<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 08:36:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 08:36:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مضبوط روپے کی وجہ سے برآمدات غیر مسابقتی ہورہی ہے،پاکستان بزنس کونسل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284934/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان بزنس کونسل(پی بی سی) نے کہا ہے کہ قدرے زیادہ مضبوط کرنسی نے ملکی برآمدات کو غیر مسابقتی بنا دیا ہے، جو برآمدی ترقی میں ایک اہم ساختی رکاوٹ کے طور پر سامنے آئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کے دوران پی بی سی کے وفد نے نشاندہی کی کہ اسمگلنگ، ڈمپنگ اور کم قیمت ظاہر کرنے جیسے غیر قانونی تجارتی طریقے قانونی مقامی صنعتکاروں کی مسابقت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ کونسل نے زور دیا کہ صنعتی پالیسی میں مراعات کو عالمی سطح پر مسابقتی، زیادہ روزگار فراہم کرنے والے اور برآمدات پر مبنی شعبوں کی طرف منتقل کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلیٰ کاروباری تنظیم نے حکومت پر زور دیا کہ برآمدی صنعتکاروں کو، خصوصاً ویلیو ایڈڈ شعبوں میں، عالمی اصولوں کے مطابق خام مال پر ڈیوٹی فری اور ٹیکس فری رسائی دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محدود مارکیٹ رسائی کا حوالہ دیتے ہوئے پی بی سی نے کہا کہ اہم برآمدی منڈیوں میں ٹیرف رکاوٹیں اور ترجیحی تجارتی معاہدوں کی کمی ترقی میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ کونسل کے مطابق پاکستان کا ایکسپورٹ ٹو جی ڈی پی تناسب ویتنام کے مقابلے میں نویں حصے سے بھی کم اور بھارت کے مقابلے میں نصف سے بھی کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی برآمدی مسابقت مسلسل کمزور ہو رہی ہے جبکہ خطے کے دیگر ممالک تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر بنگلہ دیش نے پالیسی میں استحکام برقرار رکھا اور برآمد کنندگان کو ہدفی مالی سہولت فراہم کی، ویتنام نے عالمی مینوفیکچرنگ کو راغب کرنے کے لیے جارحانہ برآمدی مراعات متعارف کروائیں، بھارت نے ترجیحی ایکسپورٹ فنانسنگ کے ذریعے فائدہ حاصل کیا جبکہ ترکیہ صنعتی پالیسی کی مدد سے ویلیو ایڈیشن پر توجہ دے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ تجارت کے لیے سستی فنانسنگ تک رسائی کو ان ممالک کے برابر کیا جائے جو پاکستان کے مقابل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی بی سی نے برآمدات میں تیزی لانے کے لیے دو اہم اقدامات تجویز کیے۔ پہلا، برآمدات پر 1 فیصد فائنل ٹیکس نظام کی بحالی ہے، جسے ایک سادہ اور مؤثر طریقہ قرار دیا گیا جو برآمدی آمدنی پر ٹیکس کے پیچیدہ نظام کو ختم کرتا ہے، ریفنڈز پر انحصار ختم کر کے فوری لیکویڈیٹی بہتر بناتا ہے اور ٹیکس حکام کے ساتھ صوابدیدی رابطے کم کر کے بدعنوانی کے خطرات کو گھٹاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کونسل کے مطابق یہ ایک قدم کیش فلو کو زیادہ قابلِ پیش گوئی بنا کر برآمدات میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے، جس سے برآمد کنندگان قیمت اور بھروسے کی بنیاد پر بہتر مقابلہ کر سکیں گے جبکہ برآمدی آمدنی میں اضافہ بیرونی کھاتوں کے استحکام میں مدد دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا اقدام ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم کی مکمل بحالی ہے، جو برآمدی پیداوار کے لیے خام مال پر ڈیوٹی فری اور ٹیکس فری رسائی فراہم کرتی ہے۔ کونسل کے مطابق اس اسکیم میں کمی کے باعث ان پٹ لاگت بڑھ گئی ہے جس سے عالمی منڈیوں میں پاکستانی برآمد کنندگان کی مسابقت متاثر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی بی سی کے مطابق اس اسکیم کی مکمل بحالی سے ویلیو ایڈڈ برآمدات کی لاگت میں کمی آئے گی، روزگار میں اضافہ ہوگا اور زرمبادلہ کے مزید ذخائر حاصل ہوں گے۔ اس سے پائیدار مقامی صنعتوں کو فروغ دے کر صنعتی بنیاد بھی مضبوط ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کونسل نے مزید کہا کہ پاکستان میں توانائی کی قیمتیں خطے میں سب سے زیادہ ہیں اور غیر یقینی طور پر تبدیل ہوتی رہتی ہیں، جس سے پیداواری لاگت کی منصوبہ بندی مشکل ہو جاتی ہے۔ گیس اور بجلی کی بار بار بندش کے باعث صنعتوں کو مہنگے متبادل ذرائع استعمال کرنا پڑتے ہیں یا پیداوار روکنا پڑتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ ٹیرف میں شامل کراس سبسڈیز، لیویز اور سرچارجز براہ راست برآمدی مسابقت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ایک مستحکم اور قابلِ اعتماد توانائی روڈ میپ کی عدم موجودگی توانائی پر مبنی صنعتوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان مسائل کے حل کے لیے پی بی سی نے توانائی کے شعبے میں کئی اصلاحات تجویز کیں جن میں شفاف اور لاگت کے مطابق ٹیرف نظام کا قیام، ایڈجسٹمنٹس سے قبل مناسب پیشگی اطلاع، صنعتوں کو بلا تعطل توانائی کی فراہمی، طویل مدتی لاگت کم کرنے کے لیے قابلِ تجدید توانائی کے استعمال میں تیزی، اور توانائی کے پورے نظام میں کارکردگی بڑھانے اور لاگت کم کرنے کے لیے مسابقت کا فروغ شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان بزنس کونسل(پی بی سی) نے کہا ہے کہ قدرے زیادہ مضبوط کرنسی نے ملکی برآمدات کو غیر مسابقتی بنا دیا ہے، جو برآمدی ترقی میں ایک اہم ساختی رکاوٹ کے طور پر سامنے آئی ہے۔</strong></p>
<p>حال ہی میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کے دوران پی بی سی کے وفد نے نشاندہی کی کہ اسمگلنگ، ڈمپنگ اور کم قیمت ظاہر کرنے جیسے غیر قانونی تجارتی طریقے قانونی مقامی صنعتکاروں کی مسابقت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ کونسل نے زور دیا کہ صنعتی پالیسی میں مراعات کو عالمی سطح پر مسابقتی، زیادہ روزگار فراہم کرنے والے اور برآمدات پر مبنی شعبوں کی طرف منتقل کیا جائے۔</p>
<p>اعلیٰ کاروباری تنظیم نے حکومت پر زور دیا کہ برآمدی صنعتکاروں کو، خصوصاً ویلیو ایڈڈ شعبوں میں، عالمی اصولوں کے مطابق خام مال پر ڈیوٹی فری اور ٹیکس فری رسائی دی جائے۔</p>
<p>محدود مارکیٹ رسائی کا حوالہ دیتے ہوئے پی بی سی نے کہا کہ اہم برآمدی منڈیوں میں ٹیرف رکاوٹیں اور ترجیحی تجارتی معاہدوں کی کمی ترقی میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ کونسل کے مطابق پاکستان کا ایکسپورٹ ٹو جی ڈی پی تناسب ویتنام کے مقابلے میں نویں حصے سے بھی کم اور بھارت کے مقابلے میں نصف سے بھی کم ہے۔</p>
<p>پاکستان کی برآمدی مسابقت مسلسل کمزور ہو رہی ہے جبکہ خطے کے دیگر ممالک تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر بنگلہ دیش نے پالیسی میں استحکام برقرار رکھا اور برآمد کنندگان کو ہدفی مالی سہولت فراہم کی، ویتنام نے عالمی مینوفیکچرنگ کو راغب کرنے کے لیے جارحانہ برآمدی مراعات متعارف کروائیں، بھارت نے ترجیحی ایکسپورٹ فنانسنگ کے ذریعے فائدہ حاصل کیا جبکہ ترکیہ صنعتی پالیسی کی مدد سے ویلیو ایڈیشن پر توجہ دے رہا ہے۔</p>
<p>وزیر خزانہ سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ تجارت کے لیے سستی فنانسنگ تک رسائی کو ان ممالک کے برابر کیا جائے جو پاکستان کے مقابل ہیں۔</p>
<p>پی بی سی نے برآمدات میں تیزی لانے کے لیے دو اہم اقدامات تجویز کیے۔ پہلا، برآمدات پر 1 فیصد فائنل ٹیکس نظام کی بحالی ہے، جسے ایک سادہ اور مؤثر طریقہ قرار دیا گیا جو برآمدی آمدنی پر ٹیکس کے پیچیدہ نظام کو ختم کرتا ہے، ریفنڈز پر انحصار ختم کر کے فوری لیکویڈیٹی بہتر بناتا ہے اور ٹیکس حکام کے ساتھ صوابدیدی رابطے کم کر کے بدعنوانی کے خطرات کو گھٹاتا ہے۔</p>
<p>کونسل کے مطابق یہ ایک قدم کیش فلو کو زیادہ قابلِ پیش گوئی بنا کر برآمدات میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے، جس سے برآمد کنندگان قیمت اور بھروسے کی بنیاد پر بہتر مقابلہ کر سکیں گے جبکہ برآمدی آمدنی میں اضافہ بیرونی کھاتوں کے استحکام میں مدد دے گا۔</p>
<p>دوسرا اقدام ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم کی مکمل بحالی ہے، جو برآمدی پیداوار کے لیے خام مال پر ڈیوٹی فری اور ٹیکس فری رسائی فراہم کرتی ہے۔ کونسل کے مطابق اس اسکیم میں کمی کے باعث ان پٹ لاگت بڑھ گئی ہے جس سے عالمی منڈیوں میں پاکستانی برآمد کنندگان کی مسابقت متاثر ہوئی ہے۔</p>
<p>پی بی سی کے مطابق اس اسکیم کی مکمل بحالی سے ویلیو ایڈڈ برآمدات کی لاگت میں کمی آئے گی، روزگار میں اضافہ ہوگا اور زرمبادلہ کے مزید ذخائر حاصل ہوں گے۔ اس سے پائیدار مقامی صنعتوں کو فروغ دے کر صنعتی بنیاد بھی مضبوط ہوگی۔</p>
<p>کونسل نے مزید کہا کہ پاکستان میں توانائی کی قیمتیں خطے میں سب سے زیادہ ہیں اور غیر یقینی طور پر تبدیل ہوتی رہتی ہیں، جس سے پیداواری لاگت کی منصوبہ بندی مشکل ہو جاتی ہے۔ گیس اور بجلی کی بار بار بندش کے باعث صنعتوں کو مہنگے متبادل ذرائع استعمال کرنا پڑتے ہیں یا پیداوار روکنا پڑتی ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ ٹیرف میں شامل کراس سبسڈیز، لیویز اور سرچارجز براہ راست برآمدی مسابقت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ایک مستحکم اور قابلِ اعتماد توانائی روڈ میپ کی عدم موجودگی توانائی پر مبنی صنعتوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔</p>
<p>ان مسائل کے حل کے لیے پی بی سی نے توانائی کے شعبے میں کئی اصلاحات تجویز کیں جن میں شفاف اور لاگت کے مطابق ٹیرف نظام کا قیام، ایڈجسٹمنٹس سے قبل مناسب پیشگی اطلاع، صنعتوں کو بلا تعطل توانائی کی فراہمی، طویل مدتی لاگت کم کرنے کے لیے قابلِ تجدید توانائی کے استعمال میں تیزی، اور توانائی کے پورے نظام میں کارکردگی بڑھانے اور لاگت کم کرنے کے لیے مسابقت کا فروغ شامل ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284934</guid>
      <pubDate>Sun, 12 Apr 2026 10:10:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/121007217daefeb.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/121007217daefeb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
