<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>2050 تک موسمیاتی نقصانات جی ڈی پی کے 6 فیصد تک پہنچ سکتے ہیں، مسابقتی کمیشن</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284912/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو 2050 تک پاکستان کے موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے نقصانات جی ڈی پی کے 6 فیصد تک پہنچ سکتے ہیں، پاکستان جو پہلے ہی موسمیاتی خطرات سے دوچار دنیا کے پانچ بڑے ممالک میں شامل ہے تیزی سے بڑھتے ہوئے سیلابوں، ہیٹ ویوز اور پانی کی قلت کا سامنا کر رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی سی پی کی تحقیق جس کا عنوان سبز صلاحیتوں کو اجاگر کرنا: پاکستان میں شمسی توانائی کا مارکیٹ مسابقتی مطالعہ ہے، ماحولیاتی طور پر پائیدار بجلی کی پیداوار، خاص طور پر شمسی توانائی کی جانب منتقلی کی فوری ضرورت پر زور دیتی ہے جو ملک کی وسیع تر صلاحیت کے باوجود اب بھی نمایاں طور پر کم استعمال ہورہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ پاکستان کی شمسی توانائی کی صلاحیت، ماحولیاتی خطرات کو کم کرنے کے ساتھ پائیدار معاشی ترقی کیلئے سب سے زیادہ قابل عمل راستوں میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم حالیہ برسوں میں شمسی توانائی کے آلات کی درآمدات اور تنصیبات میں اضافے کے باوجود مجموعی بجلی کی پیداوار میں شمسی توانائی کا حصہ صرف 2 فیصد کے قریب ہے جو اس شعبے کی اصل صلاحیت اور موجودہ استعمال کے درمیان ایک واضح فرق کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ پاکستان وافر سورج کی روشنی سے مالا مال ہے، خاص طور پر بلوچستان اور سندھ جیسے علاقوں میں لیکن شمسی توانائی کی جانب منتقلی کا عمل اب بھی بکھرا ہوا ہے اور اس میں ڈھانچہ جاتی اور پالیسی سے متعلق رکاوٹیں حائل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی  شعبے میں فوسل فیول کا مسلسل غلبہ نہ صرف بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن رہا ہے بلکہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج اور ماحولیاتی تنزلی میں بھی اضافے کی وجہ ہے۔ تحقیق میں خبردار کیا گیا کہ صاف توانائی کی جانب فیصلہ کن منتقلی کے بغیر موسمیاتی جھٹکوں کے حوالے سے پاکستان کی حساسیت مزید شدت اختیار کرجائے گی جس کے سنگین معاشی و سماجی نتائج برآمد ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی کے ساتھ شمسی توانائی کو اپنانے کے رجحان میں تیزی آرہی ہے جس کی بڑی وجہ بجلی کے بڑھتے نرخ اور نیشنل گرڈ سے سپلائی کا غیر یقینی ہونا ہے ،تاہم اس پھیلاؤ کا بڑا حصہ رسمی نظام  سے باہر ہورہا ہے جس کی وجہ سے قومی توانائی کی منصوبہ بندی اور ماحولیاتی نتائج میں اس کا حصہ محدود ہو کر رہ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی سی پی اس بات پر زور دیتا ہے کہ شمسی توانائی پاکستان کے لیے ایک منفرد موقع فراہم کرتی ہے جس سے بیک وقت اخراج میں کمی، توانائی  اخراجات میں بچت اور توانائی کے تحفظ کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ رپورٹ میں نوٹ کیا گیا کہ شمسی توانائی کے استعمال کو بڑے پیمانے پر بڑھانا اب محض انتخاب نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت پیدا کرنے اور طویل مدتی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہوچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو 2050 تک پاکستان کے موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے نقصانات جی ڈی پی کے 6 فیصد تک پہنچ سکتے ہیں، پاکستان جو پہلے ہی موسمیاتی خطرات سے دوچار دنیا کے پانچ بڑے ممالک میں شامل ہے تیزی سے بڑھتے ہوئے سیلابوں، ہیٹ ویوز اور پانی کی قلت کا سامنا کر رہا ہے۔</strong></p>
<p>سی سی پی کی تحقیق جس کا عنوان سبز صلاحیتوں کو اجاگر کرنا: پاکستان میں شمسی توانائی کا مارکیٹ مسابقتی مطالعہ ہے، ماحولیاتی طور پر پائیدار بجلی کی پیداوار، خاص طور پر شمسی توانائی کی جانب منتقلی کی فوری ضرورت پر زور دیتی ہے جو ملک کی وسیع تر صلاحیت کے باوجود اب بھی نمایاں طور پر کم استعمال ہورہی ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ پاکستان کی شمسی توانائی کی صلاحیت، ماحولیاتی خطرات کو کم کرنے کے ساتھ پائیدار معاشی ترقی کیلئے سب سے زیادہ قابل عمل راستوں میں سے ایک ہے۔</p>
<p>تاہم حالیہ برسوں میں شمسی توانائی کے آلات کی درآمدات اور تنصیبات میں اضافے کے باوجود مجموعی بجلی کی پیداوار میں شمسی توانائی کا حصہ صرف 2 فیصد کے قریب ہے جو اس شعبے کی اصل صلاحیت اور موجودہ استعمال کے درمیان ایک واضح فرق کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>اگرچہ پاکستان وافر سورج کی روشنی سے مالا مال ہے، خاص طور پر بلوچستان اور سندھ جیسے علاقوں میں لیکن شمسی توانائی کی جانب منتقلی کا عمل اب بھی بکھرا ہوا ہے اور اس میں ڈھانچہ جاتی اور پالیسی سے متعلق رکاوٹیں حائل ہیں۔</p>
<p>توانائی  شعبے میں فوسل فیول کا مسلسل غلبہ نہ صرف بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن رہا ہے بلکہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج اور ماحولیاتی تنزلی میں بھی اضافے کی وجہ ہے۔ تحقیق میں خبردار کیا گیا کہ صاف توانائی کی جانب فیصلہ کن منتقلی کے بغیر موسمیاتی جھٹکوں کے حوالے سے پاکستان کی حساسیت مزید شدت اختیار کرجائے گی جس کے سنگین معاشی و سماجی نتائج برآمد ہوں گے۔</p>
<p>اسی کے ساتھ شمسی توانائی کو اپنانے کے رجحان میں تیزی آرہی ہے جس کی بڑی وجہ بجلی کے بڑھتے نرخ اور نیشنل گرڈ سے سپلائی کا غیر یقینی ہونا ہے ،تاہم اس پھیلاؤ کا بڑا حصہ رسمی نظام  سے باہر ہورہا ہے جس کی وجہ سے قومی توانائی کی منصوبہ بندی اور ماحولیاتی نتائج میں اس کا حصہ محدود ہو کر رہ گیا ہے۔</p>
<p>سی سی پی اس بات پر زور دیتا ہے کہ شمسی توانائی پاکستان کے لیے ایک منفرد موقع فراہم کرتی ہے جس سے بیک وقت اخراج میں کمی، توانائی  اخراجات میں بچت اور توانائی کے تحفظ کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ رپورٹ میں نوٹ کیا گیا کہ شمسی توانائی کے استعمال کو بڑے پیمانے پر بڑھانا اب محض انتخاب نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت پیدا کرنے اور طویل مدتی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہوچکا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284912</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Apr 2026 13:04:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/1113033875a82de.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/1113033875a82de.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
