<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کا اعلی سطح وفد امریکا سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284901/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کا اعلی سطح مذاکراتی وفد امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے جمعہ کو اسلام آباد پہنچ گیا، تاہم تہران نے ان اقدامات پر اصرار کیا جن کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ انہیں پہلے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس صورتحال نے پاکستان میں ہونے والی ان طے شدہ ملاقاتوں پر آخری لمحات میں شکوک و شبہات پیدا کردیے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو چھ ہفتوں سے جاری جنگ میں دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کیا، یہ اعلان اس ڈیڈ لائن سے محض چند گھنٹے پہلے سامنے آیا جس کے بعد ٹرمپ نے ایران کی تہذیب کو تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ بندی نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملے تو روک دیے لیکن اس سے آبنائے ہرمز کی ایرانی ناکہ بندی ختم نہیں ہوئی جس کی وجہ سے عالمی توانائی کی سپلائی میں اب تک کا سب سے بڑا تعطل پیدا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری جنگ میں بھی کوئی کمی نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایکس پر کہا کہ واشنگٹن پہلے ہی ایرانی اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ بندی پر اتفاق کرچکا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک ان وعدوں کو پورا نہیں کیا جاتا تب تک مذاکرات شروع نہیں ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا کہ باقر قالیباف جمعہ کو اسلام آباد پہنچے اور اس وفد میں سینئر سیاسی، فوجی اور معاشی حکام شامل ہیں جن میں ایران کے وزیر خارجہ، دفاعی کونسل کے سیکرٹری، مرکزی بینک کے گورنر اور پارلیمنٹ کے متعدد ارکان شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایرانی مطالبات پر فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا تاہم ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ایرانیوں کے زندہ رہنے کی واحد وجہ ایک معاہدے کے لیے مذاکرات کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ایرانیوں کو اس بات کا احساس نہیں ہے کہ عالمی آبی گزرگاہوں کو استعمال کرتے ہوئے دنیا کو قلیل مدتی بلیک میل کرنے کے علاوہ ان کے پاس کوئی اور راستہ (کارڈز) نہیں ہے۔ آج ان کے زندہ رہنے کی واحد وجہ مذاکرات کرنا ہے!“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی نائب صدر جے ڈی وینس جو امریکی وفد کی قیادت کریں گے نے پاکستان روانگی کے وقت مثبت نتائج کی امید ظاہر کی لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر وہ ہمیں دھوکہ دینے یا الجھانے  کی کوشش کریں گے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ مذاکراتی ٹیم اتنی نرم خو نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکنگ اور توانائی  شعبوں پر امریکی پابندیوں کے باعث ایران غیر ملکی بینکوں میں موجود اپنے اربوں ڈالر کے اثاثے حاصل کرنے سے قاصر رہا ہے، جو بنیادی طور پر تیل اور گیس کی برآمدات سے حاصل شدہ رقم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعہ کی رات قوم سے خطاب میں ان مذاکرات کی اہمیت کو واضح کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مستقل جنگ بندی اگلا مشکل مرحلہ ہے، جس میں پیچیدہ مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہے۔ یہ جیسا کہ انگریزی میں کہا جاتا ہے، ایک میک اور بریک (بنو یا بگڑو) مرحلہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی جاری&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل اور امریکہ نے کہا ہے کہ لبنان میں عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کے خلاف کارروائی طے شدہ جنگ بندی کا حصہ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لبنان کی صدارت (ایوانِ صدر) نے کہا ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان جمعہ کو واشنگٹن میں ان کے سفیروں کے ذریعے ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ کال جنگ بندی کو یقینی بنانے اور مذاکرات شروع کرنے کی کوششوں کا حصہ تھی، مزید یہ کہ دونوں فریقین نے امریکی ثالثی میں منگل کو امریکی محکمہ خارجہ میں پہلی ملاقات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لبنانی حکام کے مطابق، جنگ بندی کے اعلان کے محض چند گھنٹوں بعد اسرائیل نے جنگ کا سب سے بڑا حملہ کیا جس میں گنجان آباد علاقوں پر اچانک کی گئی بمباری کے نتیجے میں 350 سے زائد افراد مارے گئے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو بھی جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ صدر جوزف عون نے ایک بیان میں بتایا کہ شہر نبطیہ میں ایک سرکاری عمارت پر ہونے والے حملے میں لبنان کی ریاستی سیکیورٹی فورسز کے 13 اہلکارمارے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حزب اللہ نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے ردعمل میں شمالی اسرائیلی شہروں پر راکٹوں کی بوچھاڑ کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کم از کم 1,953 افراد مارے جاچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کا اعلی سطح مذاکراتی وفد امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے جمعہ کو اسلام آباد پہنچ گیا، تاہم تہران نے ان اقدامات پر اصرار کیا جن کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ انہیں پہلے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس صورتحال نے پاکستان میں ہونے والی ان طے شدہ ملاقاتوں پر آخری لمحات میں شکوک و شبہات پیدا کردیے ہیں۔</strong></p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو چھ ہفتوں سے جاری جنگ میں دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کیا، یہ اعلان اس ڈیڈ لائن سے محض چند گھنٹے پہلے سامنے آیا جس کے بعد ٹرمپ نے ایران کی تہذیب کو تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔</p>
<p>جنگ بندی نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملے تو روک دیے لیکن اس سے آبنائے ہرمز کی ایرانی ناکہ بندی ختم نہیں ہوئی جس کی وجہ سے عالمی توانائی کی سپلائی میں اب تک کا سب سے بڑا تعطل پیدا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری جنگ میں بھی کوئی کمی نہیں آئی۔</p>
<p>ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایکس پر کہا کہ واشنگٹن پہلے ہی ایرانی اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ بندی پر اتفاق کرچکا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک ان وعدوں کو پورا نہیں کیا جاتا تب تک مذاکرات شروع نہیں ہوں گے۔</p>
<p>ایرانی سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا کہ باقر قالیباف جمعہ کو اسلام آباد پہنچے اور اس وفد میں سینئر سیاسی، فوجی اور معاشی حکام شامل ہیں جن میں ایران کے وزیر خارجہ، دفاعی کونسل کے سیکرٹری، مرکزی بینک کے گورنر اور پارلیمنٹ کے متعدد ارکان شامل ہیں۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایرانی مطالبات پر فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا تاہم ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ایرانیوں کے زندہ رہنے کی واحد وجہ ایک معاہدے کے لیے مذاکرات کرنا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ایرانیوں کو اس بات کا احساس نہیں ہے کہ عالمی آبی گزرگاہوں کو استعمال کرتے ہوئے دنیا کو قلیل مدتی بلیک میل کرنے کے علاوہ ان کے پاس کوئی اور راستہ (کارڈز) نہیں ہے۔ آج ان کے زندہ رہنے کی واحد وجہ مذاکرات کرنا ہے!“</p>
<p>امریکی نائب صدر جے ڈی وینس جو امریکی وفد کی قیادت کریں گے نے پاکستان روانگی کے وقت مثبت نتائج کی امید ظاہر کی لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر وہ ہمیں دھوکہ دینے یا الجھانے  کی کوشش کریں گے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ مذاکراتی ٹیم اتنی نرم خو نہیں ہے۔</p>
<p>بینکنگ اور توانائی  شعبوں پر امریکی پابندیوں کے باعث ایران غیر ملکی بینکوں میں موجود اپنے اربوں ڈالر کے اثاثے حاصل کرنے سے قاصر رہا ہے، جو بنیادی طور پر تیل اور گیس کی برآمدات سے حاصل شدہ رقم ہے۔</p>
<p>وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعہ کی رات قوم سے خطاب میں ان مذاکرات کی اہمیت کو واضح کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مستقل جنگ بندی اگلا مشکل مرحلہ ہے، جس میں پیچیدہ مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہے۔ یہ جیسا کہ انگریزی میں کہا جاتا ہے، ایک میک اور بریک (بنو یا بگڑو) مرحلہ ہے۔</p>
<p><strong>اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی جاری</strong></p>
<p>اسرائیل اور امریکہ نے کہا ہے کہ لبنان میں عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کے خلاف کارروائی طے شدہ جنگ بندی کا حصہ نہیں ہے۔</p>
<p>لبنان کی صدارت (ایوانِ صدر) نے کہا ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان جمعہ کو واشنگٹن میں ان کے سفیروں کے ذریعے ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ کال جنگ بندی کو یقینی بنانے اور مذاکرات شروع کرنے کی کوششوں کا حصہ تھی، مزید یہ کہ دونوں فریقین نے امریکی ثالثی میں منگل کو امریکی محکمہ خارجہ میں پہلی ملاقات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔</p>
<p>لبنانی حکام کے مطابق، جنگ بندی کے اعلان کے محض چند گھنٹوں بعد اسرائیل نے جنگ کا سب سے بڑا حملہ کیا جس میں گنجان آباد علاقوں پر اچانک کی گئی بمباری کے نتیجے میں 350 سے زائد افراد مارے گئے ۔</p>
<p>جمعہ کو بھی جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ صدر جوزف عون نے ایک بیان میں بتایا کہ شہر نبطیہ میں ایک سرکاری عمارت پر ہونے والے حملے میں لبنان کی ریاستی سیکیورٹی فورسز کے 13 اہلکارمارے گئے۔</p>
<p>حزب اللہ نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے ردعمل میں شمالی اسرائیلی شہروں پر راکٹوں کی بوچھاڑ کی گئی ہے۔</p>
<p>لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کم از کم 1,953 افراد مارے جاچکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284901</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Apr 2026 10:31:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/JudfejP8jSY/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/JudfejP8jSY/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=JudfejP8jSY"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
