<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 00:38:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 00:38:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لبنان پر اسرائیل کے شدید حملے ایران جنگ بندی کے لیے خطرہ، مذاکرات متوقع مگر آبنائے ہرمز بدستور بند</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284858/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسرائیل نے جمعرات کو لبنان میں مزید اہداف کو نشانہ بنایا، جس سے امریکا، ایران جنگ بندی کو مزید خطرات لاحق ہو گئے۔ جنگ کے دوران اپنے پڑوسی ملک پر اسرائیل کے بڑے حملوں میں 250 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، اور اس پیش رفت نے ڈونلڈ ٹرمپ کی کرائی گئی جنگ بندی کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں، حکام نے جنگ کے پہلے امن مذاکرات کے پیشِ نظر دارالحکومت اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کر دیا۔ لگژری سیرینا ہوٹل کے اطراف 3 کلومیٹر کے علاقے میں آمد و رفت محدود کر دی گئی، جہاں امریکی اور ایرانی وفود کے قیام کی توقع ہے۔ ہوٹل کے مہمانوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اتوار تک کمرے خالی کر دیں کیونکہ اسے ایک ”اہم تقریب“ کے لیے سرکاری تحویل میں لے لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اس بات کے کوئی آثار نہیں ملے کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی تقریباً مکمل ناکہ بندی ختم کر رہا ہے، جس نے عالمی توانائی کی سپلائی میں تاریخ کی بدترین خلل پیدا کر دیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ جب تک اسرائیل لبنان پر حملے جاری رکھے گا، کسی معاہدے کا امکان نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ بندی کے پہلے 24 گھنٹوں میں اس آبنائے سے صرف ایک آئل پراڈکٹس ٹینکر اور پانچ ڈرائی بلک جہاز گزرے، حالانکہ جنگ سے قبل یہاں روزانہ اوسطاً 140 جہازوں کی آمد و رفت ہوتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسرائیل کا موقف: جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل، جس نے گزشتہ ماہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے ساتھ ساتھ حزب اللہ کے خاتمے کے لیے لبنان پر حملہ کیا، کا کہنا ہے کہ منگل کی رات ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن نے بھی کہا ہے کہ لبنان اس جنگ بندی کا حصہ نہیں، تاہم ایران اور پاکستان، جس نے ثالث کا کردار ادا کیا، کا موقف ہے کہ لبنان واضح طور پر معاہدے میں شامل تھا۔ برطانیہ اور فرانس سمیت کئی ممالک نے بھی کہا ہے کہ جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر بھی ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، جن کے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے مقابل ایرانی وفد کی قیادت کرنے کی توقع ہے، نے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ لبنان اور ایران کے علاقائی اتحادیوں کا باقی ”محور“ کسی بھی جنگ بندی کا لازمی حصہ ہیں اور انہیں اس سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک پاکستانی ذریعے نے بتایا کہ پاکستان لبنان کے ساتھ ساتھ یمن کے لیے بھی جنگ بندی پر کام کر رہا ہے، جہاں اسرائیل نے ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ ذریعے کے مطابق: ”اس معاملے پر آئندہ مذاکرات میں بات ہوگی اور ہم اسے طے کر لیں گے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسرائیل کا دعویٰ: حزب اللہ سربراہ کے بھتیجے کو ہلاک کر دیا&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم کے بھتیجے کو ہلاک کر دیا ہے اور رات کے دوران جنوبی لبنان میں دریا کے گزرگاہوں کو نشانہ بنایا۔ لبنانی سرکاری میڈیا کے مطابق، اسرائیل نے آدھی رات سے کچھ پہلے اور علی الصبح بیروت کے جنوبی مضافات پر حملے کیے، جبکہ جمعرات کی صبح جنوبی لبنان کے مختلف قصبوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل نے بیروت کے نواحی علاقوں کے لیے انخلا کے احکامات میں توسیع کرتے ہوئے جناح ڈسٹرکٹ کے رہائشیوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کی ہدایت کی۔ یہ احکامات بیروت ایئرپورٹ کے قریب علاقوں اور لبنان کے سب سے بڑے اسٹیڈیم کامیِل شمعون اسٹیڈیم تک بھی پھیلائے گئے، جسے اب بے گھر افراد کے لیے پناہ گاہ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، حزب اللہ نے جمعرات کو کم از کم 20 فوجی کارروائیوں کا اعلان کیا اور کہا کہ اس نے لبنانی حدود میں اسرائیلی گاڑیوں کو نشانہ بنایا، جبکہ شمالی اسرائیل کی جانب بھی حملے کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کے حملوں کے بعد، جنہیں لبنانی حکام نے ”قتلِ عام“ قرار دیا، لبنان میں یومِ سوگ منایا گیا۔ امدادی ٹیمیں رات بھر ملبے تلے دبے جاں بحق اور زخمی افراد کو تلاش کرتی رہیں، کیونکہ یہ حملے گنجان آباد علاقوں پر بغیر کسی پیشگی وارننگ کے کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیروت کے رفیق حریری یونیورسٹی اسپتال کے باہر جمعرات کی دوپہر بھر ایمبولینسز کا تانتا بندھا رہا، جو ایمرجنسی وارڈ کے بجائے سیدھا فرانزک ڈیپارٹمنٹ کی جانب جا رہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ریسکیو اہلکار نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، بتایا: ”زیادہ تر ہمیں جسم کے ٹکڑے ہی مل رہے ہیں، مکمل حالت میں لاشیں ملنا بہت کم ہوتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;ایک خاتون نے روتے ہوئے رائٹرز کو بتایا کہ وہ ایک حملے میں اپنے پورے خاندان سے محروم ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی سکیورٹی کابینہ کے رکن زیو ایلکن نے کہا کہ اسرائیل لبنان پر حملے جاری رکھے گا، تاہم انہوں نے اشارہ دیا کہ امن مذاکرات کے دوران ان میں کمی کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بدھ کے بڑے حملوں کو ایک وقتی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس لیے ممکن ہوا کیونکہ جنگ بندی کے باعث وہ جنگی طیارے، جو ایران کے خلاف پروازیں کر رہے ہوتے، لبنان پر حملوں کے لیے دستیاب تھے۔ ان کا کہنا تھا: ”جب تک ایران میں یہ نازک جنگ بندی برقرار ہے، ہم اپنی فضائیہ کی پوری طاقت استعمال کر کے حزب اللہ کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خامنہ ای کے لیے سوگ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چھ ہفتوں کی جنگ کے بعد، ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتصادی اثرات کے اپنی صدارت پر منفی اثر ڈالنے سے پہلے نکلنے کا راستہ تلاش کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ بندی نے برینٹ آئل کی بینچ مارک قیمتوں میں اضافے کو تو محدود کیا ہے، جو مستقبل میں ترسیل کے معاہدوں پر مبنی ہوتی ہیں، تاہم اسپاٹ قیمتیں اب بھی بڑھ رہی ہیں، اور یورپ و ایشیا کی بعض ریفائنریز 150 ڈالر فی بیرل کے قریب ریکارڈ قیمت ادا کر رہی ہیں۔ امریکہ میں ڈیزل کی ریٹیل قیمت جمعرات کو بڑھ کر 5.69 ڈالر فی گیلن ہو گئی، جو اب تک کی بلند ترین سطح سے صرف 13 سینٹ کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے اندر، جہاں چھ ہفتوں تک جاری امریکی اور ایرانی فضائی حملوں کے خاتمے کو مذہبی قیادت کی مکمل فتح کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے 40 دن مکمل ہونے پر بڑے اجتماعات منعقد ہوئے۔ وہ جنگ کے پہلے دن ہلاک ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری ٹی وی نے تہران اور دیگر شہروں میں سیاہ لباس میں ملبوس سوگواروں کے مناظر دکھائے، جو ایرانی پرچم اور خامنہ ای اور ان کے بیٹے و متوقع جانشین مجتبیٰ کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھے۔ یادگاری بل بورڈز آویزاں کیے گئے اور ایک عمارت پر حزب اللہ کا بڑا پرچم لہرایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ، جنہوں نے آبنائے ہرمز کھولنے کی ڈیڈ لائن سے قبل جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، نے بدھ کو کہا کہ اگر ایران نے مطالبات نہ مانے تو حملے دوبارہ شروع کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ٹرمپ نے فتح کا دعویٰ کیا ہے، لیکن واشنگٹن جنگ کے آغاز میں بیان کردہ اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکا: ایران کی پڑوسی ممالک پر حملہ کرنے کی صلاحیت ختم کرنا، اس کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنا، اور ایرانی عوام کے لیے حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا آسان بنانا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران اب بھی ایسے میزائل اور ڈرونز رکھتا ہے جو پڑوسی ممالک کو نشانہ بنا سکتے ہیں، جبکہ اس کے پاس 400 کلوگرام سے زائد یورینیم موجود ہے جو تقریباً ہتھیار بنانے کے درجے تک افزودہ ہے۔ اس کی قیادت، جس نے چند ماہ قبل ایک بڑے عوامی احتجاج کو کچل دیا تھا، عالمی طاقتوں کے دباؤ کے باوجود برقرار رہی اور کسی منظم اپوزیشن کے آثار نظر نہیں آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، ایران نے خطے میں امریکی فوجی موجودگی کے باوجود آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کی صلاحیت بھی دکھائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کسی حتمی معاہدے میں امریکہ سے مزید رعایتوں کا مطالبہ کر رہا ہے، جن میں معیشت کو متاثر کرنے والی تمام پابندیوں کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو تسلیم کروانا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران افزودہ یورینیم حوالے کرے، مزید افزودگی ترک کرے، اپنے میزائل پروگرام کو ختم کرے اور علاقائی اتحادیوں کی حمایت بند کرے—یہ وہی مطالبات ہیں جو جنگ سے دو دن قبل ختم ہونے والے مذاکرات میں بھی پیش کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسرائیل نے جمعرات کو لبنان میں مزید اہداف کو نشانہ بنایا، جس سے امریکا، ایران جنگ بندی کو مزید خطرات لاحق ہو گئے۔ جنگ کے دوران اپنے پڑوسی ملک پر اسرائیل کے بڑے حملوں میں 250 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، اور اس پیش رفت نے ڈونلڈ ٹرمپ کی کرائی گئی جنگ بندی کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔</strong></p>
<p>پاکستان میں، حکام نے جنگ کے پہلے امن مذاکرات کے پیشِ نظر دارالحکومت اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کر دیا۔ لگژری سیرینا ہوٹل کے اطراف 3 کلومیٹر کے علاقے میں آمد و رفت محدود کر دی گئی، جہاں امریکی اور ایرانی وفود کے قیام کی توقع ہے۔ ہوٹل کے مہمانوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اتوار تک کمرے خالی کر دیں کیونکہ اسے ایک ”اہم تقریب“ کے لیے سرکاری تحویل میں لے لیا گیا ہے۔</p>
<p>تاہم، اس بات کے کوئی آثار نہیں ملے کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی تقریباً مکمل ناکہ بندی ختم کر رہا ہے، جس نے عالمی توانائی کی سپلائی میں تاریخ کی بدترین خلل پیدا کر دیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ جب تک اسرائیل لبنان پر حملے جاری رکھے گا، کسی معاہدے کا امکان نہیں۔</p>
<p>جنگ بندی کے پہلے 24 گھنٹوں میں اس آبنائے سے صرف ایک آئل پراڈکٹس ٹینکر اور پانچ ڈرائی بلک جہاز گزرے، حالانکہ جنگ سے قبل یہاں روزانہ اوسطاً 140 جہازوں کی آمد و رفت ہوتی تھی۔</p>
<p><strong>اسرائیل کا موقف: جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں</strong></p>
<p>اسرائیل، جس نے گزشتہ ماہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے ساتھ ساتھ حزب اللہ کے خاتمے کے لیے لبنان پر حملہ کیا، کا کہنا ہے کہ منگل کی رات ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں۔</p>
<p>واشنگٹن نے بھی کہا ہے کہ لبنان اس جنگ بندی کا حصہ نہیں، تاہم ایران اور پاکستان، جس نے ثالث کا کردار ادا کیا، کا موقف ہے کہ لبنان واضح طور پر معاہدے میں شامل تھا۔ برطانیہ اور فرانس سمیت کئی ممالک نے بھی کہا ہے کہ جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر بھی ہونا چاہیے۔</p>
<p>ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، جن کے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے مقابل ایرانی وفد کی قیادت کرنے کی توقع ہے، نے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ لبنان اور ایران کے علاقائی اتحادیوں کا باقی ”محور“ کسی بھی جنگ بندی کا لازمی حصہ ہیں اور انہیں اس سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p>ایک پاکستانی ذریعے نے بتایا کہ پاکستان لبنان کے ساتھ ساتھ یمن کے لیے بھی جنگ بندی پر کام کر رہا ہے، جہاں اسرائیل نے ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ ذریعے کے مطابق: ”اس معاملے پر آئندہ مذاکرات میں بات ہوگی اور ہم اسے طے کر لیں گے۔“</p>
<p><strong>اسرائیل کا دعویٰ: حزب اللہ سربراہ کے بھتیجے کو ہلاک کر دیا</strong></p>
<p>اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم کے بھتیجے کو ہلاک کر دیا ہے اور رات کے دوران جنوبی لبنان میں دریا کے گزرگاہوں کو نشانہ بنایا۔ لبنانی سرکاری میڈیا کے مطابق، اسرائیل نے آدھی رات سے کچھ پہلے اور علی الصبح بیروت کے جنوبی مضافات پر حملے کیے، جبکہ جمعرات کی صبح جنوبی لبنان کے مختلف قصبوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔</p>
<p>اسرائیل نے بیروت کے نواحی علاقوں کے لیے انخلا کے احکامات میں توسیع کرتے ہوئے جناح ڈسٹرکٹ کے رہائشیوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کی ہدایت کی۔ یہ احکامات بیروت ایئرپورٹ کے قریب علاقوں اور لبنان کے سب سے بڑے اسٹیڈیم کامیِل شمعون اسٹیڈیم تک بھی پھیلائے گئے، جسے اب بے گھر افراد کے لیے پناہ گاہ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب، حزب اللہ نے جمعرات کو کم از کم 20 فوجی کارروائیوں کا اعلان کیا اور کہا کہ اس نے لبنانی حدود میں اسرائیلی گاڑیوں کو نشانہ بنایا، جبکہ شمالی اسرائیل کی جانب بھی حملے کیے۔</p>
<p>بدھ کے حملوں کے بعد، جنہیں لبنانی حکام نے ”قتلِ عام“ قرار دیا، لبنان میں یومِ سوگ منایا گیا۔ امدادی ٹیمیں رات بھر ملبے تلے دبے جاں بحق اور زخمی افراد کو تلاش کرتی رہیں، کیونکہ یہ حملے گنجان آباد علاقوں پر بغیر کسی پیشگی وارننگ کے کیے گئے تھے۔</p>
<p>بیروت کے رفیق حریری یونیورسٹی اسپتال کے باہر جمعرات کی دوپہر بھر ایمبولینسز کا تانتا بندھا رہا، جو ایمرجنسی وارڈ کے بجائے سیدھا فرانزک ڈیپارٹمنٹ کی جانب جا رہی تھیں۔</p>
<p>ایک ریسکیو اہلکار نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، بتایا: ”زیادہ تر ہمیں جسم کے ٹکڑے ہی مل رہے ہیں، مکمل حالت میں لاشیں ملنا بہت کم ہوتا ہے۔“</p>
<hr />
<p>ایک خاتون نے روتے ہوئے رائٹرز کو بتایا کہ وہ ایک حملے میں اپنے پورے خاندان سے محروم ہو گئی۔</p>
<p>اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی سکیورٹی کابینہ کے رکن زیو ایلکن نے کہا کہ اسرائیل لبنان پر حملے جاری رکھے گا، تاہم انہوں نے اشارہ دیا کہ امن مذاکرات کے دوران ان میں کمی کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے بدھ کے بڑے حملوں کو ایک وقتی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس لیے ممکن ہوا کیونکہ جنگ بندی کے باعث وہ جنگی طیارے، جو ایران کے خلاف پروازیں کر رہے ہوتے، لبنان پر حملوں کے لیے دستیاب تھے۔ ان کا کہنا تھا: ”جب تک ایران میں یہ نازک جنگ بندی برقرار ہے، ہم اپنی فضائیہ کی پوری طاقت استعمال کر کے حزب اللہ کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔“</p>
<p><strong>خامنہ ای کے لیے سوگ</strong></p>
<p>چھ ہفتوں کی جنگ کے بعد، ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتصادی اثرات کے اپنی صدارت پر منفی اثر ڈالنے سے پہلے نکلنے کا راستہ تلاش کیا ہے۔</p>
<p>جنگ بندی نے برینٹ آئل کی بینچ مارک قیمتوں میں اضافے کو تو محدود کیا ہے، جو مستقبل میں ترسیل کے معاہدوں پر مبنی ہوتی ہیں، تاہم اسپاٹ قیمتیں اب بھی بڑھ رہی ہیں، اور یورپ و ایشیا کی بعض ریفائنریز 150 ڈالر فی بیرل کے قریب ریکارڈ قیمت ادا کر رہی ہیں۔ امریکہ میں ڈیزل کی ریٹیل قیمت جمعرات کو بڑھ کر 5.69 ڈالر فی گیلن ہو گئی، جو اب تک کی بلند ترین سطح سے صرف 13 سینٹ کم ہے۔</p>
<p>ایران کے اندر، جہاں چھ ہفتوں تک جاری امریکی اور ایرانی فضائی حملوں کے خاتمے کو مذہبی قیادت کی مکمل فتح کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے 40 دن مکمل ہونے پر بڑے اجتماعات منعقد ہوئے۔ وہ جنگ کے پہلے دن ہلاک ہوئے تھے۔</p>
<p>سرکاری ٹی وی نے تہران اور دیگر شہروں میں سیاہ لباس میں ملبوس سوگواروں کے مناظر دکھائے، جو ایرانی پرچم اور خامنہ ای اور ان کے بیٹے و متوقع جانشین مجتبیٰ کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھے۔ یادگاری بل بورڈز آویزاں کیے گئے اور ایک عمارت پر حزب اللہ کا بڑا پرچم لہرایا گیا۔</p>
<p>ٹرمپ، جنہوں نے آبنائے ہرمز کھولنے کی ڈیڈ لائن سے قبل جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، نے بدھ کو کہا کہ اگر ایران نے مطالبات نہ مانے تو حملے دوبارہ شروع کیے جائیں گے۔</p>
<p>اگرچہ ٹرمپ نے فتح کا دعویٰ کیا ہے، لیکن واشنگٹن جنگ کے آغاز میں بیان کردہ اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکا: ایران کی پڑوسی ممالک پر حملہ کرنے کی صلاحیت ختم کرنا، اس کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنا، اور ایرانی عوام کے لیے حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا آسان بنانا۔</p>
<p>ایران اب بھی ایسے میزائل اور ڈرونز رکھتا ہے جو پڑوسی ممالک کو نشانہ بنا سکتے ہیں، جبکہ اس کے پاس 400 کلوگرام سے زائد یورینیم موجود ہے جو تقریباً ہتھیار بنانے کے درجے تک افزودہ ہے۔ اس کی قیادت، جس نے چند ماہ قبل ایک بڑے عوامی احتجاج کو کچل دیا تھا، عالمی طاقتوں کے دباؤ کے باوجود برقرار رہی اور کسی منظم اپوزیشن کے آثار نظر نہیں آئے۔</p>
<p>مزید برآں، ایران نے خطے میں امریکی فوجی موجودگی کے باوجود آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کی صلاحیت بھی دکھائی۔</p>
<p>ایران کسی حتمی معاہدے میں امریکہ سے مزید رعایتوں کا مطالبہ کر رہا ہے، جن میں معیشت کو متاثر کرنے والی تمام پابندیوں کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو تسلیم کروانا شامل ہے۔</p>
<p>دوسری جانب، واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران افزودہ یورینیم حوالے کرے، مزید افزودگی ترک کرے، اپنے میزائل پروگرام کو ختم کرے اور علاقائی اتحادیوں کی حمایت بند کرے—یہ وہی مطالبات ہیں جو جنگ سے دو دن قبل ختم ہونے والے مذاکرات میں بھی پیش کیے گئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284858</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Apr 2026 21:05:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/092046585fef871.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/092046585fef871.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
