<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرق وسطیٰ کشیدگی، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا مذاکرات سے قبل صورتحال کا جائزہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284866/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل و چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر نے جمعرات کے روز امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ اسلام آباد نے خطے میں بڑھتی کشیدگی کے بعد مصالحتی حل کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ عزم وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطح اجلاس کے دوران ظاہر کیا گیا، جہاں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے وزیراعظم سے ملاقات کر کے جاری سفارتی اقدامات کا جائزہ لیا۔ سرکاری بیان کے مطابق دونوں  نے کشیدگی میں بتدریج کمی پر اطمینان کا اظہار کیا، تاہم جنگ بندی برقرار رکھنے اور پائیدار امن کی جانب پیش رفت کو ناگزیر قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ قیادت نے تمام فریقین کی جانب سے تحمل کا مظاہرہ سراہا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان فریقین کو مذاکرات کے ذریعے پرامن حل تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے امن عمل میں شامل فریقین کی کوششوں کو سراہتے ہوئے سفارتی پیش رفت کے امکانات پر امید کا اظہار کیا اور آنے والے وفود کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن اور تہران کے اعلیٰ سطحی وفود اس ہفتے اسلام آباد پہنچنے والے ہیں۔ یہ مذاکرات پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی کے بعد ہو رہے ہیں، جس نے 40 دن سے زائد جاری شدید کشیدگی کو عارضی طور پر روک دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تنازع 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہوا، جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت ہوئی، جس کے بعد ایران نے خلیج اور اسرائیل میں جوابی کارروائیاں کیں۔ اس صورتحال نے وسیع علاقائی جنگ کے خدشات کو جنم دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان، جو امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات رکھتا ہے، حالیہ ہفتوں میں ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے اور دونوں فریقین کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقرر کردہ ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبل 8 اپریل کو دو ہفتوں کی جنگ بندی طے پائی، جس نے مذاکرات کے لیے محدود وقت فراہم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، جبکہ دیگر اراکین میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہوں گے۔ ایران کی نمائندگی پارلیمنٹ اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کو برطانوی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر کی جانب سے ٹیلیفون کال موصول ہوئی، جس میں انہوں نے جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے خطے میں دیرپا امن کے لیے اس کی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل و چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر نے جمعرات کے روز امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ اسلام آباد نے خطے میں بڑھتی کشیدگی کے بعد مصالحتی حل کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔</strong></p>
<p>یہ عزم وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطح اجلاس کے دوران ظاہر کیا گیا، جہاں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے وزیراعظم سے ملاقات کر کے جاری سفارتی اقدامات کا جائزہ لیا۔ سرکاری بیان کے مطابق دونوں  نے کشیدگی میں بتدریج کمی پر اطمینان کا اظہار کیا، تاہم جنگ بندی برقرار رکھنے اور پائیدار امن کی جانب پیش رفت کو ناگزیر قرار دیا۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ قیادت نے تمام فریقین کی جانب سے تحمل کا مظاہرہ سراہا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان فریقین کو مذاکرات کے ذریعے پرامن حل تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے امن عمل میں شامل فریقین کی کوششوں کو سراہتے ہوئے سفارتی پیش رفت کے امکانات پر امید کا اظہار کیا اور آنے والے وفود کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔</p>
<p>یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن اور تہران کے اعلیٰ سطحی وفود اس ہفتے اسلام آباد پہنچنے والے ہیں۔ یہ مذاکرات پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی کے بعد ہو رہے ہیں، جس نے 40 دن سے زائد جاری شدید کشیدگی کو عارضی طور پر روک دیا۔</p>
<p>یہ تنازع 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہوا، جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت ہوئی، جس کے بعد ایران نے خلیج اور اسرائیل میں جوابی کارروائیاں کیں۔ اس صورتحال نے وسیع علاقائی جنگ کے خدشات کو جنم دیا تھا۔</p>
<p>پاکستان، جو امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات رکھتا ہے، حالیہ ہفتوں میں ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے اور دونوں فریقین کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقرر کردہ ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبل 8 اپریل کو دو ہفتوں کی جنگ بندی طے پائی، جس نے مذاکرات کے لیے محدود وقت فراہم کیا۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، جبکہ دیگر اراکین میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہوں گے۔ ایران کی نمائندگی پارلیمنٹ اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کریں گے۔</p>
<p>اس دوران نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کو برطانوی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر کی جانب سے ٹیلیفون کال موصول ہوئی، جس میں انہوں نے جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے خطے میں دیرپا امن کے لیے اس کی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284866</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Apr 2026 09:11:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذوالفقار احمدنوید صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/100907570bae684.webp" type="image/webp" medium="image" height="810" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/100907570bae684.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
