<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گیس قیمتیں برقرار، سوئی ناردرن اور سوئی سدرن اوگرا کے ساتھ ملکر منافع کے حساب کیلئے متحرک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284933/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ(ایس این جی پی ایل) اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ(ایس ایس جی سی ایل) آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی(اوگرا) اور پاور ٹاسک فورس کے ساتھ مل کر اس اضافی منافع کا حساب لگائیں گی جو گیس کی قیمتیں برقرار رکھنے اور مہنگی درآمدی آر ایل این جی کی جگہ سستی مقامی گیس استعمال کرنے سے حاصل ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حساب کتاب نئی قائم شدہ نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل کے سامنے پیش کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کونسل، جسے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کے سیکریٹریٹ کی حمایت حاصل ہے، آبنائے ہرمز کے ذریعے قطر سے آنے والی ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس کی سپلائی معطل ہونے کے باعث پیدا ہونے والی شدید گیس قلت کے اثرات کو کم کرنے کی ذمہ دار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارچ 2026 میں قطر میں 77 ملین ٹن سالانہ صلاحیت کے ایک پلانٹ کی پیداوار رکنے کے بعد ایل این جی کارگو پر فورس میجر نافذ کر دیا گیا۔ مارچ 2026 کی متعدد شیڈول کھیپیں (7، 11، 12، 16، 20، 21 مارچ) پاکستان نہیں پہنچ سکیں، جس سے ملک کے پاور اور صنعتی شعبوں کے لیے گیس سپلائی پر خدشات بڑھ گئے۔ فورس میجر سے پہلے بھی پاکستان کم مقامی طلب اور زیادہ درآمدی لاگت کے باعث 2026 کے لیے طے شدہ 20 سے 29 ایل این جی کارگو کو موخر یا دوسری سمت منتقل کرنے پر بات چیت کر چکا تھا، جس پر 2025 کے آخر تک مذاکرات جاری تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کم ہوتی سپلائی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے ملک بھر میں تمام نئی آر ایل این جی کنکشنز پر باضابطہ پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک سپلائی لائنز بحال نہیں ہوتیں اور نظام معمول کے مطابق نہیں آ جاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل مقامی تلاش و پیداوار کے شعبے پر بھی سخت نگرانی رکھے گی۔ اہم ہدایات میں ماری، او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل، ایم او ایل اور یو ای پی سمیت بڑی کمپنیوں کی جانب سے وعدہ کردہ نئی گیس کی پیداوار کی سخت مانیٹرنگ شامل ہے۔ ریگولیٹری عمل کو بہتر بنانے کے لیے ڈائریکٹوریٹ آف پیٹرولیم کنسیشنز اور گیس سے متعلق ٹائم لائنز کو منطقی بنانے پر ماہانہ پیش رفت رپورٹ 8 مئی 2026 تک جمع کروائی جائے گی۔ ایڈیشنل سیکریٹری پالیسی (پیٹرولیم ڈویژن) کو ہدایت دی گئی ہے کہ ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنیوں کی جانب سے پیش کردہ گیس کو فوری طور پر سوئی ناردرن اور سوئی سدرن کے حوالے کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کونسل نے سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز کو مقامی طلب کی منصوبہ بندی ازسرِنو ترتیب دینے کی ہدایت بھی دی ہے۔ اب کمپنی کو تین اہم عوامل کی بنیاد پر گیس کے استعمال کو متوازن کرنا ہوگا، جن میں گھنٹہ وار لوڈ شیڈنگ کے اثرات، یو ایف جی یعنی گیس چوری میں نمایاں کمی، اور موسمی بنیادوں پر کھپت میں قدرتی کمی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ(ایس این جی پی ایل) اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ(ایس ایس جی سی ایل) آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی(اوگرا) اور پاور ٹاسک فورس کے ساتھ مل کر اس اضافی منافع کا حساب لگائیں گی جو گیس کی قیمتیں برقرار رکھنے اور مہنگی درآمدی آر ایل این جی کی جگہ سستی مقامی گیس استعمال کرنے سے حاصل ہوا۔</strong></p>
<p>یہ حساب کتاب نئی قائم شدہ نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل کے سامنے پیش کیا جائے گا۔</p>
<p>یہ کونسل، جسے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کے سیکریٹریٹ کی حمایت حاصل ہے، آبنائے ہرمز کے ذریعے قطر سے آنے والی ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس کی سپلائی معطل ہونے کے باعث پیدا ہونے والی شدید گیس قلت کے اثرات کو کم کرنے کی ذمہ دار ہے۔</p>
<p>مارچ 2026 میں قطر میں 77 ملین ٹن سالانہ صلاحیت کے ایک پلانٹ کی پیداوار رکنے کے بعد ایل این جی کارگو پر فورس میجر نافذ کر دیا گیا۔ مارچ 2026 کی متعدد شیڈول کھیپیں (7، 11، 12، 16، 20، 21 مارچ) پاکستان نہیں پہنچ سکیں، جس سے ملک کے پاور اور صنعتی شعبوں کے لیے گیس سپلائی پر خدشات بڑھ گئے۔ فورس میجر سے پہلے بھی پاکستان کم مقامی طلب اور زیادہ درآمدی لاگت کے باعث 2026 کے لیے طے شدہ 20 سے 29 ایل این جی کارگو کو موخر یا دوسری سمت منتقل کرنے پر بات چیت کر چکا تھا، جس پر 2025 کے آخر تک مذاکرات جاری تھے۔</p>
<p>کم ہوتی سپلائی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے ملک بھر میں تمام نئی آر ایل این جی کنکشنز پر باضابطہ پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک سپلائی لائنز بحال نہیں ہوتیں اور نظام معمول کے مطابق نہیں آ جاتا۔</p>
<p>نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل مقامی تلاش و پیداوار کے شعبے پر بھی سخت نگرانی رکھے گی۔ اہم ہدایات میں ماری، او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل، ایم او ایل اور یو ای پی سمیت بڑی کمپنیوں کی جانب سے وعدہ کردہ نئی گیس کی پیداوار کی سخت مانیٹرنگ شامل ہے۔ ریگولیٹری عمل کو بہتر بنانے کے لیے ڈائریکٹوریٹ آف پیٹرولیم کنسیشنز اور گیس سے متعلق ٹائم لائنز کو منطقی بنانے پر ماہانہ پیش رفت رپورٹ 8 مئی 2026 تک جمع کروائی جائے گی۔ ایڈیشنل سیکریٹری پالیسی (پیٹرولیم ڈویژن) کو ہدایت دی گئی ہے کہ ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنیوں کی جانب سے پیش کردہ گیس کو فوری طور پر سوئی ناردرن اور سوئی سدرن کے حوالے کیا جائے۔</p>
<p>کونسل نے سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز کو مقامی طلب کی منصوبہ بندی ازسرِنو ترتیب دینے کی ہدایت بھی دی ہے۔ اب کمپنی کو تین اہم عوامل کی بنیاد پر گیس کے استعمال کو متوازن کرنا ہوگا، جن میں گھنٹہ وار لوڈ شیڈنگ کے اثرات، یو ایف جی یعنی گیس چوری میں نمایاں کمی، اور موسمی بنیادوں پر کھپت میں قدرتی کمی شامل ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284933</guid>
      <pubDate>Sun, 12 Apr 2026 09:48:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وسیم اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/12094418fda0a4f.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/12094418fda0a4f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
