<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 13:19:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 13:19:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جولائی تا فروری: حکومتی قرضہ 2 کھرب روپے بڑھ کر 79.88 کھرب روپے تک پہنچ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284867/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت کے قرض میں اضافہ جاری ہے، جس میں مالی سال 2026 کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران تقریباً 2 کھرب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بنیادی وجہ اندرونی قرضوں میں نمایاں اضافہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق ملک کا مجموعی قرضہ، جس میں اندرونی اور بیرونی دونوں واجبات شامل ہیں، فروری 2026 کے اختتام تک بڑھ کر 79.882 کھرب روپے تک پہنچ گیا، جو جون 2025 کے اختتام پر 77.888 کھرب روپے تھا۔ اس طرح مجموعی قرضے میں 1.994 کھرب روپے یا 2.5 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اس عرصے میں بیرونی قرضہ نہیں بڑھا بلکہ معمولی کمی دیکھی گئی، جبکہ اندرونی قرضہ تیزی سے بڑھا کیونکہ حکومت نے مالی خسارہ پورا کرنے کے لیے مقامی بینکاری نظام سے زیادہ قرض لیا۔ اگرچہ محصولات میں بہتری آئی ہے، تاہم یہ حکومتی اخراجات پورے کرنے کے لیے ناکافی رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اندرونی قرضہ جولائی تا فروری مالی سال 2026 کے دوران 4 فیصد یا 2.207 کھرب روپے بڑھ کر 56.679 کھرب روپے ہو گیا، جو جون 2025 میں 54.472 کھرب روپے تھا۔ اس میں زیادہ اضافہ طویل مدتی قرضے میں ہوا، جو 45.653 کھرب روپے سے بڑھ کر 47.481 کھرب روپے تک پہنچ گیا، جبکہ قلیل مدتی قرضہ 376 ارب روپے اضافے کے ساتھ 9.132 کھرب روپے ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب بیرونی قرضہ 214 ارب روپے کم ہو کر 23.203 کھرب روپے رہ گیا، جو جون 2025 میں 23.417 کھرب روپے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی توازن میں موجودہ مالی سال کے دوران سرپلس ریکارڈ کیا گیا، جبکہ پرائمری سرپلس بھی تقریباً گزشتہ سال کی سطح پر برقرار رہا، جس کی وجہ سودی ادائیگیوں میں کمی اور اخراجات پر کنٹرول ہے۔ تاہم ٹیکس وصولی جولائی تا فروری کے دوران 10.6 فیصد بڑھی، جو سالانہ ہدف کے مقابلے میں کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے مالیاتی استحکام اور طویل مدتی ترقی کے لیے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور ساختی اصلاحات جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔ مزید برآں، اسٹیٹ بینک نے حال ہی میں کیش ریزرو ریکوائرمنٹ میں کمی کر کے بینکاری نظام میں لیکویڈیٹی بڑھانے اور نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی کے لیے مزید گنجائش پیدا کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت کے قرض میں اضافہ جاری ہے، جس میں مالی سال 2026 کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران تقریباً 2 کھرب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بنیادی وجہ اندرونی قرضوں میں نمایاں اضافہ ہے۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق ملک کا مجموعی قرضہ، جس میں اندرونی اور بیرونی دونوں واجبات شامل ہیں، فروری 2026 کے اختتام تک بڑھ کر 79.882 کھرب روپے تک پہنچ گیا، جو جون 2025 کے اختتام پر 77.888 کھرب روپے تھا۔ اس طرح مجموعی قرضے میں 1.994 کھرب روپے یا 2.5 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق اس عرصے میں بیرونی قرضہ نہیں بڑھا بلکہ معمولی کمی دیکھی گئی، جبکہ اندرونی قرضہ تیزی سے بڑھا کیونکہ حکومت نے مالی خسارہ پورا کرنے کے لیے مقامی بینکاری نظام سے زیادہ قرض لیا۔ اگرچہ محصولات میں بہتری آئی ہے، تاہم یہ حکومتی اخراجات پورے کرنے کے لیے ناکافی رہی۔</p>
<p>اندرونی قرضہ جولائی تا فروری مالی سال 2026 کے دوران 4 فیصد یا 2.207 کھرب روپے بڑھ کر 56.679 کھرب روپے ہو گیا، جو جون 2025 میں 54.472 کھرب روپے تھا۔ اس میں زیادہ اضافہ طویل مدتی قرضے میں ہوا، جو 45.653 کھرب روپے سے بڑھ کر 47.481 کھرب روپے تک پہنچ گیا، جبکہ قلیل مدتی قرضہ 376 ارب روپے اضافے کے ساتھ 9.132 کھرب روپے ہو گیا۔</p>
<p>دوسری جانب بیرونی قرضہ 214 ارب روپے کم ہو کر 23.203 کھرب روپے رہ گیا، جو جون 2025 میں 23.417 کھرب روپے تھا۔</p>
<p>مالیاتی توازن میں موجودہ مالی سال کے دوران سرپلس ریکارڈ کیا گیا، جبکہ پرائمری سرپلس بھی تقریباً گزشتہ سال کی سطح پر برقرار رہا، جس کی وجہ سودی ادائیگیوں میں کمی اور اخراجات پر کنٹرول ہے۔ تاہم ٹیکس وصولی جولائی تا فروری کے دوران 10.6 فیصد بڑھی، جو سالانہ ہدف کے مقابلے میں کم ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے مالیاتی استحکام اور طویل مدتی ترقی کے لیے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور ساختی اصلاحات جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔ مزید برآں، اسٹیٹ بینک نے حال ہی میں کیش ریزرو ریکوائرمنٹ میں کمی کر کے بینکاری نظام میں لیکویڈیٹی بڑھانے اور نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی کے لیے مزید گنجائش پیدا کی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284867</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Apr 2026 09:22:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/10091941ee24f2f.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/10091941ee24f2f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
