<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:39:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:39:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی آئی اے بیڑے میں صرف 18 طیارے فعال ہیں، عارف حبیب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284870/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عارف حبیب کنسورشیم کے چیئرمین عارف حبیب نے کہا ہے کہ قومی ایئرلائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے پاس اس وقت 30 طیارے موجود ہیں جن میں سے 18 فعال ہیں جبکہ 5 سے 6 طیارے مرمت اور مینٹیننس کے مرحلے میں ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غیر فعال طیاروں کی بحالی کا عمل جاری ہے جس کے بعد فعال طیاروں کی تعداد 26 تک پہنچ جائے گی۔ ان کے مطابق طویل المدتی ہدف بیڑے کو 60 طیاروں تک بڑھانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب نے کہا کہ وہ کاروباری برادری کی نمائندگی کرتے ہوئے حکومتی سطح پر ان کے مسائل اجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی معیشت نسبتاً مستحکم ہوئی ہے اور رواں مالی سال کے دوران حکومت نے محصولات میں اضافہ کیا ہے، تمام اخراجات پورے کیے ہیں اور قرضوں پر سود بھی ادا کیا ہے، تاہم ترقی کے لیے پیداواری لاگت میں کمی ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمتیں زیادہ ہونے کی بڑی وجہ کپیسٹی چارجز اور کم کھپت ہے۔ اگر موجودہ ٹرانسمیشن نظام جو 22 ہزار میگاواٹ سے زائد صلاحیت رکھتا ہے مکمل طور پر استعمال ہو تو فی یونٹ قیمت میں 10 سے 12 روپے تک کمی آ سکتی ہے، لیکن اس کے لیے بجلی کے استعمال میں اضافہ ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کاروباری طبقے پر زور دیا کہ وہ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر متحد آواز کے ساتھ اپنے مسائل حکومت کے سامنے رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اتحاد کی صورت میں حکومت زیادہ توجہ دے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی، زراعت اور کان کنی ایسے شعبے ہیں جو تیزی سے پاکستان کو معاشی مشکلات سے نکال کر ترقی کی راہ پر ڈال سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز(آباد) کے چیئرمین حسن بخش نے تجویز دی کہ کاروباری برادری کو ایک کنسورشیم بنا کر خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کو خرید کر چلانا چاہیے، جن میں واٹر بورڈ، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ نجی شعبہ ان اداروں کو زیادہ مؤثر اور منافع بخش انداز میں چلا سکتا ہے۔ کراچی انڈسٹریل ایریا کے مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صنعتی ترقی کے لیے بنیادی سہولیات کی فراہمی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کورنگی ایسوسی ایشن کے صدر محمد اکرام راجپوت نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بڑھایا ہے اور ملک اب عالمی سیاست میں ایک اہم فریق کے طور پر سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے عارف حبیب کو کاروباری برادری کا ہیرو قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز پہلے بوجھ بن چکی تھی لیکن اب امید ہے کہ نئی قیادت میں یہ دوبارہ عالمی سطح پر اپنی ساکھ بحال کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کورنگی صنعتی زون ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اس کی ترقی انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کراچی ایئرپورٹ کی بحالی اور جدید بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر مقررین نے کہا کہ سرمایہ کاری میں کمی کی بڑی وجہ بیوروکریٹک رکاوٹیں اور پالیسیوں کا عدم تسلسل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایک مضبوط تھنک ٹینک تشکیل دیا جائے جو کراچی اور معیشت کے مسائل کے حل کے لیے سفارشات تیار کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عارف حبیب کنسورشیم کے چیئرمین عارف حبیب نے کہا ہے کہ قومی ایئرلائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے پاس اس وقت 30 طیارے موجود ہیں جن میں سے 18 فعال ہیں جبکہ 5 سے 6 طیارے مرمت اور مینٹیننس کے مرحلے میں ہیں۔</strong></p>
<p>کراچی میں کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غیر فعال طیاروں کی بحالی کا عمل جاری ہے جس کے بعد فعال طیاروں کی تعداد 26 تک پہنچ جائے گی۔ ان کے مطابق طویل المدتی ہدف بیڑے کو 60 طیاروں تک بڑھانا ہے۔</p>
<p>عارف حبیب نے کہا کہ وہ کاروباری برادری کی نمائندگی کرتے ہوئے حکومتی سطح پر ان کے مسائل اجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی معیشت نسبتاً مستحکم ہوئی ہے اور رواں مالی سال کے دوران حکومت نے محصولات میں اضافہ کیا ہے، تمام اخراجات پورے کیے ہیں اور قرضوں پر سود بھی ادا کیا ہے، تاہم ترقی کے لیے پیداواری لاگت میں کمی ناگزیر ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمتیں زیادہ ہونے کی بڑی وجہ کپیسٹی چارجز اور کم کھپت ہے۔ اگر موجودہ ٹرانسمیشن نظام جو 22 ہزار میگاواٹ سے زائد صلاحیت رکھتا ہے مکمل طور پر استعمال ہو تو فی یونٹ قیمت میں 10 سے 12 روپے تک کمی آ سکتی ہے، لیکن اس کے لیے بجلی کے استعمال میں اضافہ ضروری ہے۔</p>
<p>انہوں نے کاروباری طبقے پر زور دیا کہ وہ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر متحد آواز کے ساتھ اپنے مسائل حکومت کے سامنے رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اتحاد کی صورت میں حکومت زیادہ توجہ دے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی، زراعت اور کان کنی ایسے شعبے ہیں جو تیزی سے پاکستان کو معاشی مشکلات سے نکال کر ترقی کی راہ پر ڈال سکتے ہیں۔</p>
<p>ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز(آباد) کے چیئرمین حسن بخش نے تجویز دی کہ کاروباری برادری کو ایک کنسورشیم بنا کر خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کو خرید کر چلانا چاہیے، جن میں واٹر بورڈ، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی شامل ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ نجی شعبہ ان اداروں کو زیادہ مؤثر اور منافع بخش انداز میں چلا سکتا ہے۔ کراچی انڈسٹریل ایریا کے مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صنعتی ترقی کے لیے بنیادی سہولیات کی فراہمی ضروری ہے۔</p>
<p>کورنگی ایسوسی ایشن کے صدر محمد اکرام راجپوت نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بڑھایا ہے اور ملک اب عالمی سیاست میں ایک اہم فریق کے طور پر سامنے آیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے عارف حبیب کو کاروباری برادری کا ہیرو قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز پہلے بوجھ بن چکی تھی لیکن اب امید ہے کہ نئی قیادت میں یہ دوبارہ عالمی سطح پر اپنی ساکھ بحال کرے گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کورنگی صنعتی زون ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اس کی ترقی انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کراچی ایئرپورٹ کی بحالی اور جدید بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔</p>
<p>دیگر مقررین نے کہا کہ سرمایہ کاری میں کمی کی بڑی وجہ بیوروکریٹک رکاوٹیں اور پالیسیوں کا عدم تسلسل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایک مضبوط تھنک ٹینک تشکیل دیا جائے جو کراچی اور معیشت کے مسائل کے حل کے لیے سفارشات تیار کرے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284870</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Apr 2026 09:57:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/10095532b99f0fb.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/10095532b99f0fb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
