<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>معاشی خطرات کے تدارک کے لیے ہنگامی اقدامات کی ضرورت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284880/</link>
      <description>&lt;p&gt;قطر انرجی نے ایل این جی کی فراہمی کے اپنے کچھ طویل مدتی معاہدوں پر فورس میجر کا نفاذ کردیا ہے جن میں اٹلی، بلجیم، جنوبی کوریا اور چین کے صارفین شامل ہیں۔ فورس میجر ایک ایسی قانونی شق ہے جو کسی پابند معاہدے میں شامل فریق کو غیر متوقع اور ناگزیر حالات کی بنیاد پر اپنی ذمہ داریوں سے استثنیٰ کی اجازت دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی صورتحال کے پیشِ نظر شیل نے بھی 10 مارچ کو اپنے ایل این جی  صارفین کیلئے فورس میجر کا اعلان کردیا تھا۔ نورسک ہائیڈرو، ایلومینیم بحرین اور عمان کی او کیو سمیت کئی صنعتی اور تجارتی ادارے گیس کی سپلائی میں کمی اور سپلائی چین کی خرابی کی وجہ سے اپنی پیداوار کم کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کویت کی پٹرولیم کمپنیوں نے 7 مارچ کو اور بحرین کی باپکو انرجیزنے 9 مارچ کو فورس میجر کا اعلان کیا، یہ اقدامات خلیجی ریاستوں میں امریکی مفادات اور اسرائیل کے خلاف ایرانی حملوں کے باعث کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب کی پٹرو کیمیکل کمپنی سابک جس کے 70 فیصد حصص دنیا کے سب سے بڑے خام تیل برآمد کنندہ سعودی آرامکو کی ملکیت ہیں نے 26 مارچ کو فورس میجر کا اعلان کردیا۔ سالانہ 50 لاکھ ٹن سے زائد میتھانول اور 70 لاکھ ٹن ای جی  مصنوعات (جیسے مونو ایتھیلین گلائیکول) تیار کرنے والی اس کمپنی کی فروخت آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث مسلسل متاثر ہورہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی سپلائی میں آنے والے تعطل نے امریکہ سمیت دنیا بھر کی معیشتوں کو متاثر کیا ہے حالانکہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی خریداری پر بہت کم انحصار کرتا ہے لیکن اس کے باوجود وہاں پٹرول پمپوں پر قیمتوں میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوال یہ ہے کہ کیا کورونا وبا  کا تجربہ جو کہ ایک غیر معمولی واقعہ تھا، ان حالات کی صحیح عکاسی کرتا ہے جن سے دنیا اس وقت دوچار ہے؟ اس وقت ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جاری جنگ اور جواب میں ایران کی جوابی کارروائیاں ان 6 خلیجی ممالک تک پھیلی ہوئی ہیں جہاں امریکی فوجی اڈے اور وسیع امریکی معاشی مفادات کے ساتھ اسرائیل بھی موجود ہے۔ اس بات کے بڑھتے  شواہد موجود ہیں کہ مختلف معیشتوں پر پڑنے والے اثرات غیر مساوی ہیں جس میں ترقی پذیر ممالک کو ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ نقصان اٹھانا پڑرہا ہے،اگرچہ اب ان (ترقی یافتہ) ممالک کے شہری بھی ایندھن اور توانائی کی بڑھتی  قیمتوں کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی مثال لی جائے تو اسے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت نافذالعمل سخت  سکڑتی مانیٹری اور مالی پالیسیوں سے اس وقت بڑا ریلیف ملا جب 2020 کے آغاز سے 2021 کے اختتام تک ان پالیسیوں کو معطل کردیا گیا، تاہم 2022 تک آئی ایم ایف نے اصرار کیا کہ حکومت پہلے سے طے شدہ پالیسیوں پر عمل درآمد شروع کرے جس کے نتیجے میں اسی سال کے وسط تک اسٹاف لیول معاہدہ طے پاگیا، لیکن اکتوبر تک اس وقت کی انتظامیہ نے دو طے شدہ شرائط کی خلاف ورزی کی: اول ایسے وقت میں صنعت کو بجلی پر سبسڈی دی گئی جب سیلاب کی وجہ سے 3 کروڑ سے زائد لوگ کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور تھے اور دوم روپے اور ڈالر کی شرح مبادلہ کو مصنوعی طریقے سے کنٹرول کیا گیا جس کی وجہ سے ڈالر کے مختلف ریٹس پیدا ہوئے اور ترسیلاتِ زر میں 4 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔ ان اقدامات نے آئی ایم ایف کو پروگرام معطل کرنے پر مجبور کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معطلی کے بعد سے پاکستان اب تک آئی ایم ایف کے مزید دو پروگرام حاصل کرچکا اور اس وقت اسے مشرقِ وسطیٰ کے جاری تنازع کے نتیجے میں ایندھن کی فراہمی میں شدید رکاوٹوں کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے پہلے قیمتوں اور پٹرولیم لیوی میں اضافہ کیا تاکہ ممکنہ طور پر اس ریونیو شارٹ فال کو کم کیا جاسکے جو جنگ کے آغاز سے پہلے ہی واضح ہو چکا تھا لیکن عوامی سطح پر شدید احتجاج اور غم وغصے کے باعث حکومت کو اپنے قدم پیچھے ہٹانے پڑے۔ آج اس بارے میں بہت کم وضاحت موجود ہے کہ ان سبسڈیز پر ٹیکس دہندگان کی کتنی لاگت آئے گی اور حکومتی کفایت شعاری پیکج سے کتنی بچت حاصل ہوسکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف یقیناً اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ عالمی بینک کے مطابق اس ملک میں غربت کی شرح 42.4 فیصد کی بلند سطح تک پہنچ چکی ہے۔ معاشی استحکام کے دعوے دراصل غیر ملکی قرضوں کے حصول پر مبنی تھے جس کی بدولت ملک ضروری اشیاء درآمد کرنے اور ساتھ ہی روپے کی قدر کو سہارا دینے کے قابل ہوا۔ مشرقِ وسطیٰ کے بھرپور تنازع کے باعث پاکستان اب نہ صرف ضروری اشیاء کی فراہمی میں رکاوٹوں سے نبرد آزما ہے بلکہ اسے برآمدات کی ہموار ترسیل اور ترسیلاتِ زر کی آمد کو یقینی بنانے میں بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر جارجیوا نے بیان دیا کہ اس غیر یقینی دنیا میں اب زیادہ ممالک کو زیادہ تعاون کی ضرورت ہے اور ہم ان کی مدد کیلئے موجود ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ ان کے اس بیان کا اطلاق پاکستان پر بھی ہو گا اور کڑی پیشگی شرائط کو اس وقت تک کے لیے موخر کردیا جائے گا جب تک عالمی سپلائی چین میں پیدا ہونے والا تعطل ختم نہیں ہو جاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>قطر انرجی نے ایل این جی کی فراہمی کے اپنے کچھ طویل مدتی معاہدوں پر فورس میجر کا نفاذ کردیا ہے جن میں اٹلی، بلجیم، جنوبی کوریا اور چین کے صارفین شامل ہیں۔ فورس میجر ایک ایسی قانونی شق ہے جو کسی پابند معاہدے میں شامل فریق کو غیر متوقع اور ناگزیر حالات کی بنیاد پر اپنی ذمہ داریوں سے استثنیٰ کی اجازت دیتی ہے۔</p>
<p>اسی صورتحال کے پیشِ نظر شیل نے بھی 10 مارچ کو اپنے ایل این جی  صارفین کیلئے فورس میجر کا اعلان کردیا تھا۔ نورسک ہائیڈرو، ایلومینیم بحرین اور عمان کی او کیو سمیت کئی صنعتی اور تجارتی ادارے گیس کی سپلائی میں کمی اور سپلائی چین کی خرابی کی وجہ سے اپنی پیداوار کم کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔</p>
<p>کویت کی پٹرولیم کمپنیوں نے 7 مارچ کو اور بحرین کی باپکو انرجیزنے 9 مارچ کو فورس میجر کا اعلان کیا، یہ اقدامات خلیجی ریاستوں میں امریکی مفادات اور اسرائیل کے خلاف ایرانی حملوں کے باعث کیے گئے۔</p>
<p>سعودی عرب کی پٹرو کیمیکل کمپنی سابک جس کے 70 فیصد حصص دنیا کے سب سے بڑے خام تیل برآمد کنندہ سعودی آرامکو کی ملکیت ہیں نے 26 مارچ کو فورس میجر کا اعلان کردیا۔ سالانہ 50 لاکھ ٹن سے زائد میتھانول اور 70 لاکھ ٹن ای جی  مصنوعات (جیسے مونو ایتھیلین گلائیکول) تیار کرنے والی اس کمپنی کی فروخت آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث مسلسل متاثر ہورہی ہے۔</p>
<p>تیل کی سپلائی میں آنے والے تعطل نے امریکہ سمیت دنیا بھر کی معیشتوں کو متاثر کیا ہے حالانکہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی خریداری پر بہت کم انحصار کرتا ہے لیکن اس کے باوجود وہاں پٹرول پمپوں پر قیمتوں میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔</p>
<p>سوال یہ ہے کہ کیا کورونا وبا  کا تجربہ جو کہ ایک غیر معمولی واقعہ تھا، ان حالات کی صحیح عکاسی کرتا ہے جن سے دنیا اس وقت دوچار ہے؟ اس وقت ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جاری جنگ اور جواب میں ایران کی جوابی کارروائیاں ان 6 خلیجی ممالک تک پھیلی ہوئی ہیں جہاں امریکی فوجی اڈے اور وسیع امریکی معاشی مفادات کے ساتھ اسرائیل بھی موجود ہے۔ اس بات کے بڑھتے  شواہد موجود ہیں کہ مختلف معیشتوں پر پڑنے والے اثرات غیر مساوی ہیں جس میں ترقی پذیر ممالک کو ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ نقصان اٹھانا پڑرہا ہے،اگرچہ اب ان (ترقی یافتہ) ممالک کے شہری بھی ایندھن اور توانائی کی بڑھتی  قیمتوں کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔</p>
<p>پاکستان کی مثال لی جائے تو اسے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت نافذالعمل سخت  سکڑتی مانیٹری اور مالی پالیسیوں سے اس وقت بڑا ریلیف ملا جب 2020 کے آغاز سے 2021 کے اختتام تک ان پالیسیوں کو معطل کردیا گیا، تاہم 2022 تک آئی ایم ایف نے اصرار کیا کہ حکومت پہلے سے طے شدہ پالیسیوں پر عمل درآمد شروع کرے جس کے نتیجے میں اسی سال کے وسط تک اسٹاف لیول معاہدہ طے پاگیا، لیکن اکتوبر تک اس وقت کی انتظامیہ نے دو طے شدہ شرائط کی خلاف ورزی کی: اول ایسے وقت میں صنعت کو بجلی پر سبسڈی دی گئی جب سیلاب کی وجہ سے 3 کروڑ سے زائد لوگ کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور تھے اور دوم روپے اور ڈالر کی شرح مبادلہ کو مصنوعی طریقے سے کنٹرول کیا گیا جس کی وجہ سے ڈالر کے مختلف ریٹس پیدا ہوئے اور ترسیلاتِ زر میں 4 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔ ان اقدامات نے آئی ایم ایف کو پروگرام معطل کرنے پر مجبور کردیا۔</p>
<p>اس معطلی کے بعد سے پاکستان اب تک آئی ایم ایف کے مزید دو پروگرام حاصل کرچکا اور اس وقت اسے مشرقِ وسطیٰ کے جاری تنازع کے نتیجے میں ایندھن کی فراہمی میں شدید رکاوٹوں کا سامنا ہے۔</p>
<p>حکومت نے پہلے قیمتوں اور پٹرولیم لیوی میں اضافہ کیا تاکہ ممکنہ طور پر اس ریونیو شارٹ فال کو کم کیا جاسکے جو جنگ کے آغاز سے پہلے ہی واضح ہو چکا تھا لیکن عوامی سطح پر شدید احتجاج اور غم وغصے کے باعث حکومت کو اپنے قدم پیچھے ہٹانے پڑے۔ آج اس بارے میں بہت کم وضاحت موجود ہے کہ ان سبسڈیز پر ٹیکس دہندگان کی کتنی لاگت آئے گی اور حکومتی کفایت شعاری پیکج سے کتنی بچت حاصل ہوسکے گی۔</p>
<p>آئی ایم ایف یقیناً اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ عالمی بینک کے مطابق اس ملک میں غربت کی شرح 42.4 فیصد کی بلند سطح تک پہنچ چکی ہے۔ معاشی استحکام کے دعوے دراصل غیر ملکی قرضوں کے حصول پر مبنی تھے جس کی بدولت ملک ضروری اشیاء درآمد کرنے اور ساتھ ہی روپے کی قدر کو سہارا دینے کے قابل ہوا۔ مشرقِ وسطیٰ کے بھرپور تنازع کے باعث پاکستان اب نہ صرف ضروری اشیاء کی فراہمی میں رکاوٹوں سے نبرد آزما ہے بلکہ اسے برآمدات کی ہموار ترسیل اور ترسیلاتِ زر کی آمد کو یقینی بنانے میں بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر جارجیوا نے بیان دیا کہ اس غیر یقینی دنیا میں اب زیادہ ممالک کو زیادہ تعاون کی ضرورت ہے اور ہم ان کی مدد کیلئے موجود ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ ان کے اس بیان کا اطلاق پاکستان پر بھی ہو گا اور کڑی پیشگی شرائط کو اس وقت تک کے لیے موخر کردیا جائے گا جب تک عالمی سپلائی چین میں پیدا ہونے والا تعطل ختم نہیں ہو جاتا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284880</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Apr 2026 11:59:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/10115425d5ae9dc.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/10115425d5ae9dc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
