<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 12:58:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 12:58:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیٹ بینک کی ایکسچینج کمپنیوں کو ترسیلاتِ زر پر 5 روزہ فارورڈ سیل کی اجازت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284902/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایکسچینج کمپنیوں کو ترسیلاتِ زر کی وصولی کے عوض مجاز ڈیلرز (بینکوں) کے ساتھ 5 ورکنگ ڈیز تک کی مختصر مدت کے لیے فارورڈ سیل کے لین دین کی اجازت دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد زرمبادلہ کی آمد میں اضافہ کرنا اور لیکویڈیٹی (نقدی) کے انتظام کو بہتر بنانا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ فارن ایکسچینج ریگولیشنز کے چیپٹر 7 میں ترامیم کے حصے کے طور پر سامنے آیا جس میں فریم ورک کو مزید سہل اور بہتر بنانے کیلئے ذیلی پیرا 7 I(d) پر نظرثانی کی گئی اور ایک نئے ذیلی پیرا 7 II کا اضافہ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ سرکلر میں کہا گیا کہ ایکسچینج کمپنیوں کیلئے مزید ترسیلاتِ زر کو متحرک کرنے میں آسانی پیدا کرنے کی غرض سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ وہ ترسیلاتِ زر کی وصولی کے عوض مجاز ڈیلرز کے ساتھ 5 ورکنگ ڈیز تک کی مدت کیلئے فارورڈ سیل کے لین دین کرسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ایکسچینج کمپنیوں کو فارورڈ سیل کے لین دین کی اجازت نہیں تھی اور ان کے لیے اسی دن ڈالر جمع کروانا  ضروری ہوتا تھا جس سے ان کی لچک محدود ہوجاتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے ضوابط کے مطابق ایکسچینج کمپنیوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ ہوم ریمیٹنس کی مد میں وصول کی گئی غیر ملکی کرنسی کا 100 فیصد، مساوی امریکی ڈالرز کی صورت میں انٹر بینک مارکیٹ میں جمع کروائیں، قطع نظر اس کے کہ فارورڈ سیل کی سہولت استعمال کی گئی ہو یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکسچینج کمپنیاں چند شرائط و ضوابط کے ساتھ مجاز ڈیلرز (بینکوں) کے ساتھ ہوم ریمیٹنس کی وصولی کے عوض فارورڈ سیل کی لین دین کرسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈ سیل کی سہولت زیادہ سے زیادہ پانچ ورکنگ ڈیز کیلئے حاصل کی جاسکتی ہے اور میچورٹی کی تاریخ پر فارورڈ کنٹریکٹ کا تصفیہ ہونا ضروری ہے۔ اگر فارورڈ سیل کا لین دین پانچ ورکنگ ڈیز سے کم مدت کیلئے ہے تو اس کنٹریکٹ کی مدت میں اس شرط کے ساتھ توسیع کی جا سکتی ہے کہ کنٹریکٹ کی مجموعی مدت، بشمول توسیعی مدت، پانچ ورکنگ ڈیز سے زیادہ نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈ سیل کی بکنگ تصفیہ (سیٹلمنٹ) کی تاریخ تک متوقع ہوم ریمیٹنس کی بنیاد پر کی جاسکتی ہے، اس مقصد کیلئے کمپنی منی ٹرانسفر آپریٹرز سے گزشتہ 15 دنوں کی ایڈوائسز (سوئفٹ کاپی) اور ایم ٹی اوز سے غیر ملکی کرنسی کی وصولی کے ممکنہ تسلسل کی تفصیلات مجاز ڈیلر کو جمع کرائے گی۔ گزشتہ 15 دنوں کے دوران موصول ہونے والی ترسیلاتِ زر کی یومیہ اوسط، فارورڈ سیل کنٹریکٹ کی رقم کا تعین کرنے کے لیے یومیہ بینچ مارک کے طور پر کام کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں رقم کی کم وصولی کی صورت میں بک کیے گئے فارورڈ ٹرانزیکشن کا تصفیہ کمپنی کے پاس موجود دیگر غیر ملکی کرنسی کے فنڈز سے کیا جا سکتا ہے۔ تاہم کسی بھی صورت میں یہ متبادل رقم فارورڈ ٹرانزیکشن کی اصل ڈیل کی رقم کے 10 فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ وہ فارورڈ کنٹریکٹ جن پر عمل درآمد نہ ہو سکے، انہیں میچورٹی کی تاریخ پر رائج اسپاٹ ریٹ پر ان شرائط و ضوابط کے مطابق بند کر دیا جائے گا جو کمپنی اور مجاز ڈیلر کے درمیان طے پائے ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے خبردار کیا کہ اس سہولت کے کسی بھی غلط استعمال جس میں حد سے زیادہ فارورڈ سیلنگ کے ذریعے سودوں کی بار بار منسوخی جیسے مارکیٹ میں ہیرا پھیری کے اقدامات بھی شامل ہیں، پر اسٹیٹ بینک قوانین، قواعد اور ضوابط کی متعلقہ دفعات کے تحت سخت تادیبی اور نفاذی کارروائی کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ظفر پراچہ نے ہوم ریمیٹنس کی فارورڈ سیل کیلئے ایک منظم اور شفاف طریقہ کار متعارف کرانے پر گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور ان کی ٹیم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نیا فریم ورک ترسیلاتِ زر کے قانونی ذرائع کو مضبوط بنانے اور لیکویڈٹی کے انتظام کو بہتر بنانے کے حوالے سے اسٹیٹ بینک کے فعال اور عملی نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ظفر پراچہ نے اس بات پر زور دیا کہ ایکسچینج کمپنیوں کو ترسیلاتِ زر کے اصل رجحانات کی بنیاد پر مختصر مدت کے لیے فارورڈ سیل کے لین دین کی اجازت دینے سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو کم کرنے، آپریشنل منصوبہ بندی کو بہتر بنانے اور فارن ایکسچینج مینجمنٹ کی کارکردگی کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ انٹر بینک مارکیٹ میں 100 فیصد غیر ملکی کرنسی جمع کروانے کی شرط شفافیت کو یقینی بناتی ہے اور ملک کے زرمبادلہ ذخائر کو سہارا دیتی ہے۔ یہ اقدام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعاون کرنے اور ایکسچینج کمپنیوں کو درپیش حقیقی چیلنجز کو حل کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک کے عزم کا مظہر ہے۔ اس سے نہ صرف قواعد و ضوابط کی بہتر تعمیل میں مدد ملے گی بلکہ قانونی ذرائع سے ترسیلاتِ زر کی آمد میں اضافے کی بھی حوصلہ افزائی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ظفر پراچہ نے گورنر اسٹیٹ بینک اور ان کی پوری ٹیم کے مسلسل تعاون اور ان تعمیری پالیسی اقدامات پر شکریہ ادا کیا جن کا مقصد پاکستان کے مالیاتی نظام کو مضبوط بنانا اور ترسیلاتِ زر کی آمد میں اضافے کو فروغ دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایکسچینج کمپنیوں کو ترسیلاتِ زر کی وصولی کے عوض مجاز ڈیلرز (بینکوں) کے ساتھ 5 ورکنگ ڈیز تک کی مختصر مدت کے لیے فارورڈ سیل کے لین دین کی اجازت دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد زرمبادلہ کی آمد میں اضافہ کرنا اور لیکویڈیٹی (نقدی) کے انتظام کو بہتر بنانا ہے۔</strong></p>
<p>یہ فیصلہ فارن ایکسچینج ریگولیشنز کے چیپٹر 7 میں ترامیم کے حصے کے طور پر سامنے آیا جس میں فریم ورک کو مزید سہل اور بہتر بنانے کیلئے ذیلی پیرا 7 I(d) پر نظرثانی کی گئی اور ایک نئے ذیلی پیرا 7 II کا اضافہ کیا گیا ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ سرکلر میں کہا گیا کہ ایکسچینج کمپنیوں کیلئے مزید ترسیلاتِ زر کو متحرک کرنے میں آسانی پیدا کرنے کی غرض سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ وہ ترسیلاتِ زر کی وصولی کے عوض مجاز ڈیلرز کے ساتھ 5 ورکنگ ڈیز تک کی مدت کیلئے فارورڈ سیل کے لین دین کرسکتی ہیں۔</p>
<p>اس سے قبل ایکسچینج کمپنیوں کو فارورڈ سیل کے لین دین کی اجازت نہیں تھی اور ان کے لیے اسی دن ڈالر جمع کروانا  ضروری ہوتا تھا جس سے ان کی لچک محدود ہوجاتی تھی۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے ضوابط کے مطابق ایکسچینج کمپنیوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ ہوم ریمیٹنس کی مد میں وصول کی گئی غیر ملکی کرنسی کا 100 فیصد، مساوی امریکی ڈالرز کی صورت میں انٹر بینک مارکیٹ میں جمع کروائیں، قطع نظر اس کے کہ فارورڈ سیل کی سہولت استعمال کی گئی ہو یا نہیں۔</p>
<p>ایکسچینج کمپنیاں چند شرائط و ضوابط کے ساتھ مجاز ڈیلرز (بینکوں) کے ساتھ ہوم ریمیٹنس کی وصولی کے عوض فارورڈ سیل کی لین دین کرسکتی ہیں۔</p>
<p>فارورڈ سیل کی سہولت زیادہ سے زیادہ پانچ ورکنگ ڈیز کیلئے حاصل کی جاسکتی ہے اور میچورٹی کی تاریخ پر فارورڈ کنٹریکٹ کا تصفیہ ہونا ضروری ہے۔ اگر فارورڈ سیل کا لین دین پانچ ورکنگ ڈیز سے کم مدت کیلئے ہے تو اس کنٹریکٹ کی مدت میں اس شرط کے ساتھ توسیع کی جا سکتی ہے کہ کنٹریکٹ کی مجموعی مدت، بشمول توسیعی مدت، پانچ ورکنگ ڈیز سے زیادہ نہ ہو۔</p>
<p>فارورڈ سیل کی بکنگ تصفیہ (سیٹلمنٹ) کی تاریخ تک متوقع ہوم ریمیٹنس کی بنیاد پر کی جاسکتی ہے، اس مقصد کیلئے کمپنی منی ٹرانسفر آپریٹرز سے گزشتہ 15 دنوں کی ایڈوائسز (سوئفٹ کاپی) اور ایم ٹی اوز سے غیر ملکی کرنسی کی وصولی کے ممکنہ تسلسل کی تفصیلات مجاز ڈیلر کو جمع کرائے گی۔ گزشتہ 15 دنوں کے دوران موصول ہونے والی ترسیلاتِ زر کی یومیہ اوسط، فارورڈ سیل کنٹریکٹ کی رقم کا تعین کرنے کے لیے یومیہ بینچ مارک کے طور پر کام کرے گی۔</p>
<p>مزید برآں رقم کی کم وصولی کی صورت میں بک کیے گئے فارورڈ ٹرانزیکشن کا تصفیہ کمپنی کے پاس موجود دیگر غیر ملکی کرنسی کے فنڈز سے کیا جا سکتا ہے۔ تاہم کسی بھی صورت میں یہ متبادل رقم فارورڈ ٹرانزیکشن کی اصل ڈیل کی رقم کے 10 فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ وہ فارورڈ کنٹریکٹ جن پر عمل درآمد نہ ہو سکے، انہیں میچورٹی کی تاریخ پر رائج اسپاٹ ریٹ پر ان شرائط و ضوابط کے مطابق بند کر دیا جائے گا جو کمپنی اور مجاز ڈیلر کے درمیان طے پائے ہوں گے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے خبردار کیا کہ اس سہولت کے کسی بھی غلط استعمال جس میں حد سے زیادہ فارورڈ سیلنگ کے ذریعے سودوں کی بار بار منسوخی جیسے مارکیٹ میں ہیرا پھیری کے اقدامات بھی شامل ہیں، پر اسٹیٹ بینک قوانین، قواعد اور ضوابط کی متعلقہ دفعات کے تحت سخت تادیبی اور نفاذی کارروائی کرے گا۔</p>
<p>ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ظفر پراچہ نے ہوم ریمیٹنس کی فارورڈ سیل کیلئے ایک منظم اور شفاف طریقہ کار متعارف کرانے پر گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور ان کی ٹیم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نیا فریم ورک ترسیلاتِ زر کے قانونی ذرائع کو مضبوط بنانے اور لیکویڈٹی کے انتظام کو بہتر بنانے کے حوالے سے اسٹیٹ بینک کے فعال اور عملی نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>ظفر پراچہ نے اس بات پر زور دیا کہ ایکسچینج کمپنیوں کو ترسیلاتِ زر کے اصل رجحانات کی بنیاد پر مختصر مدت کے لیے فارورڈ سیل کے لین دین کی اجازت دینے سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو کم کرنے، آپریشنل منصوبہ بندی کو بہتر بنانے اور فارن ایکسچینج مینجمنٹ کی کارکردگی کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ انٹر بینک مارکیٹ میں 100 فیصد غیر ملکی کرنسی جمع کروانے کی شرط شفافیت کو یقینی بناتی ہے اور ملک کے زرمبادلہ ذخائر کو سہارا دیتی ہے۔ یہ اقدام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعاون کرنے اور ایکسچینج کمپنیوں کو درپیش حقیقی چیلنجز کو حل کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک کے عزم کا مظہر ہے۔ اس سے نہ صرف قواعد و ضوابط کی بہتر تعمیل میں مدد ملے گی بلکہ قانونی ذرائع سے ترسیلاتِ زر کی آمد میں اضافے کی بھی حوصلہ افزائی ہوگی۔</p>
<p>ظفر پراچہ نے گورنر اسٹیٹ بینک اور ان کی پوری ٹیم کے مسلسل تعاون اور ان تعمیری پالیسی اقدامات پر شکریہ ادا کیا جن کا مقصد پاکستان کے مالیاتی نظام کو مضبوط بنانا اور ترسیلاتِ زر کی آمد میں اضافے کو فروغ دینا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284902</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Apr 2026 10:53:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/111036122a0126c.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/111036122a0126c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
