<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 16:22:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 16:22:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی وزیر خزانہ کا دورہ پاکستان، اقتصادی تعاون کی یقین دہانی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284918/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;معاملے سے باخبر ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ سعودی عرب کے وزیر خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان ہفتے کو اقتصادی تعاون کے اظہار کیلئے اسلام آباد میں موجود تھے۔ یہ دورہ پاکستان کی جانب سے ریاض کے اتحادی اور اب حریف متحدہ عرب امارات کو اربوں ڈالر کے قرضے واپس کرنے کے اعلان کے چند روز بعد ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی وزیر محمد الجدعان کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب اسلام آباد مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے پاک-ایران مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے تاہم وہ ان مذاکرات میں شریک نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا یہ دورہ خطے کی دو بڑی طاقتوں کے درمیان جاری کشیدگی کے پس منظر میں خلیج میں ابھرتے ہوئے نئے اتحادوں کی تازہ ترین علامت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاملے سے باخبر ایک ذرائع نے بتایا کہ وہ وہاں پاکستان کے لیے اقتصادی تعاون کے اظہار کے طور پر موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شدید مالی مشکلات کا شکار پاکستان نے حال ہی میں کہا ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات کو 3 ارب ڈالر سے زائد کے قرضے واپس کرے گا، جنہیں ابوظہبی 2018 سے رول اوور (موخر) کرتا آ رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد اپنے بھاری قرضوں کی ادائیگی کے لیے آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکجز اور سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے دوست ممالک کے قرضوں پر انحصار کرتا ہے، جو اس کی سالانہ آمدنی کا نصف حصہ ہڑپ کر جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کبھی قریبی شراکت دار تھے لیکن حالیہ برسوں میں تعلقات اس وقت کشیدہ ہوئے جب دونوں پڑوسی ممالک یمن، سوڈان اور ہارن آف افریقہ میں ایک دوسرے کے مدمقابل آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے ہمراہ ایران پر امریکہ-اسرائیلی جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں مصروف ہے جس کی وجہ سے خلیجی ممالک کو تہران کے جوابی حملوں کا سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات نے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ایرانی حملوں کا سامنا کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات نے ایران کے حوالے سے بھی زیادہ سخت مؤقف اختیار کیا ہے اور ایسے حل سے خبردار کیا ہے جو اس کے بقول ایران کے تمام خطرات کا مکمل احاطہ نہ کریں اور بحری راستوں کی آزادی (فریڈم آف نیویگیشن) کو یقینی نہ بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ابوظہبی نے سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششوں پر براہِ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا ، تاہم کچھ اماراتی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے سوشل میڈیا پوسٹس میں ثالثی کے اس عمل میں مصر اور پاکستان کے کردار کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>معاملے سے باخبر ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ سعودی عرب کے وزیر خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان ہفتے کو اقتصادی تعاون کے اظہار کیلئے اسلام آباد میں موجود تھے۔ یہ دورہ پاکستان کی جانب سے ریاض کے اتحادی اور اب حریف متحدہ عرب امارات کو اربوں ڈالر کے قرضے واپس کرنے کے اعلان کے چند روز بعد ہوا۔</strong></p>
<p>سعودی وزیر محمد الجدعان کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب اسلام آباد مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے پاک-ایران مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے تاہم وہ ان مذاکرات میں شریک نہیں ہیں۔</p>
<p>ان کا یہ دورہ خطے کی دو بڑی طاقتوں کے درمیان جاری کشیدگی کے پس منظر میں خلیج میں ابھرتے ہوئے نئے اتحادوں کی تازہ ترین علامت ہے۔</p>
<p>معاملے سے باخبر ایک ذرائع نے بتایا کہ وہ وہاں پاکستان کے لیے اقتصادی تعاون کے اظہار کے طور پر موجود ہیں۔</p>
<p>شدید مالی مشکلات کا شکار پاکستان نے حال ہی میں کہا ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات کو 3 ارب ڈالر سے زائد کے قرضے واپس کرے گا، جنہیں ابوظہبی 2018 سے رول اوور (موخر) کرتا آ رہا تھا۔</p>
<p>اسلام آباد اپنے بھاری قرضوں کی ادائیگی کے لیے آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکجز اور سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے دوست ممالک کے قرضوں پر انحصار کرتا ہے، جو اس کی سالانہ آمدنی کا نصف حصہ ہڑپ کر جاتے ہیں۔</p>
<p>متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کبھی قریبی شراکت دار تھے لیکن حالیہ برسوں میں تعلقات اس وقت کشیدہ ہوئے جب دونوں پڑوسی ممالک یمن، سوڈان اور ہارن آف افریقہ میں ایک دوسرے کے مدمقابل آئے۔</p>
<p>پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے ہمراہ ایران پر امریکہ-اسرائیلی جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں مصروف ہے جس کی وجہ سے خلیجی ممالک کو تہران کے جوابی حملوں کا سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔</p>
<p>متحدہ عرب امارات نے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ایرانی حملوں کا سامنا کیا ہے۔</p>
<p>متحدہ عرب امارات نے ایران کے حوالے سے بھی زیادہ سخت مؤقف اختیار کیا ہے اور ایسے حل سے خبردار کیا ہے جو اس کے بقول ایران کے تمام خطرات کا مکمل احاطہ نہ کریں اور بحری راستوں کی آزادی (فریڈم آف نیویگیشن) کو یقینی نہ بنائیں۔</p>
<p>اگرچہ ابوظہبی نے سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششوں پر براہِ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا ، تاہم کچھ اماراتی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے سوشل میڈیا پوسٹس میں ثالثی کے اس عمل میں مصر اور پاکستان کے کردار کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284918</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Apr 2026 14:54:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے پی پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/1114405056b72d0.webp" type="image/webp" medium="image" height="683" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/1114405056b72d0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
