<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران جنگ میں کچھ یورپی اتحادی امتحان میں ناکام رہے، نیٹو سربراہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284845/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے دوران کچھ نیٹو ممالک آزمائش پر پورا نہیں اتر سکے، جبکہ بیشتر یورپی ممالک نے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں۔ انہوں نے یہ بات بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد ایک انٹرویو میں کہی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارک روٹے کے مطابق ان کی صدر ٹرمپ کے ساتھ کھلی اور واضح گفتگو ہوئی، جس میں امریکی صدر نے یورپی اتحادیوں کی جانب سے محدود شمولیت پر مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ممالک واقعی توقعات پر پورا نہیں اترے، تاہم یورپ کی بڑی اکثریت نے وہ اقدامات کیے جن کا وہ پہلے وعدہ کر چکے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں مارک روٹے نے کہا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ یورپی ممالک نے لاجسٹک سپورٹ اور دیگر وعدوں کی تکمیل میں کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق یہ تعاون اگرچہ براہ راست فوجی کارروائی کی صورت میں نہیں تھا، لیکن اس کے باوجود اہم تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کی جانب سے اپنے اتحادیوں پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے کہ وہ عالمی تنازعات میں زیادہ فعال کردار ادا کریں۔ اس صورتحال نے نیٹو کے اندر ذمہ داریوں کی تقسیم اور اتحاد کی نوعیت پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے دوران کچھ نیٹو ممالک آزمائش پر پورا نہیں اتر سکے، جبکہ بیشتر یورپی ممالک نے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں۔ انہوں نے یہ بات بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد ایک انٹرویو میں کہی۔</strong></p>
<p>مارک روٹے کے مطابق ان کی صدر ٹرمپ کے ساتھ کھلی اور واضح گفتگو ہوئی، جس میں امریکی صدر نے یورپی اتحادیوں کی جانب سے محدود شمولیت پر مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ممالک واقعی توقعات پر پورا نہیں اترے، تاہم یورپ کی بڑی اکثریت نے وہ اقدامات کیے جن کا وہ پہلے وعدہ کر چکے تھے۔</p>
<p>سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں مارک روٹے نے کہا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ یورپی ممالک نے لاجسٹک سپورٹ اور دیگر وعدوں کی تکمیل میں کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق یہ تعاون اگرچہ براہ راست فوجی کارروائی کی صورت میں نہیں تھا، لیکن اس کے باوجود اہم تھا۔</p>
<p>یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کی جانب سے اپنے اتحادیوں پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے کہ وہ عالمی تنازعات میں زیادہ فعال کردار ادا کریں۔ اس صورتحال نے نیٹو کے اندر ذمہ داریوں کی تقسیم اور اتحاد کی نوعیت پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284845</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Apr 2026 14:29:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/09142727e8aabeb.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/09142727e8aabeb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
