<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ نہ ہو سکا، امریکی مذاکراتی ٹیم واپس روانہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284932/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ان کی مذاکراتی ٹیم 21 گھنٹوں تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ کیے بغیر پاکستان سے واپس جا رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے ڈی وینس نے مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے امریکی شرائط، جن میں جوہری ہتھیار نہ بنانے کی شرط شامل تھی، قبول کرنے سے انکار کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بری خبر یہ ہے کہ ہم کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے، اور میرے خیال میں یہ خبر ایران کے لیے امریکہ سے زیادہ بری ہے۔ ہم امریکہ واپس جا رہے ہیں بغیر کسی معاہدے کے۔ ہم نے اپنی سرخ لکیریں واضح کر دی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/RapidResponse47/status/2043141775263461717?'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/RapidResponse47/status/2043141775263461717?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جے ڈی وینس نے بتایا کہ انہوں نے مذاکرات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کئی بار بات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات ایک دہائی سے زائد عرصے کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان پہلی براہِ راست ملاقات تھے، اور 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد اعلیٰ سطح کے اہم ترین مذاکرات بھی قرار دیے جا رہے ہیں۔ ان مذاکرات کا نتیجہ دو ہفتوں کی نازک جنگ بندی کے مستقبل اور آبنائے ہرمز کی بحالی پر اثرانداز ہو سکتا ہے، جو عالمی توانائی کی تقریباً 20 فیصد ترسیل کا اہم راستہ ہے اور جسے ایران نے جنگ کے آغاز سے بند کر رکھا ہے۔ اس تنازع نے عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے اور ہزاروں افراد کی جانیں لے لی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ مذاکرات اختتام پذیر ہو گئے ہیں اور دونوں ممالک کے تکنیکی ماہرین دستاویزات کا تبادلہ کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ کچھ اختلافات کے باوجود مذاکرات جاری رہیں گے، تاہم دوبارہ آغاز کی کوئی تاریخ نہیں بتائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے دو گھنٹے تک ملاقات کی، جس کے بعد وقفہ لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وفد جمعہ کو سیاہ لباس میں اسلام آباد پہنچا، جو جنگ میں جاں بحق ہونے والے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر افراد کے سوگ کی علامت تھا۔ ایرانی حکومت کے مطابق، وفد اپنے ساتھ ان طلبہ کے جوتے اور بیگ بھی لایا جو ایک فوجی کمپاؤنڈ کے قریب اسکول پر امریکی بمباری میں شہید ہوئے تھے۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے کہا ہے کہ اس حملے کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ رپورٹس کے مطابق فوجی تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ اس حملے کی ذمہ داری ممکنہ طور پر امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک پاکستانی ذریعے کے مطابق، مذاکرات کے پہلے مرحلے کے دوران دونوں فریقین کے درمیان ماحول میں اتار چڑھاؤ رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذاکرات کے دوران اسلام آباد، جس کی آبادی 20 لاکھ سے زائد ہے، کو مکمل طور پر سیکیورٹی لاک ڈاؤن میں رکھا گیا، جہاں ہزاروں نیم فوجی اہلکار اور فوجی تعینات کیے گئے۔ پاکستان کا ثالثی کردار ایک بڑی سفارتی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہی امریکی فوج نے کہا کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے حالات سازگار بنا رہی ہے۔ امریکی فوج کے مطابق اس کے دو جنگی جہاز اس گزرگاہ سے گزر چکے ہیں اور بارودی سرنگیں صاف کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے، جبکہ ایران کے سرکاری میڈیا نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذاکرات سے قبل ایک ایرانی ذریعے نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ نے قطر اور دیگر غیر ملکی بینکوں میں منجمد اثاثے جاری کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم ایک امریکی اہلکار نے اس کی تردید کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی جانب سے مطالبات میں بیرونِ ملک اثاثوں کو جاری کرنے کے علاوہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول، جنگی ہرجانے کی ادائیگی، اور خطے میں، خصوصاً لبنان میں، جنگ بندی شامل ہیں۔ ایران یہ بھی چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، ٹرمپ کی بنیادی شرائط میں آبنائے ہرمز میں عالمی جہاز رانی کی آزادانہ آمد و رفت اور ایران کے جوہری پروگرام کو اس حد تک محدود کرنا شامل ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہ بنا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ کے اتحادی اسرائیل، جس نے 28 فروری کے حملوں میں حصہ لیا تھا، لبنان میں ایران نواز حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ تنازع ایران-امریکہ جنگ بندی کا حصہ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی بدستور برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ان کی مذاکراتی ٹیم 21 گھنٹوں تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ کیے بغیر پاکستان سے واپس جا رہی ہے۔</strong></p>
<p>جے ڈی وینس نے مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے امریکی شرائط، جن میں جوہری ہتھیار نہ بنانے کی شرط شامل تھی، قبول کرنے سے انکار کر دیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بری خبر یہ ہے کہ ہم کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے، اور میرے خیال میں یہ خبر ایران کے لیے امریکہ سے زیادہ بری ہے۔ ہم امریکہ واپس جا رہے ہیں بغیر کسی معاہدے کے۔ ہم نے اپنی سرخ لکیریں واضح کر دی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/RapidResponse47/status/2043141775263461717?'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/RapidResponse47/status/2043141775263461717?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>جے ڈی وینس نے بتایا کہ انہوں نے مذاکرات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کئی بار بات کی۔</p>
<p>اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات ایک دہائی سے زائد عرصے کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان پہلی براہِ راست ملاقات تھے، اور 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد اعلیٰ سطح کے اہم ترین مذاکرات بھی قرار دیے جا رہے ہیں۔ ان مذاکرات کا نتیجہ دو ہفتوں کی نازک جنگ بندی کے مستقبل اور آبنائے ہرمز کی بحالی پر اثرانداز ہو سکتا ہے، جو عالمی توانائی کی تقریباً 20 فیصد ترسیل کا اہم راستہ ہے اور جسے ایران نے جنگ کے آغاز سے بند کر رکھا ہے۔ اس تنازع نے عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے اور ہزاروں افراد کی جانیں لے لی ہیں۔</p>
<p>ایران کی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ مذاکرات اختتام پذیر ہو گئے ہیں اور دونوں ممالک کے تکنیکی ماہرین دستاویزات کا تبادلہ کریں گے۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ کچھ اختلافات کے باوجود مذاکرات جاری رہیں گے، تاہم دوبارہ آغاز کی کوئی تاریخ نہیں بتائی گئی۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے دو گھنٹے تک ملاقات کی، جس کے بعد وقفہ لیا گیا۔</p>
<p>ایرانی وفد جمعہ کو سیاہ لباس میں اسلام آباد پہنچا، جو جنگ میں جاں بحق ہونے والے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر افراد کے سوگ کی علامت تھا۔ ایرانی حکومت کے مطابق، وفد اپنے ساتھ ان طلبہ کے جوتے اور بیگ بھی لایا جو ایک فوجی کمپاؤنڈ کے قریب اسکول پر امریکی بمباری میں شہید ہوئے تھے۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے کہا ہے کہ اس حملے کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ رپورٹس کے مطابق فوجی تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ اس حملے کی ذمہ داری ممکنہ طور پر امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔</p>
<p>ایک پاکستانی ذریعے کے مطابق، مذاکرات کے پہلے مرحلے کے دوران دونوں فریقین کے درمیان ماحول میں اتار چڑھاؤ رہا۔</p>
<p>مذاکرات کے دوران اسلام آباد، جس کی آبادی 20 لاکھ سے زائد ہے، کو مکمل طور پر سیکیورٹی لاک ڈاؤن میں رکھا گیا، جہاں ہزاروں نیم فوجی اہلکار اور فوجی تعینات کیے گئے۔ پاکستان کا ثالثی کردار ایک بڑی سفارتی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p>مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہی امریکی فوج نے کہا کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے حالات سازگار بنا رہی ہے۔ امریکی فوج کے مطابق اس کے دو جنگی جہاز اس گزرگاہ سے گزر چکے ہیں اور بارودی سرنگیں صاف کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے، جبکہ ایران کے سرکاری میڈیا نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔</p>
<p>مذاکرات سے قبل ایک ایرانی ذریعے نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ نے قطر اور دیگر غیر ملکی بینکوں میں منجمد اثاثے جاری کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم ایک امریکی اہلکار نے اس کی تردید کی۔</p>
<p>ایران کی جانب سے مطالبات میں بیرونِ ملک اثاثوں کو جاری کرنے کے علاوہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول، جنگی ہرجانے کی ادائیگی، اور خطے میں، خصوصاً لبنان میں، جنگ بندی شامل ہیں۔ ایران یہ بھی چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کی جائے۔</p>
<p>دوسری جانب، ٹرمپ کی بنیادی شرائط میں آبنائے ہرمز میں عالمی جہاز رانی کی آزادانہ آمد و رفت اور ایران کے جوہری پروگرام کو اس حد تک محدود کرنا شامل ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہ بنا سکے۔</p>
<p>امریکہ کے اتحادی اسرائیل، جس نے 28 فروری کے حملوں میں حصہ لیا تھا، لبنان میں ایران نواز حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ تنازع ایران-امریکہ جنگ بندی کا حصہ نہیں ہے۔</p>
<p>دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی بدستور برقرار ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284932</guid>
      <pubDate>Sun, 12 Apr 2026 09:32:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/1209284246d88e0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/1209284246d88e0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
