڑیوں کے ریکارڈ اور رپورٹنگ کے لیے ایک جامع ڈیجیٹل نظام بنانے کا بھی اعلان کیا ہے، جس میں ہر گاڑی کی تفصیلات، فرانزک رپورٹ، تصاویر، حالت اور قانونی حیثیت شامل کی جائے گی۔ یہ معلومات کابینہ ڈویژن کو بھی فراہم کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پانچ سال کے اندر فروخت نہ ہونے والی گاڑیوں کو حکومتی پالیسی کے مطابق تلف کر دیا جائے گا، جبکہ ناقابل فروخت بسیں اور وینز سرکاری تعلیمی و طبی اداروں کو مفت فراہم کی جا سکیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اپریل 2026 سے اپنی اینٹی اسمگلنگ اور انفورسمنٹ فارمیشنز کو سرحدی علاقوں میں آپریشنل سرگرمیوں کے لیے 1800 سی سی سے زائد ٹمپرڈ گاڑیوں کے استعمال کی اجازت دے دی ہے۔ یہ اہم فیصلہ ہفتہ کے روز جاری کیے گئے کسٹمز جنرل آرڈر (سی جی او) 4 آف 2026 کے ذریعے نافذ کیا گیا۔</strong></p>
<p>ایف بی آر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق 1800 سی سی سے زائد گاڑیوں کے استعمال کی اجازت بلوچستان میں چیف کلکٹر کسٹمز کے تحت مشکل علاقوں کی اپریزمینٹ فارمیشنز کو بھی دی جا سکتی ہے، جن میں گوادر، گبد (بارڈر پوائنٹ 250)، مند، پنجگور، تفتان، کٹاگر، دالبندین اور چمن شامل ہیں۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں انگور اڈہ، غلام خان، خرلاچی، طورخم، گلگت اور سوست سمیت ٹرانزٹ ٹریڈ اور دیگر سرحدی علاقوں میں بھی یہ سہولت فراہم کی جا سکے گی۔</p>
<p>ایف بی آر نے واضح کیا کہ کٹ اینڈ ویلڈ یا ٹیمپرڈ چیسس نمبر والی ضبط شدہ گاڑیوں کے شفاف استعمال اور فروخت کے لیے یکساں طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے، جو یکم اپریل 2026 سے نافذ العمل ہے۔ اس پالیسی کے تحت صرف سرکاری اور نیم سرکاری ادارے، نیز سرکاری ملکیت کے تعلیمی، طبی اور سائنسی ادارے ان گاڑیوں کی خریداری کے اہل ہوں گے۔ ان گاڑیوں کی کسی بھی فرد کو ذاتی حیثیت میں فروخت کی سختی سے ممانعت ہوگی۔</p>
<p>ایف بی آر کے مطابق کسٹمز ونگ کے تحت کام کرنے والی فارمیشنز کو سرکاری استعمال کے لیے ان گاڑیوں کی الاٹمنٹ میں ترجیح دی جائے گی۔ تمام متعلقہ فارمیشنز کو اپنی ضرورت کے مطابق گاڑیوں کی تعداد اور جواز پر مبنی تجاویز جمع کرانا ہوں گی، جن کا جائزہ ممبر کسٹمز آپریشنز کی سربراہی میں قائم کمیٹی لے گی اور حتمی منظوری دے گی۔</p>
<p>مزید برآں، ہر فارمیشن کو اپنی ضروریات کا سہ ماہی جائزہ لینا ہوگا اور کسی بھی تبدیلی کی صورت میں نئی منظوری کے لیے درخواست دینا ہوگی۔ اگر الاٹ شدہ گاڑیاں ناقابلِ استعمال ہو جائیں تو مناسب متبادل فراہم کیا جا سکے گا۔</p>
<p>ایف بی آر نے ضبط شدہ ٹمپرڈ گاڑیوں کے ریکارڈ اور رپورٹنگ کے لیے ایک جامع ڈیجیٹل نظام بنانے کا بھی اعلان کیا ہے، جس میں ہر گاڑی کی تفصیلات، فرانزک رپورٹ، تصاویر، حالت اور قانونی حیثیت شامل کی جائے گی۔ یہ معلومات کابینہ ڈویژن کو بھی فراہم کی جائیں گی۔</p>
<p>پانچ سال کے اندر فروخت نہ ہونے والی گاڑیوں کو حکومتی پالیسی کے مطابق تلف کر دیا جائے گا، جبکہ ناقابل فروخت بسیں اور وینز سرکاری تعلیمی و طبی اداروں کو مفت فراہم کی جا سکیں گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284935</guid>
      <pubDate>Sun, 12 Apr 2026 10:20:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/12101805de24472.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/12101805de24472.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
