<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:53:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:53:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ ایرانی فنڈز بحال کرنے پر رضامند ہو گیا، ایرانی ذرائع، واشنگٹن کی تردید</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284921/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک سینئر ایرانی ذرائع نے ہفتہ کو بتایا کہ امریکہ قطر اور دیگر غیر ملکی بینکوں میں منجمد ایرانی اثاثے بحال کرنے پر رضامند ہوگیا,&lt;/strong&gt; تاہم ایک امریکی عہدیدار نے اس دعوے کی فوری طور پر تردید کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینئر ایرانی ذرائع نے اس مبینہ امریکی اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے اسلام آباد مذاکرات میں واشنگٹن کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کے حوالے سے سنجیدگی کی علامت قرار دیا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ امریکی حکام کو بھیجے گئے پیغامات میں ایران کے مطالبات میں سے ایک تھا اور تہران کو اثاثوں کی بحالی کے حوالے سے امریکی رضامندی موصول ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ اثاثوں کی بحالی کا معاملہ آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنانے سے براہِ راست منسلک ہے جس کے بارے میں توقع ہے کہ یہ مذاکرات میں کلیدی موضوع ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سینئر ذرائع نے ان اثاثوں کی مالیت نہیں بتائی جنہیں واشنگٹن نے بحال کرنے پر اتفاق کیا، تاہم ایک دوسرے ایرانی ذرائع نے بتایا کہ امریکہ نے قطر میں موجود 6 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی فنڈز جاری کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاملے پر قطر کی وزارتِ خارجہ نے  تبصرے کی درخواست کا فی الحال کوئی جواب نہیں دیا ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آٹھ سال قبل منجمد کیے گئے فنڈز&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ 6 ارب ڈالر جو اصل میں 2018 میں منجمد کیے گئے تھے 2023 میں امریکہ اور ایران کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت رہا کیے جانے تھے لیکن 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملوں کے بعد صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے ان فنڈز کو دوبارہ منجمد کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام نے اس وقت کہا تھا کہ ایران مستقبل قریب میں اس رقم تک رسائی حاصل نہیں کرسکے گا اور اس بات پر زور دیا کہ واشنگٹن اکاؤنٹ کو مکمل طور پر منجمد رکھنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فنڈز جنوبی کوریا کو کی جانے والی ایرانی تیل کی فروخت سے حاصل ہوئے تھے اور جنوبی کوریا کے بینکوں میں اس وقت بلاک کر دیے گئے تھے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے  وائٹ ہاؤس میں اپنی پہلی مدت کے دوران  2018 میں ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کی تھیں اور عالمی طاقتوں اور تہران کے درمیان ایٹمی پروگرام سے متعلق معاہدے کو ختم کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر 2023 میں دوحہ کی ثالثی میں ہونے والے امریکہ-ایران قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت، یہ رقم قطری بینک اکاؤنٹس میں منتقل کر دی گئی تھی۔ اس تبادلے میں ایران میں زیرِ حراست پانچ امریکی شہریوں کی رہائی کے بدلے ان فنڈز کی واگزاری اور امریکہ میں قید پانچ ایرانیوں کی رہائی شامل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت امریکی حکام نے کہا تھا کہ یہ رقم صرف انسانی ہمدردی کے مقاصد کے لیے مختص ہے، جسے امریکی وزارتِ خزانہ کی نگرانی میں ایران بھیجی جانے والی خوراک، ادویات، طبی آلات اور زرعی اشیاء کے لیے منظور شدہ فراہم کنندگان  کو ادا کیا جانا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایک سینئر ایرانی ذرائع نے ہفتہ کو بتایا کہ امریکہ قطر اور دیگر غیر ملکی بینکوں میں منجمد ایرانی اثاثے بحال کرنے پر رضامند ہوگیا,</strong> تاہم ایک امریکی عہدیدار نے اس دعوے کی فوری طور پر تردید کر دی۔</p>
<p>سینئر ایرانی ذرائع نے اس مبینہ امریکی اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے اسلام آباد مذاکرات میں واشنگٹن کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کے حوالے سے سنجیدگی کی علامت قرار دیا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ امریکی حکام کو بھیجے گئے پیغامات میں ایران کے مطالبات میں سے ایک تھا اور تہران کو اثاثوں کی بحالی کے حوالے سے امریکی رضامندی موصول ہو چکی ہے۔</p>
<p>ذرائع جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ اثاثوں کی بحالی کا معاملہ آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنانے سے براہِ راست منسلک ہے جس کے بارے میں توقع ہے کہ یہ مذاکرات میں کلیدی موضوع ہوگا۔</p>
<p>اس سینئر ذرائع نے ان اثاثوں کی مالیت نہیں بتائی جنہیں واشنگٹن نے بحال کرنے پر اتفاق کیا، تاہم ایک دوسرے ایرانی ذرائع نے بتایا کہ امریکہ نے قطر میں موجود 6 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی فنڈز جاری کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔</p>
<p>اس معاملے پر قطر کی وزارتِ خارجہ نے  تبصرے کی درخواست کا فی الحال کوئی جواب نہیں دیا ۔</p>
<p><strong>آٹھ سال قبل منجمد کیے گئے فنڈز</strong></p>
<p>یہ 6 ارب ڈالر جو اصل میں 2018 میں منجمد کیے گئے تھے 2023 میں امریکہ اور ایران کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت رہا کیے جانے تھے لیکن 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملوں کے بعد صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے ان فنڈز کو دوبارہ منجمد کردیا تھا۔</p>
<p>امریکی حکام نے اس وقت کہا تھا کہ ایران مستقبل قریب میں اس رقم تک رسائی حاصل نہیں کرسکے گا اور اس بات پر زور دیا کہ واشنگٹن اکاؤنٹ کو مکمل طور پر منجمد رکھنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔</p>
<p>یہ فنڈز جنوبی کوریا کو کی جانے والی ایرانی تیل کی فروخت سے حاصل ہوئے تھے اور جنوبی کوریا کے بینکوں میں اس وقت بلاک کر دیے گئے تھے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے  وائٹ ہاؤس میں اپنی پہلی مدت کے دوران  2018 میں ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کی تھیں اور عالمی طاقتوں اور تہران کے درمیان ایٹمی پروگرام سے متعلق معاہدے کو ختم کر دیا تھا۔</p>
<p>ستمبر 2023 میں دوحہ کی ثالثی میں ہونے والے امریکہ-ایران قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت، یہ رقم قطری بینک اکاؤنٹس میں منتقل کر دی گئی تھی۔ اس تبادلے میں ایران میں زیرِ حراست پانچ امریکی شہریوں کی رہائی کے بدلے ان فنڈز کی واگزاری اور امریکہ میں قید پانچ ایرانیوں کی رہائی شامل تھی۔</p>
<p>اس وقت امریکی حکام نے کہا تھا کہ یہ رقم صرف انسانی ہمدردی کے مقاصد کے لیے مختص ہے، جسے امریکی وزارتِ خزانہ کی نگرانی میں ایران بھیجی جانے والی خوراک، ادویات، طبی آلات اور زرعی اشیاء کے لیے منظور شدہ فراہم کنندگان  کو ادا کیا جانا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284921</guid>
      <pubDate>Sun, 12 Apr 2026 13:25:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/11155033d76c052.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/11155033d76c052.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
