<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:06:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:06:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات جاری، سرکاری میڈیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284920/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ریاستی ٹی وی پی ٹی وی نیوز کے مطابق ہفتے کے روز اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان ایک غیر معمولی سفارتی رابطہ قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/PTVNewsOfficial/status/2042956428827050285'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PTVNewsOfficial/status/2042956428827050285"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی وی نے ایکس (X) پر اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی امن مذاکرات اسلام آباد میں شروع ہو گئے ہیں، جہاں دونوں فریقین بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد پہلی مرتبہ آمنے سامنے بیٹھے ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پوسٹ کے مطابق اعلیٰ سطح کے وفود کی آمد، پاکستان کی مؤثر سفارت کاری اور عالمی رہنماؤں کے مثبت بیانات نے خطے میں جنگ بندی اور دیرپا امن کی امیدوں کو تقویت دی ہے، جبکہ عالمی برادری ان اہم مذاکرات کے نتائج پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِاعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز امریکی اور ایرانی وفود سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں اور امید ظاہر کی کہ ’’اسلام آباد مذاکرات‘‘ مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کی راہ ہموار کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ملاقاتیں اسلام آباد مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہی سخت سکیورٹی انتظامات میں منعقد ہوئیں، جہاں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ سطحی رہنما چھ ہفتے طویل جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت کی غرض سے اسلام آباد پہنچے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مذاکرات 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے سب سے اعلیٰ سطح کے مذاکرات قرار دیے جا رہے ہیں، جبکہ 2015 کے بعد پہلی مرتبہ دونوں فریقین باضابطہ طور پر آمنے سامنے بیٹھ کر بات چیت کر رہے ہیں، جب ایران کے جوہری پروگرام پر ایک معاہدہ طے پایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وفد کے ساتھ ملاقات میں، جس کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس نے کی، وزیرِاعظم شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ ’’اسلام آباد مذاکرات‘‘ خطے میں دیرپا امن کی جانب ایک مضبوط سنگِ میل ثابت ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی نائب صدر کے ہمراہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی وفد میں نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ محمد اسحاق ڈار اور وزیرِداخلہ محسن رضا نقوی شریک تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران وزیرِاعظم نے دونوں وفود کے تعمیری اور مثبت انداز میں مذاکرات میں حصہ لینے کے عزم کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا: ’’پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سہولت کاری کا عمل جاری رکھنے کا خواہاں ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن کی سمت پیش رفت ممکن ہو سکے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایرانی وفد، جس کی قیادت ایرانی پارلیمان (مجلسِ شوریٰ اسلامی) کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کی اور جس میں ایران کے وزیرِخارجہ عباس عراقچی بھی شریک تھے، نے بھی وزیرِاعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِاعظم نے اس موقع پر ایک بار پھر کہا: ’’پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سہولت کاری کے عمل کو جاری رکھنے کا خواہاں ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن کی سمت پیش رفت ممکن ہو سکے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایرانی وفد، جس کی قیادت ایرانی پارلیمان (مجلسِ شوریٰ اسلامی) کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کی اور جس میں ایران کے وزیرِخارجہ عباس عراقچی بھی شامل تھے، نے بھی وزیرِاعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=smiWgnk4HA8'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/smiWgnk4HA8?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد مذاکرات میں ایران کی شمولیت کو سراہتے ہوئے وزیرِاعظم نے پاکستان کے اس مخلصانہ عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ثالث کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گا تاکہ ایسے مثبت نتائج کی جانب پیش رفت کو تقویت ملے جو خطے اور عالمی امن و استحکام کے مفاد میں ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی وفد میں نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، اور وزیرِداخلہ محسن نقوی بھی شریک تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ریاستی ٹی وی پی ٹی وی نیوز کے مطابق ہفتے کے روز اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان ایک غیر معمولی سفارتی رابطہ قرار دیا جا رہا ہے۔</strong></p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/PTVNewsOfficial/status/2042956428827050285'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PTVNewsOfficial/status/2042956428827050285"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>پی ٹی وی نے ایکس (X) پر اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی امن مذاکرات اسلام آباد میں شروع ہو گئے ہیں، جہاں دونوں فریقین بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد پہلی مرتبہ آمنے سامنے بیٹھے ہیں۔‘‘</p>
<p>پوسٹ کے مطابق اعلیٰ سطح کے وفود کی آمد، پاکستان کی مؤثر سفارت کاری اور عالمی رہنماؤں کے مثبت بیانات نے خطے میں جنگ بندی اور دیرپا امن کی امیدوں کو تقویت دی ہے، جبکہ عالمی برادری ان اہم مذاکرات کے نتائج پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔</p>
<p>وزیرِاعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز امریکی اور ایرانی وفود سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں اور امید ظاہر کی کہ ’’اسلام آباد مذاکرات‘‘ مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کی راہ ہموار کریں گے۔</p>
<p>یہ ملاقاتیں اسلام آباد مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہی سخت سکیورٹی انتظامات میں منعقد ہوئیں، جہاں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ سطحی رہنما چھ ہفتے طویل جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت کی غرض سے اسلام آباد پہنچے۔</p>
<p>یہ مذاکرات 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے سب سے اعلیٰ سطح کے مذاکرات قرار دیے جا رہے ہیں، جبکہ 2015 کے بعد پہلی مرتبہ دونوں فریقین باضابطہ طور پر آمنے سامنے بیٹھ کر بات چیت کر رہے ہیں، جب ایران کے جوہری پروگرام پر ایک معاہدہ طے پایا تھا۔</p>
<p>امریکی وفد کے ساتھ ملاقات میں، جس کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس نے کی، وزیرِاعظم شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ ’’اسلام آباد مذاکرات‘‘ خطے میں دیرپا امن کی جانب ایک مضبوط سنگِ میل ثابت ہوں گے۔</p>
<p>امریکی نائب صدر کے ہمراہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر بھی موجود تھے۔</p>
<p>پاکستانی وفد میں نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ محمد اسحاق ڈار اور وزیرِداخلہ محسن رضا نقوی شریک تھے۔</p>
<p>ملاقات کے دوران وزیرِاعظم نے دونوں وفود کے تعمیری اور مثبت انداز میں مذاکرات میں حصہ لینے کے عزم کو سراہا۔</p>
<p>انہوں نے کہا: ’’پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سہولت کاری کا عمل جاری رکھنے کا خواہاں ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن کی سمت پیش رفت ممکن ہو سکے۔‘‘</p>
<p>دوسری جانب ایرانی وفد، جس کی قیادت ایرانی پارلیمان (مجلسِ شوریٰ اسلامی) کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کی اور جس میں ایران کے وزیرِخارجہ عباس عراقچی بھی شریک تھے، نے بھی وزیرِاعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔</p>
<p>وزیرِاعظم نے اس موقع پر ایک بار پھر کہا: ’’پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سہولت کاری کے عمل کو جاری رکھنے کا خواہاں ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن کی سمت پیش رفت ممکن ہو سکے۔‘‘</p>
<p>دوسری جانب ایرانی وفد، جس کی قیادت ایرانی پارلیمان (مجلسِ شوریٰ اسلامی) کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کی اور جس میں ایران کے وزیرِخارجہ عباس عراقچی بھی شامل تھے، نے بھی وزیرِاعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=smiWgnk4HA8'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/smiWgnk4HA8?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اسلام آباد مذاکرات میں ایران کی شمولیت کو سراہتے ہوئے وزیرِاعظم نے پاکستان کے اس مخلصانہ عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ثالث کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گا تاکہ ایسے مثبت نتائج کی جانب پیش رفت کو تقویت ملے جو خطے اور عالمی امن و استحکام کے مفاد میں ہوں۔</p>
<p>پاکستانی وفد میں نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، اور وزیرِداخلہ محسن نقوی بھی شریک تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284920</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Apr 2026 20:27:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/V4BpKBSm6r4/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/V4BpKBSm6r4/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=V4BpKBSm6r4"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
