<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مہنگائی کا دباؤ برقرار، شرح نمو 3 فیصد تک محدود رہنے کی توقع، ورلڈ بینک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284879/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی بینک نے کہا ہے کہ پاکستان کی حقیقی جی ڈی پی شرح نمو جس کے بارے میں پہلے یہ تخمینہ لگایا گیا تھا کہ وہ مالی سال 2026 میں بڑھ کر 3.4 فیصد تک پہنچ جائے گی، اب اس کے 3 فیصد تک محدود رہنے کی توقع ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک نے مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کی معاشی صورتحال پر مبنی اپنی تازہ ترین رپورٹ (اپریل 2026) میں نوٹ کیا ہے کہ مالی سال 2025 میں پاکستان کی جی ڈی پی شرح نمو 3.1 فیصد رہی، جس کا رواں مالی سال کے لیے تخمینہ 3 فیصد لگایا گیا ہے۔ اس سے قبل اکتوبر 2025 میں، بینک نے رواں مالی سال کے لیے پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 3.4 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہنگائی کی شرح بلند رہنے کا امکان ہے، جس کا اوسط مالی سال 2025 میں 4.5 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے جو مالی سال 2026 میں بڑھ کر 7.4 فیصد تک پہنچ جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیرونی محاذ پر کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس میں بڑی تبدیلی متوقع ہے، مالی سال 2025 میں جی ڈی پی کے 0.5 فیصد کے سرپلس (بچت) کے مقابلے میں مالی سال 2026 میں یہ 1.2 فیصد خسارے میں بدل سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب مالی سال 2026 کے لیے مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا 4.3 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے جو مالی سال 2025 کے 5.4 فیصد خسارے کے مقابلے میں بہتر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری موجودہ تنازع خطے میں عدم استحکام کا واحد ذریعہ نہیں ہے۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تناؤ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، یمن کا انسانی بحران خوراک کی شدید عدم تحفظ کے باعث مزید بگڑ گیا ہے اور غزہ میں جاری نازک جنگ بندی بھی بڑھتے ہوئے دباؤ کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ کے میدانوں سے دور مصر، اردن اور پاکستان جیسی معیشتوں کو بالواسطہ لیکن ممکنہ طور پر شدید منفی اثرات  کا سامنا ہے۔ یہ اثرات ایندھن  کی بڑھتی قیمتوں، توانائی کی قلت اور خلیجی ممالک سے ترسیلاتِ زر  اور سیاحت میں کمی کی صورت میں منتقل ہورہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصر، اردن اور پاکستان جیسی کئی قریبی معیشتیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ ان پر پڑنے والے اثرات میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اچانک اضافے سے پیدا ہونے والا مہنگائی کا دباؤ، سیاحت اور ترسیلاتِ زر سے ہونے والی آمدن میں رکاوٹیں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں آنے والی کمی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی بینک نے کہا ہے کہ پاکستان کی حقیقی جی ڈی پی شرح نمو جس کے بارے میں پہلے یہ تخمینہ لگایا گیا تھا کہ وہ مالی سال 2026 میں بڑھ کر 3.4 فیصد تک پہنچ جائے گی، اب اس کے 3 فیصد تک محدود رہنے کی توقع ہے۔</strong></p>
<p>عالمی بینک نے مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کی معاشی صورتحال پر مبنی اپنی تازہ ترین رپورٹ (اپریل 2026) میں نوٹ کیا ہے کہ مالی سال 2025 میں پاکستان کی جی ڈی پی شرح نمو 3.1 فیصد رہی، جس کا رواں مالی سال کے لیے تخمینہ 3 فیصد لگایا گیا ہے۔ اس سے قبل اکتوبر 2025 میں، بینک نے رواں مالی سال کے لیے پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 3.4 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی تھی۔</p>
<p>مہنگائی کی شرح بلند رہنے کا امکان ہے، جس کا اوسط مالی سال 2025 میں 4.5 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے جو مالی سال 2026 میں بڑھ کر 7.4 فیصد تک پہنچ جائے گی۔</p>
<p>بیرونی محاذ پر کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس میں بڑی تبدیلی متوقع ہے، مالی سال 2025 میں جی ڈی پی کے 0.5 فیصد کے سرپلس (بچت) کے مقابلے میں مالی سال 2026 میں یہ 1.2 فیصد خسارے میں بدل سکتا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب مالی سال 2026 کے لیے مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا 4.3 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے جو مالی سال 2025 کے 5.4 فیصد خسارے کے مقابلے میں بہتر ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری موجودہ تنازع خطے میں عدم استحکام کا واحد ذریعہ نہیں ہے۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تناؤ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، یمن کا انسانی بحران خوراک کی شدید عدم تحفظ کے باعث مزید بگڑ گیا ہے اور غزہ میں جاری نازک جنگ بندی بھی بڑھتے ہوئے دباؤ کا شکار ہے۔</p>
<p>جنگ کے میدانوں سے دور مصر، اردن اور پاکستان جیسی معیشتوں کو بالواسطہ لیکن ممکنہ طور پر شدید منفی اثرات  کا سامنا ہے۔ یہ اثرات ایندھن  کی بڑھتی قیمتوں، توانائی کی قلت اور خلیجی ممالک سے ترسیلاتِ زر  اور سیاحت میں کمی کی صورت میں منتقل ہورہے ہیں۔</p>
<p>مصر، اردن اور پاکستان جیسی کئی قریبی معیشتیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ ان پر پڑنے والے اثرات میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اچانک اضافے سے پیدا ہونے والا مہنگائی کا دباؤ، سیاحت اور ترسیلاتِ زر سے ہونے والی آمدن میں رکاوٹیں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں آنے والی کمی شامل ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284879</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Apr 2026 11:25:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/1011222611804b5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/1011222611804b5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
