<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد مذاکرات: امریکہ اور ایران کے درمیان زیرِ بحث اہم نکات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284923/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ہفتہ کو اعلیٰ امریکی اور ایرانی حکام پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جمع ہوئے ہیں۔ اس جنگ کے نتیجے میں اب تک ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں، توانائی کی سپلائی درہم برہم ہوئی ہے اور عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مندرجہ ذیل وہ اہم نکات ہیں جن پر دونوں فریقین کے درمیان بات چیت متوقع ہے تاہم تہران اس بات پر بضد ہے کہ باقاعدہ مذاکرات کا آغاز اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب واشنگٹن لبنان میں جنگ بندی اور ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے کی یقین دہانی کرائے۔&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;ایران لبنان میں جنگ بندی چاہتا ہے، جہاں مارچ میں لڑائی کے آغاز سے اب تک حزب اللہ پر اسرائیلی حملوں میں تقریباً دو ہزار افراد مارے جاچکے ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ کا موقف ہے کہ لبنان کی مہم ایران امریکہ جنگ بندی کا حصہ نہیں جبکہ تہران بضد ہے کہ یہ اس کا لازمی حصہ ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;ایران چاہتا ہے کہ امریکہ اس کے اثاثوں کو بحال کرے اور ان پابندیوں کا خاتمہ کرے جنہوں نے برسوں سے اس کی معیشت کو مفلوج کر رکھا ہے۔ واشنگٹن نے اشارہ دیا ہے کہ وہ پابندیوں میں نمایاں نرمی کے لیے تیار ہے لیکن صرف اس شرط پر کہ ایران اپنے جوہری اور میزائل پروگراموں کے حوالے سے رعایتیں دینے پر آمادہ ہو۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;ایران آبنائے ہرمز پر اپنی اتھارٹی کی تسلیم کا خواہاں ہے جہاں اس کا مقصد ٹرانزٹ فیس جمع کرنا اور رسائی کو کنٹرول کرنا ہے جو کہ علاقائی طاقت کے توازن میں  بڑی تبدیلی کے مترادف ہوگا۔ دوسری جانب امریکہ چاہتا ہے کہ اسے ٹول ٹیکس سمیت کسی بھی قسم کی پابندیوں کے بغیر تیل بردار بحری جہازوں اور دیگر ٹریفک کے لیے کھلا رکھا جائے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;ایران یورینیم کی افزودگی کی اجازت چاہتا ہے جسے واشنگٹن پہلے ہی مسترد کرچکا ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ یہ معاملہ ناقابلِ گفت و شنید ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;اسرائیل اور امریکہ دونوں ہی ایران کی میزائل صلاحیتوں میں بڑی حد تک کمی لانے کے خواہاں ہیں۔ تاہم تہران نے واضح کردیا ہے کہ اس کا زبردست میزائل ذخیرہ کسی صورت ناقابلِ گفت و شنید ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;ایران خطے سے امریکی جنگی افواج کا انخلا، تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ اور عدم جارحیت کا عہد چاہتا ہے۔ ٹرمپ نے عزم ظاہر کیا ہے کہ امن معاہدہ طے پانے تک وہ مشرقِ وسطیٰ میں فوجی اثاثے برقرار رکھیں گے اور خبردار کیا کہ اگر ان کی شرائط پر عمل نہ کیا گیا تو لڑائی میں بڑی شدت لائی جائے گی۔&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ہفتہ کو اعلیٰ امریکی اور ایرانی حکام پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جمع ہوئے ہیں۔ اس جنگ کے نتیجے میں اب تک ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں، توانائی کی سپلائی درہم برہم ہوئی ہے اور عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔</strong></p>
<p>مندرجہ ذیل وہ اہم نکات ہیں جن پر دونوں فریقین کے درمیان بات چیت متوقع ہے تاہم تہران اس بات پر بضد ہے کہ باقاعدہ مذاکرات کا آغاز اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب واشنگٹن لبنان میں جنگ بندی اور ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے کی یقین دہانی کرائے۔</p>
<ul>
<li>ایران لبنان میں جنگ بندی چاہتا ہے، جہاں مارچ میں لڑائی کے آغاز سے اب تک حزب اللہ پر اسرائیلی حملوں میں تقریباً دو ہزار افراد مارے جاچکے ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ کا موقف ہے کہ لبنان کی مہم ایران امریکہ جنگ بندی کا حصہ نہیں جبکہ تہران بضد ہے کہ یہ اس کا لازمی حصہ ہے۔</li>
<li>ایران چاہتا ہے کہ امریکہ اس کے اثاثوں کو بحال کرے اور ان پابندیوں کا خاتمہ کرے جنہوں نے برسوں سے اس کی معیشت کو مفلوج کر رکھا ہے۔ واشنگٹن نے اشارہ دیا ہے کہ وہ پابندیوں میں نمایاں نرمی کے لیے تیار ہے لیکن صرف اس شرط پر کہ ایران اپنے جوہری اور میزائل پروگراموں کے حوالے سے رعایتیں دینے پر آمادہ ہو۔</li>
<li>ایران آبنائے ہرمز پر اپنی اتھارٹی کی تسلیم کا خواہاں ہے جہاں اس کا مقصد ٹرانزٹ فیس جمع کرنا اور رسائی کو کنٹرول کرنا ہے جو کہ علاقائی طاقت کے توازن میں  بڑی تبدیلی کے مترادف ہوگا۔ دوسری جانب امریکہ چاہتا ہے کہ اسے ٹول ٹیکس سمیت کسی بھی قسم کی پابندیوں کے بغیر تیل بردار بحری جہازوں اور دیگر ٹریفک کے لیے کھلا رکھا جائے۔</li>
<li>ایران یورینیم کی افزودگی کی اجازت چاہتا ہے جسے واشنگٹن پہلے ہی مسترد کرچکا ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ یہ معاملہ ناقابلِ گفت و شنید ہے۔</li>
<li>اسرائیل اور امریکہ دونوں ہی ایران کی میزائل صلاحیتوں میں بڑی حد تک کمی لانے کے خواہاں ہیں۔ تاہم تہران نے واضح کردیا ہے کہ اس کا زبردست میزائل ذخیرہ کسی صورت ناقابلِ گفت و شنید ہے۔</li>
<li>ایران خطے سے امریکی جنگی افواج کا انخلا، تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ اور عدم جارحیت کا عہد چاہتا ہے۔ ٹرمپ نے عزم ظاہر کیا ہے کہ امن معاہدہ طے پانے تک وہ مشرقِ وسطیٰ میں فوجی اثاثے برقرار رکھیں گے اور خبردار کیا کہ اگر ان کی شرائط پر عمل نہ کیا گیا تو لڑائی میں بڑی شدت لائی جائے گی۔</li>
</ul>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284923</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Apr 2026 16:14:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/111605074329f2d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/111605074329f2d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
