<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرقِ وسطیٰ تنازع، غیر نو لبرل پالیسی اور مشن پر مبنی حکمت عملی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284896/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشرقِ وسطیٰ کے تنازع میں دو ہفتے کی جنگ بندی کے بعد عارضی وقفہ پیدا ہوا ہے، جس میں پاکستان نے ثالثی کے عمل میں اہم کردار ادا کیا اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اسلام آباد میں ہفتے کے آخر میں ہونے والے مذاکرات کے ذریعے خطے میں دیرپا امن معاہدے کی راہ ہموار ہو سکے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم جنگ نازک بنیادوں پر قائم ہے کیونکہ یہ جنگ بندی کے بنیادی تقاضوں کے مطابق جاری ہے۔ 8 اپریل کو بلومبرگ میں شائع ہونے والی رپورٹ ’وینس ٹو لیڈ ایران مذاکرات‘ جیسا کہ تہران کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی گئی ہے’ میں حالیہ صورت حال کی بات کی گئی ہے، وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ براہ راست بات کرے گا،تاہم مشرقِ وسطیٰ میں جاری لڑائی اور لبنان پر اسرائیلی حملوں کے باعث یہ کمزور جنگ بندی خطرے سے دوچار ہو سکتی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس ایک امریکی وفد کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد کا دورہ کریں گے، اس وفد میں خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذاکرات کا پہلا دور مقامی وقت کے مطابق ہفتے کی صبح طے ہے، تاہم جمعرات کی صبح تک آبنائے ہرمز بڑی حد تک بند رہی، جو جنگ بندی کے لیے امریکا کی ایک اہم شرط پر پورا نہیں اترتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جانی نقصان کے فوری سدباب کے علاوہ، ابتدائی طور پر آبنائے ہرمز کا کھلنا، اس سے قبل کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزی کے باعث یہ دوبارہ بند ہو جائے، اور مجموعی طور پر جنگ بندی کے مثبت اثرات نے مالیاتی منڈیوں میں واضح بہتری پیدا کی۔ مثال کے طور پر برینٹ کروڈ کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی، اور بلومبرگ کے مطابق جمعرات کو یہ 97 ڈالر فی بیرل سے کچھ اوپر رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ بندی کے وسیع تر معاشی اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے 8 اپریل کو دی گارڈین میں شائع رپورٹ ‘سیز فائر برنگز ریلیف ٹو فنانشل مارکیٹس، بٹ اٹ از فار فرام ایبسولیٹ’ میں کہا گیا کہ تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی، اسٹاک مارکیٹ میں تیزی اور عالمی معاشی منظرنامے کے حوالے سے نئی امیدیں پیدا ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ایران جنگ میں دو ہفتے کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد مالیاتی منڈیوں میں واضح ریلیف دیکھا گیا، تاہم یہ ریلیف مکمل اور حتمی نہیں ہے۔ بدھ کے روز تیل کی قیمتوں میں 10 فیصد سے زائد کمی کے باوجود برینٹ کروڈ اب بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر ہے، جو جنگ سے قبل عالمی معیار کے مطابق 73 ڈالر فی بیرل سے نیچے کی سطح کے مقابلے میں خاصا زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اگرچہ معیشت کو پہنچنے والے شدید روزمرہ نقصان میں کچھ کمی آئی ہے، تاہم انسانی جانوں کا نقصان، خصوصاً اسرائیل کے لبنان پر مسلسل حملوں کی صورت میں، بدستور جاری ہے۔ اس وقفے نے کم از کم اتنا موقع ضرور فراہم کیا ہے کہ اب تک ہونے والے غیر معمولی اور بے مثال اثرات کا سنجیدہ جائزہ لیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مئی 7 کو پروجیکٹ سنڈیکیٹ میں شائع ہونے والے مضمون ”دی کمینگ انفلیشن-ڈیفلیشن وِپساؤ“ میں، جو جنگ بندی کے اعلان سے کچھ ہی قبل سامنے آیا، نشاندہی کی گئی کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ نے آبنائے ہرمز کے راستے میں خلل پیدا کر دیا ہے، جو عام طور پر دنیا کی روزانہ تقریباً 10 کروڑ بیرل تیل کی طلب کے لگ بھگ 20 فیصد کی ترسیل کا ذریعہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال عالمی تیل مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا رسد جھٹکا ہے۔ موازنہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ 1973 کی عرب آئل پابندی، 1990 کی خلیجی جنگ اور 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے نے عالمی رسد کو بالترتیب 7 فیصد، 6.5 فیصد اور 3 فیصد تک متاثر کیا تھا۔ اس کے برعکس موجودہ بحران کے بعد نہ صرف تیل اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں 30 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے بلکہ یہ جھٹکا پوری کموڈٹی چین میں پھیل گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے اثرات کھاد (جس کا 30 فیصد آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے)، پلاسٹک کی تیاری میں استعمال ہونے والی پولی ایتھیلین (50 فیصد)، سیمی کنڈکٹرز اور مصنوعی ذہانت کی صنعت کے لیے نہایت اہم ہیلیم (تقریباً 33 فیصد) تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح عالمی شپنگ اور انشورنس لاگت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث ایران جنگ کو کووڈ-19 کے بعد بحری تجارت اور عالمی سپلائی چینز کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مزید یہ کہ چونکہ جسمانی انفرااسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے، اس لیے اس کے اثرات طویل المدت ہو سکتے ہیں؛ قطر کے اندازے کے مطابق بعض مائع قدرتی گیس کی تنصیبات کی بحالی میں پانچ سال تک لگ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان نے خارجہ پالیسی کے میدان میں جس مشن پر مبنی حکمتِ عملی اختیار کی، اس نے امن کے ارادے کو عملی نتائج میں بدلنے میں مدد دی۔ اب اسی مقصدی اور نتیجہ خیز طرزِ فکر کو معاشی میدان تک بھی وسعت دینے کی ضرورت ہے، نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی، ایک نئے متحرک کثیرالطرفہ نظام کی صورت میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک جامع نقطۂ نظر کے تحت معیشت کو ماحول، توانائی اور صحت جیسے شعبوں کے ساتھ جوڑتے ہوئے “گرین اکانومی” کی طرف پیش رفت ناگزیر ہے، جبکہ نو لبرل اور کفایت شعاری پر مبنی ایسی پالیسیوں کے اثرات کو بھی تسلیم کرنا ہوگا جو مجموعی طلب کو دبا دیتی ہیں۔ یہ فہم نہ صرف قومی پالیسی سازوں بلکہ عالمی طاقتوں کے مرکزی بینکوں اور خزانہ جات کے لیے بھی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ وقت ایک فیصلہ کن موڑ ہونا چاہیے جہاں اس نوعیت کی گہری نظرثانی کی جائے، تاکہ ایک حقیقی ”نیو نارمل“ کی طرف پیش رفت ممکن ہو سکے۔ اس سے قبل بھی متعدد بڑے مواقع، 2007-08 کا عالمی مالیاتی بحران، کووڈ-19 وبا، یوکرین جنگ، غزہ میں انسانی بحران اور ماحولیاتی تباہ کاریاں، ایسی ہی سنجیدہ غور و فکر کا تقاضا کرتے رہے ہیں مگر اکثر انہیں مکمل طور پر بروئے کار نہیں لایا جا سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرین ٹرانزیشن ناگزیر ہے تاکہ کاربن اخراج میں نمایاں کمی لائی جا سکے اور توانائی پر مبنی تنازعات کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔ موجودہ صورتحال اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ عالمی معیشت اب بھی بڑے پیمانے پر تیل پر انحصار کرتی ہے، جو سیاست اور سفارت کاری دونوں کا ایک اہم تعین کنندہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے 6 اپریل کو فارن افیئرز میں شائع مضمون ”دی ایران شاک“ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ صاف توانائی میں پیش رفت ہوئی ہے، لیکن عالمی توانائی کی 80 فیصد سے زائد طلب اب بھی فوسل فیولز پر منحصر ہے۔ مضمون کے مطابق تیل کی عالمی مارکیٹ میں جھٹکے اب بھی عام ہیں اور ان کے اثرات شدید ہو سکتے ہیں، کیونکہ قیمتوں میں اضافہ ہر ملک میں ایندھن کی لاگت کو متاثر کرتا ہے، چاہے وہ تیل برآمد کرنے والا ہو یا درآمد کرنے والا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی مضمون میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ قدرتی گیس کی رسد میں جھٹکے ایشیا اور یورپ کو متاثر کرتے ہیں، تاہم امریکا نسبتاً محفوظ رہتا ہے کیونکہ وہاں مائع قدرتی گیس کی برآمدی صلاحیت محدود ہے۔ اگرچہ امریکی پیداوار عالمی قیمتوں سے فائدہ اٹھا سکتی ہے، لیکن گھریلو صارفین اور توانائی پر انحصار کرنے والی صنعتیں اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی امن کے لیے اس فعال سفارتی کوشش کو سراہتے ہوئے 8 اپریل کی بلومبرگ رپورٹ ”پاکستانز میڈی ایشن آف یو ایس ایران سیز فائر شووز سینٹرل رول ان گلوبل پولیٹکس“ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ایک بڑے تنازع میں کمی لانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، جس نے نہ صرف ہزاروں جانیں متاثر کیں بلکہ ایک ایسی توانائی بحران کی صورت حال پیدا کی جو وسیع تر معاشی نقصان کا باعث بن سکتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق پاکستان نے اپنے محدود توانائی وسائل کے باوجود سعودی عرب، ایران، امریکا اور چین کے ساتھ قریبی روابط کو بروئے کار لاتے ہوئے فریقین کے درمیان رابطے کا کردار ادا کیا۔ نیویارک میں ایشیا سوسائٹی پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر فاروہ عامر کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کی “حاشیائی کردار سے نکل کر ایک قابلِ اعتماد ثالث” کے طور پر ابھرنے کی علامت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ شعور اور استقامت اس اشرافی گرفت میں دراڑ ڈالے جو ملک کو بار بار خود نقصان دہ اور غلط نو لبرل اور کفایت شعاری پر مبنی پالیسی فریم ورک میں جکڑے رکھتی ہے، یہ وہ ذہنیت ہے جو کثیرالجہتی مالیاتی اداروں جیسے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک سے جڑی ہوئی ہے، اور جسے اندرونِ ملک پالیسی سازی میں ”شکاگو بوائز“ طرز کے ماہرینِ معیشت آگے بڑھاتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسی بھی ملک کی عالمی برادری میں حیثیت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اقتصادی، سیاسی اور سفارتی سطح پر مضبوط اور پائیدار بنیادوں پر کھڑا ہو، جہاں یہ تمام عناصر داخلی استحکام اور اجتماعی کوشش کے ساتھ ہم آہنگ ہوں اور بیرونی دنیا سے تعلقات بھی اسی مضبوطی کی عکاسی کریں۔ ایسے عمل کے لیے معمول کے حالات میں بھی ایک مشن پر مبنی حکمتِ عملی درکار ہوتی ہے، اور موجودہ دور جیسے کثیر الجہتی بحرانوں کے زمانے میں یہ ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے، تاکہ ایسے خود غرض، استحصالی اور قلیل المدتی مفادات رکھنے والے اشرافی گروہوں کے اثر کو روکا جا سکے جو ایک طرح کے اشرافی اقتدار (اولیگارکی) کی صورت میں اکٹھے ہو جاتے ہیں، جیسے قدیم رومی سلطنت کے ”اُوپٹیمَیٹس“ اور جن کے ساتھ وہ طبقات بھی جڑے ہوتے ہیں جو ریاست کے بجائے انہی اشرافیہ پر انحصار کر کے اپنی معاشی بقا حاصل کرتے ہیں، کیونکہ ریاست نے تعلیم اور معاشی بااختیاری کے نظام کو کمزور کر دیا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ مشرقِ وسطیٰ کا موجودہ تنازع اس امر کو بھی نمایاں کرتا ہے کہ معیشت میں ریاستی شعبے کا کردار کس حد تک ہونا چاہیے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ ریاستی اداروں کی کمزور اقتصادی مزاحمت اور جھٹکوں سے نمٹنے کی ناقص تیاری کس طرح بڑے بحرانوں کو جنم دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں پالیسی مباحث بظاہر اکثر پرانی شراب نئی بوتل میں پیش کرنے کے مترادف دکھائی دیتے ہیں، جہاں ”شکاگو بوائز“ طرز کے ماہرین ہر دور میں پالیسی حلقوں اور میڈیا مباحث میں غالب رہتے ہیں، گویا نو لبرل ذہنیت کو برقرار رکھنا ہی اشرافی گرفت کے تسلسل کی بنیادی شرط ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ جہاں اصل پالیسی سازی ہونی چاہیے وہاں رائے کی جمہوریت نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کے بجائے ”رضامندی کی تشکیل“ (مینوفیکچرنگ کونسینٹ) کے ذریعے، جو کہ مکمل طور پر دائمی نہیں ہوتی کیونکہ انسانی شعور بالآخر آزادی کی طرف بڑھتا ہے، نو لبرل اور کفایت شعاری پر مبنی پالیسیوں کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ ”جمہوریت کے بحران“ کا تاثر برقرار رہے، اور عوام کو معاشی و تعلیمی طور پر اس حد تک محدود رکھا جائے کہ وہ اپنے نمائندوں کا احتساب موثر انداز میں نہ کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;المیہ یہ ہے کہ دہائیوں کے دوران جہاں ایک طرف اشرافیہ نے اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک محفوظ مالی مراکز میں دولت جمع کی ہے، وہیں نو لبرل اور کفایت شعاری کی پالیسیوں نے خود انہی معاشی و سیاسی ڈھانچوں کو کمزور کر دیا جو ریاستی و سماجی استحکام کے ضامن تھے، اور اس طرح ماحولیاتی بحران جیسے وجودی خطرات کو بھی تیز تر کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نو لبرل پالیسیوں نے ریاست کی صلاحیت اور کردار کو محدود کر دیا ہے۔ ایک طرف اس نے مالیاتی اور منصوبہ بندی کی وزارتوں سمیت ریاستی اداروں اور سرکاری اداروں کی انتظامی و پیداواری صلاحیت کو کمزور کیا ہے، اور دوسری طرف کفایت شعاری کی پالیسیوں نے مجموعی طلب کو دبا کر اور سرمایہ کاری کو محدود کر کے نہ صرف معاشی ترقی بلکہ سیاسی آواز کو بھی کمزور کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں ایک خطرناک جمود پیدا ہو رہا ہے، جہاں پہلے ریاست کو ناکام بنا کر اس کی کارکردگی کمزور کی جاتی ہے، اور پھر یہی دلیل دی جاتی ہے کہ چونکہ ریاست موثر نہیں، اس لیے نجکاری اور ڈی ریگولیشن ہی واحد حل ہے۔ تاہم یہ مفروضہ کہ یہی واحد راستہ ہے، دراصل معیشت کے پیچیدہ حقائق کو نظر انداز کرتا ہے، کیونکہ اصل میں موثر کارکردگی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب ریاست اور مارکیٹ دونوں اپنے اپنے دائرے میں متوازن اور فعال کردار ادا کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے اگر توانائی کی مارکیٹ میں ڈی ریگولیشن کی بات کی جاتی ہے تو پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں، جہاں ادارہ جاتی کمزوریاں پہلے ہی موجود ہیں اور معلوماتی عدم توازن اور زیادہ لین دین کے اخراجات عام ہیں، وہاں ایسے اقدامات قیمتوں میں ناجائز اضافے اور منافع خوری کے خطرات بڑھا دیتے ہیں، خصوصاً ایسے بحران کے وقت جیسے موجودہ مشرقِ وسطیٰ کا تنازع۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے پالیسی سطح پر ریاست کی موجودگی ضروری ہے تاکہ قیمتوں کی منصفانہ تشکیل کو یقینی بنایا جا سکے اور منافع کے غیر ضروری مارجن کو قابو میں رکھا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ قیمتوں میں بگاڑ کو کم سے کم کیا جائے، مگر اس میں بنیادی توجہ ان بگاڑوں کے خاتمے پر ہونی چاہیے جو ٹیکسوں اور لیویز کی صورت میں پیدا ہوتے ہیں، جبکہ سبسڈی کو سماجی تحفظ اور معاشی استحکام کے وسیع تر اہداف کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح قیمتوں پر کنٹرول کا مقصد معیشت میں استحکام اور قابلِ پیش گوئی ماحول پیدا کرنا ہے، تاکہ پیداواری لاگت، برآمدات، اور صارفین کی قوتِ خرید کو تحفظ مل سکے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب مہنگائی کی وجہ سے اجرتوں میں اضافہ قیمتوں کے مقابلے میں بہت سست ہوتا ہے، اور تیل جیسے بیرونی جھٹکوں کے باعث مہنگائی میں تیز اضافہ پورے معاشی ڈھانچے، خصوصاً خوراک اور ٹرانسپورٹ، کو متاثر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;چین میں ’ڈبل ٹریک‘ قیمتوں کے نظام کا کامیاب نفاذ اس حوالے سے ایک اہم مثال کے طور پر سامنے آتا ہے کہ کس طرح معیشت کے لیے اہم اجناس کی قیمتوں پر کنٹرول کا ایسا نظام قائم کیا جا سکتا ہے جو ایک طرف گھریلو صارفین کی قوتِ خرید کا تحفظ کرے اور دوسری طرف کمزور مارکیٹ ریگولیشن کے باعث برآمدات کی مسابقت کو نمایاں طور پر متاثر ہونے سے بچائے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا، ڈی ریگولیشن کے بجائے معیشت کے اہم شعبوں میں، بالخصوص ان نتائج کے تناظر میں جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے، اگرچہ یہ فہرست مکمل نہیں اور مزید اثرات بھی ہو سکتے ہیں، ریاستی اداروں کی فعال شمولیت ناگزیر ہے، جہاں وہ نجی شعبے کے ساتھ مل کر مارکیٹوں کی مشترکہ تشکیل ( کو۔ کریئیشن) میں کردار ادا کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشرقِ وسطیٰ کے تنازع میں دو ہفتے کی جنگ بندی کے بعد عارضی وقفہ پیدا ہوا ہے، جس میں پاکستان نے ثالثی کے عمل میں اہم کردار ادا کیا اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اسلام آباد میں ہفتے کے آخر میں ہونے والے مذاکرات کے ذریعے خطے میں دیرپا امن معاہدے کی راہ ہموار ہو سکے گی۔</strong></p>
<p>تاہم جنگ نازک بنیادوں پر قائم ہے کیونکہ یہ جنگ بندی کے بنیادی تقاضوں کے مطابق جاری ہے۔ 8 اپریل کو بلومبرگ میں شائع ہونے والی رپورٹ ’وینس ٹو لیڈ ایران مذاکرات‘ جیسا کہ تہران کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی گئی ہے’ میں حالیہ صورت حال کی بات کی گئی ہے، وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ براہ راست بات کرے گا،تاہم مشرقِ وسطیٰ میں جاری لڑائی اور لبنان پر اسرائیلی حملوں کے باعث یہ کمزور جنگ بندی خطرے سے دوچار ہو سکتی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس ایک امریکی وفد کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد کا دورہ کریں گے، اس وفد میں خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔</p>
<p>مذاکرات کا پہلا دور مقامی وقت کے مطابق ہفتے کی صبح طے ہے، تاہم جمعرات کی صبح تک آبنائے ہرمز بڑی حد تک بند رہی، جو جنگ بندی کے لیے امریکا کی ایک اہم شرط پر پورا نہیں اترتی۔</p>
<p>جانی نقصان کے فوری سدباب کے علاوہ، ابتدائی طور پر آبنائے ہرمز کا کھلنا، اس سے قبل کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزی کے باعث یہ دوبارہ بند ہو جائے، اور مجموعی طور پر جنگ بندی کے مثبت اثرات نے مالیاتی منڈیوں میں واضح بہتری پیدا کی۔ مثال کے طور پر برینٹ کروڈ کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی، اور بلومبرگ کے مطابق جمعرات کو یہ 97 ڈالر فی بیرل سے کچھ اوپر رہی۔</p>
<p>جنگ بندی کے وسیع تر معاشی اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے 8 اپریل کو دی گارڈین میں شائع رپورٹ ‘سیز فائر برنگز ریلیف ٹو فنانشل مارکیٹس، بٹ اٹ از فار فرام ایبسولیٹ’ میں کہا گیا کہ تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی، اسٹاک مارکیٹ میں تیزی اور عالمی معاشی منظرنامے کے حوالے سے نئی امیدیں پیدا ہوئی ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ایران جنگ میں دو ہفتے کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد مالیاتی منڈیوں میں واضح ریلیف دیکھا گیا، تاہم یہ ریلیف مکمل اور حتمی نہیں ہے۔ بدھ کے روز تیل کی قیمتوں میں 10 فیصد سے زائد کمی کے باوجود برینٹ کروڈ اب بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر ہے، جو جنگ سے قبل عالمی معیار کے مطابق 73 ڈالر فی بیرل سے نیچے کی سطح کے مقابلے میں خاصا زیادہ ہے۔</p>
<p>مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اگرچہ معیشت کو پہنچنے والے شدید روزمرہ نقصان میں کچھ کمی آئی ہے، تاہم انسانی جانوں کا نقصان، خصوصاً اسرائیل کے لبنان پر مسلسل حملوں کی صورت میں، بدستور جاری ہے۔ اس وقفے نے کم از کم اتنا موقع ضرور فراہم کیا ہے کہ اب تک ہونے والے غیر معمولی اور بے مثال اثرات کا سنجیدہ جائزہ لیا جا سکے۔</p>
<p>مئی 7 کو پروجیکٹ سنڈیکیٹ میں شائع ہونے والے مضمون ”دی کمینگ انفلیشن-ڈیفلیشن وِپساؤ“ میں، جو جنگ بندی کے اعلان سے کچھ ہی قبل سامنے آیا، نشاندہی کی گئی کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ نے آبنائے ہرمز کے راستے میں خلل پیدا کر دیا ہے، جو عام طور پر دنیا کی روزانہ تقریباً 10 کروڑ بیرل تیل کی طلب کے لگ بھگ 20 فیصد کی ترسیل کا ذریعہ ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال عالمی تیل مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا رسد جھٹکا ہے۔ موازنہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ 1973 کی عرب آئل پابندی، 1990 کی خلیجی جنگ اور 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے نے عالمی رسد کو بالترتیب 7 فیصد، 6.5 فیصد اور 3 فیصد تک متاثر کیا تھا۔ اس کے برعکس موجودہ بحران کے بعد نہ صرف تیل اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں 30 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے بلکہ یہ جھٹکا پوری کموڈٹی چین میں پھیل گیا ہے۔</p>
<p>اس کے اثرات کھاد (جس کا 30 فیصد آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے)، پلاسٹک کی تیاری میں استعمال ہونے والی پولی ایتھیلین (50 فیصد)، سیمی کنڈکٹرز اور مصنوعی ذہانت کی صنعت کے لیے نہایت اہم ہیلیم (تقریباً 33 فیصد) تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح عالمی شپنگ اور انشورنس لاگت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث ایران جنگ کو کووڈ-19 کے بعد بحری تجارت اور عالمی سپلائی چینز کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مزید یہ کہ چونکہ جسمانی انفرااسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے، اس لیے اس کے اثرات طویل المدت ہو سکتے ہیں؛ قطر کے اندازے کے مطابق بعض مائع قدرتی گیس کی تنصیبات کی بحالی میں پانچ سال تک لگ سکتے ہیں۔</p>
<p>یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان نے خارجہ پالیسی کے میدان میں جس مشن پر مبنی حکمتِ عملی اختیار کی، اس نے امن کے ارادے کو عملی نتائج میں بدلنے میں مدد دی۔ اب اسی مقصدی اور نتیجہ خیز طرزِ فکر کو معاشی میدان تک بھی وسعت دینے کی ضرورت ہے، نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی، ایک نئے متحرک کثیرالطرفہ نظام کی صورت میں۔</p>
<p>ایک جامع نقطۂ نظر کے تحت معیشت کو ماحول، توانائی اور صحت جیسے شعبوں کے ساتھ جوڑتے ہوئے “گرین اکانومی” کی طرف پیش رفت ناگزیر ہے، جبکہ نو لبرل اور کفایت شعاری پر مبنی ایسی پالیسیوں کے اثرات کو بھی تسلیم کرنا ہوگا جو مجموعی طلب کو دبا دیتی ہیں۔ یہ فہم نہ صرف قومی پالیسی سازوں بلکہ عالمی طاقتوں کے مرکزی بینکوں اور خزانہ جات کے لیے بھی ضروری ہے۔</p>
<p>موجودہ وقت ایک فیصلہ کن موڑ ہونا چاہیے جہاں اس نوعیت کی گہری نظرثانی کی جائے، تاکہ ایک حقیقی ”نیو نارمل“ کی طرف پیش رفت ممکن ہو سکے۔ اس سے قبل بھی متعدد بڑے مواقع، 2007-08 کا عالمی مالیاتی بحران، کووڈ-19 وبا، یوکرین جنگ، غزہ میں انسانی بحران اور ماحولیاتی تباہ کاریاں، ایسی ہی سنجیدہ غور و فکر کا تقاضا کرتے رہے ہیں مگر اکثر انہیں مکمل طور پر بروئے کار نہیں لایا جا سکا۔</p>
<p>گرین ٹرانزیشن ناگزیر ہے تاکہ کاربن اخراج میں نمایاں کمی لائی جا سکے اور توانائی پر مبنی تنازعات کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔ موجودہ صورتحال اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ عالمی معیشت اب بھی بڑے پیمانے پر تیل پر انحصار کرتی ہے، جو سیاست اور سفارت کاری دونوں کا ایک اہم تعین کنندہ ہے۔</p>
<p>اس حوالے سے 6 اپریل کو فارن افیئرز میں شائع مضمون ”دی ایران شاک“ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ صاف توانائی میں پیش رفت ہوئی ہے، لیکن عالمی توانائی کی 80 فیصد سے زائد طلب اب بھی فوسل فیولز پر منحصر ہے۔ مضمون کے مطابق تیل کی عالمی مارکیٹ میں جھٹکے اب بھی عام ہیں اور ان کے اثرات شدید ہو سکتے ہیں، کیونکہ قیمتوں میں اضافہ ہر ملک میں ایندھن کی لاگت کو متاثر کرتا ہے، چاہے وہ تیل برآمد کرنے والا ہو یا درآمد کرنے والا۔</p>
<p>اسی مضمون میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ قدرتی گیس کی رسد میں جھٹکے ایشیا اور یورپ کو متاثر کرتے ہیں، تاہم امریکا نسبتاً محفوظ رہتا ہے کیونکہ وہاں مائع قدرتی گیس کی برآمدی صلاحیت محدود ہے۔ اگرچہ امریکی پیداوار عالمی قیمتوں سے فائدہ اٹھا سکتی ہے، لیکن گھریلو صارفین اور توانائی پر انحصار کرنے والی صنعتیں اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہتیں۔</p>
<p>پاکستان کی امن کے لیے اس فعال سفارتی کوشش کو سراہتے ہوئے 8 اپریل کی بلومبرگ رپورٹ ”پاکستانز میڈی ایشن آف یو ایس ایران سیز فائر شووز سینٹرل رول ان گلوبل پولیٹکس“ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ایک بڑے تنازع میں کمی لانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، جس نے نہ صرف ہزاروں جانیں متاثر کیں بلکہ ایک ایسی توانائی بحران کی صورت حال پیدا کی جو وسیع تر معاشی نقصان کا باعث بن سکتی تھی۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق پاکستان نے اپنے محدود توانائی وسائل کے باوجود سعودی عرب، ایران، امریکا اور چین کے ساتھ قریبی روابط کو بروئے کار لاتے ہوئے فریقین کے درمیان رابطے کا کردار ادا کیا۔ نیویارک میں ایشیا سوسائٹی پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر فاروہ عامر کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کی “حاشیائی کردار سے نکل کر ایک قابلِ اعتماد ثالث” کے طور پر ابھرنے کی علامت ہے۔</p>
<p>اب ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ شعور اور استقامت اس اشرافی گرفت میں دراڑ ڈالے جو ملک کو بار بار خود نقصان دہ اور غلط نو لبرل اور کفایت شعاری پر مبنی پالیسی فریم ورک میں جکڑے رکھتی ہے، یہ وہ ذہنیت ہے جو کثیرالجہتی مالیاتی اداروں جیسے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک سے جڑی ہوئی ہے، اور جسے اندرونِ ملک پالیسی سازی میں ”شکاگو بوائز“ طرز کے ماہرینِ معیشت آگے بڑھاتے رہے ہیں۔</p>
<p>کسی بھی ملک کی عالمی برادری میں حیثیت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اقتصادی، سیاسی اور سفارتی سطح پر مضبوط اور پائیدار بنیادوں پر کھڑا ہو، جہاں یہ تمام عناصر داخلی استحکام اور اجتماعی کوشش کے ساتھ ہم آہنگ ہوں اور بیرونی دنیا سے تعلقات بھی اسی مضبوطی کی عکاسی کریں۔ ایسے عمل کے لیے معمول کے حالات میں بھی ایک مشن پر مبنی حکمتِ عملی درکار ہوتی ہے، اور موجودہ دور جیسے کثیر الجہتی بحرانوں کے زمانے میں یہ ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے، تاکہ ایسے خود غرض، استحصالی اور قلیل المدتی مفادات رکھنے والے اشرافی گروہوں کے اثر کو روکا جا سکے جو ایک طرح کے اشرافی اقتدار (اولیگارکی) کی صورت میں اکٹھے ہو جاتے ہیں، جیسے قدیم رومی سلطنت کے ”اُوپٹیمَیٹس“ اور جن کے ساتھ وہ طبقات بھی جڑے ہوتے ہیں جو ریاست کے بجائے انہی اشرافیہ پر انحصار کر کے اپنی معاشی بقا حاصل کرتے ہیں، کیونکہ ریاست نے تعلیم اور معاشی بااختیاری کے نظام کو کمزور کر دیا ہوتا ہے۔</p>
<p>مزید یہ کہ مشرقِ وسطیٰ کا موجودہ تنازع اس امر کو بھی نمایاں کرتا ہے کہ معیشت میں ریاستی شعبے کا کردار کس حد تک ہونا چاہیے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ ریاستی اداروں کی کمزور اقتصادی مزاحمت اور جھٹکوں سے نمٹنے کی ناقص تیاری کس طرح بڑے بحرانوں کو جنم دیتی ہے۔</p>
<p>پاکستان میں پالیسی مباحث بظاہر اکثر پرانی شراب نئی بوتل میں پیش کرنے کے مترادف دکھائی دیتے ہیں، جہاں ”شکاگو بوائز“ طرز کے ماہرین ہر دور میں پالیسی حلقوں اور میڈیا مباحث میں غالب رہتے ہیں، گویا نو لبرل ذہنیت کو برقرار رکھنا ہی اشرافی گرفت کے تسلسل کی بنیادی شرط ہو۔</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ جہاں اصل پالیسی سازی ہونی چاہیے وہاں رائے کی جمہوریت نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کے بجائے ”رضامندی کی تشکیل“ (مینوفیکچرنگ کونسینٹ) کے ذریعے، جو کہ مکمل طور پر دائمی نہیں ہوتی کیونکہ انسانی شعور بالآخر آزادی کی طرف بڑھتا ہے، نو لبرل اور کفایت شعاری پر مبنی پالیسیوں کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ ”جمہوریت کے بحران“ کا تاثر برقرار رہے، اور عوام کو معاشی و تعلیمی طور پر اس حد تک محدود رکھا جائے کہ وہ اپنے نمائندوں کا احتساب موثر انداز میں نہ کر سکیں۔</p>
<p>المیہ یہ ہے کہ دہائیوں کے دوران جہاں ایک طرف اشرافیہ نے اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک محفوظ مالی مراکز میں دولت جمع کی ہے، وہیں نو لبرل اور کفایت شعاری کی پالیسیوں نے خود انہی معاشی و سیاسی ڈھانچوں کو کمزور کر دیا جو ریاستی و سماجی استحکام کے ضامن تھے، اور اس طرح ماحولیاتی بحران جیسے وجودی خطرات کو بھی تیز تر کر دیا۔</p>
<p>نو لبرل پالیسیوں نے ریاست کی صلاحیت اور کردار کو محدود کر دیا ہے۔ ایک طرف اس نے مالیاتی اور منصوبہ بندی کی وزارتوں سمیت ریاستی اداروں اور سرکاری اداروں کی انتظامی و پیداواری صلاحیت کو کمزور کیا ہے، اور دوسری طرف کفایت شعاری کی پالیسیوں نے مجموعی طلب کو دبا کر اور سرمایہ کاری کو محدود کر کے نہ صرف معاشی ترقی بلکہ سیاسی آواز کو بھی کمزور کر دیا ہے۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں ایک خطرناک جمود پیدا ہو رہا ہے، جہاں پہلے ریاست کو ناکام بنا کر اس کی کارکردگی کمزور کی جاتی ہے، اور پھر یہی دلیل دی جاتی ہے کہ چونکہ ریاست موثر نہیں، اس لیے نجکاری اور ڈی ریگولیشن ہی واحد حل ہے۔ تاہم یہ مفروضہ کہ یہی واحد راستہ ہے، دراصل معیشت کے پیچیدہ حقائق کو نظر انداز کرتا ہے، کیونکہ اصل میں موثر کارکردگی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب ریاست اور مارکیٹ دونوں اپنے اپنے دائرے میں متوازن اور فعال کردار ادا کریں۔</p>
<p>اسی لیے اگر توانائی کی مارکیٹ میں ڈی ریگولیشن کی بات کی جاتی ہے تو پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں، جہاں ادارہ جاتی کمزوریاں پہلے ہی موجود ہیں اور معلوماتی عدم توازن اور زیادہ لین دین کے اخراجات عام ہیں، وہاں ایسے اقدامات قیمتوں میں ناجائز اضافے اور منافع خوری کے خطرات بڑھا دیتے ہیں، خصوصاً ایسے بحران کے وقت جیسے موجودہ مشرقِ وسطیٰ کا تنازع۔</p>
<p>اس لیے پالیسی سطح پر ریاست کی موجودگی ضروری ہے تاکہ قیمتوں کی منصفانہ تشکیل کو یقینی بنایا جا سکے اور منافع کے غیر ضروری مارجن کو قابو میں رکھا جا سکے۔</p>
<p>ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ قیمتوں میں بگاڑ کو کم سے کم کیا جائے، مگر اس میں بنیادی توجہ ان بگاڑوں کے خاتمے پر ہونی چاہیے جو ٹیکسوں اور لیویز کی صورت میں پیدا ہوتے ہیں، جبکہ سبسڈی کو سماجی تحفظ اور معاشی استحکام کے وسیع تر اہداف کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔</p>
<p>اسی طرح قیمتوں پر کنٹرول کا مقصد معیشت میں استحکام اور قابلِ پیش گوئی ماحول پیدا کرنا ہے، تاکہ پیداواری لاگت، برآمدات، اور صارفین کی قوتِ خرید کو تحفظ مل سکے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب مہنگائی کی وجہ سے اجرتوں میں اضافہ قیمتوں کے مقابلے میں بہت سست ہوتا ہے، اور تیل جیسے بیرونی جھٹکوں کے باعث مہنگائی میں تیز اضافہ پورے معاشی ڈھانچے، خصوصاً خوراک اور ٹرانسپورٹ، کو متاثر کرتا ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>چین میں ’ڈبل ٹریک‘ قیمتوں کے نظام کا کامیاب نفاذ اس حوالے سے ایک اہم مثال کے طور پر سامنے آتا ہے کہ کس طرح معیشت کے لیے اہم اجناس کی قیمتوں پر کنٹرول کا ایسا نظام قائم کیا جا سکتا ہے جو ایک طرف گھریلو صارفین کی قوتِ خرید کا تحفظ کرے اور دوسری طرف کمزور مارکیٹ ریگولیشن کے باعث برآمدات کی مسابقت کو نمایاں طور پر متاثر ہونے سے بچائے۔</p>
</blockquote>
<p>لہٰذا، ڈی ریگولیشن کے بجائے معیشت کے اہم شعبوں میں، بالخصوص ان نتائج کے تناظر میں جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے، اگرچہ یہ فہرست مکمل نہیں اور مزید اثرات بھی ہو سکتے ہیں، ریاستی اداروں کی فعال شمولیت ناگزیر ہے، جہاں وہ نجی شعبے کے ساتھ مل کر مارکیٹوں کی مشترکہ تشکیل ( کو۔ کریئیشن) میں کردار ادا کریں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284896</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Apr 2026 17:55:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر عمر جاوید)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/10171348d2598bc.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/10171348d2598bc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
