<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 06:03:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 05 Jun 2026 06:03:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی آلو کے لیے روسی مارکیٹ کے دروازے کھل گئے، برآمدات کا آغاز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284833/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی زرعی برآمدات کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت میں روس کی وفاقی سروس برائے ویٹرنری اور فائٹو سینیٹری سرویلنس نے پنجاب سے آلو کی درآمد کی اجازت دے دی ہے۔ ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) کے اعلامیے کے مطابق اس فیصلے کا اطلاق 8 اپریل 2026 سے ہوچکا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ منظوری ان فائٹو سینیٹری پابندیوں کے خاتمے کے بعد سامنے آئی ہے جو مئی 2025 سے نافذ تھیں۔ ابتدائی مرحلے میں روسی حکام نے 3 پاکستانی برآمد کنندگان کو درآمد کی اجازت دی ہے جن میں میسرز چیز انٹرنیشنل، میسرز زاہد کنو گرائنڈنگ اینڈ ویکسنگ پلانٹ اور میسرز نیشنل فروٹ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماسکو میں پاکستانی تجارتی مشن کی سربراہ شبانہ عزیز نے کہا ہے کہ مستقبل قریب میں مزید کمپنیوں کو بھی (درآمدات کے لیے) رجسٹر کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ٹڈاپ اور پاکستان ہارٹیکلچر ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی (پی ایچ ڈی ای سی) کی ٹیموں کے تعاون سے ورچوئل بی ٹو بی میٹنگز کا اہتمام کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستانی برآمد کنندگان اس ابھرتے ہوئے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں اس وقت آلو کی بمپر فصل ہورہی ہے جس کی پیداوار کا تخمینہ تقریباً 12 ملین ٹن لگایا گیا ہے۔ (روس کی) نئی منڈی تک رسائی سے زائد اسٹاک کو کھپانے، مقامی سطح پر آلو کی قیمتوں میں استحکام لانے، کسانوں کی مدد کرنے اور قیمتی زرمبادلہ کمانے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کامیابی وزارتِ خوراک، ڈی پی پی، ٹڈاپ، پی ایچ ڈی ای سی اور ماسکو میں پاکستانی تجارتی مشن کی مربوط کوششوں کی عکاس ہے۔ یہ پیشرفت پاکستان کی زرعی برآمدات کی منڈیوں میں تنوع لانے اور روسی فیڈریشن کے ساتھ دوطرفہ تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے وفاقی اور پنجاب حکومتوں کے عزم کا اظہار بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال جنوری میں پنجاب حکومت نے وفاقی حکومت سے رابطہ کیا تھا تاکہ آلو اور کنو کی برآمدات کے لیے فریٹ چارجز (مال برداری کے کرایوں) میں کمی کی جائے، بالخصوص ایران کے راستے ہونے والی برآمدات کے لیے۔ یہ اقدام کاشتکاروں اور برآمد کنندگان کو درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوششوں کا حصہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی وزیر زراعت پنجاب سید عاشق حسین کرمانی نے کہا ہے کہ حکومتِ پنجاب آلو اور کنو کے کاشتکاروں کو درپیش چیلنجز سے پوری طرح آگاہ ہے اور ان مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں اجناس کی برآمد میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مختلف سطحوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی زرعی برآمدات کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت میں روس کی وفاقی سروس برائے ویٹرنری اور فائٹو سینیٹری سرویلنس نے پنجاب سے آلو کی درآمد کی اجازت دے دی ہے۔ ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) کے اعلامیے کے مطابق اس فیصلے کا اطلاق 8 اپریل 2026 سے ہوچکا ہے۔</strong></p>
<p>یہ منظوری ان فائٹو سینیٹری پابندیوں کے خاتمے کے بعد سامنے آئی ہے جو مئی 2025 سے نافذ تھیں۔ ابتدائی مرحلے میں روسی حکام نے 3 پاکستانی برآمد کنندگان کو درآمد کی اجازت دی ہے جن میں میسرز چیز انٹرنیشنل، میسرز زاہد کنو گرائنڈنگ اینڈ ویکسنگ پلانٹ اور میسرز نیشنل فروٹ شامل ہیں۔</p>
<p>ماسکو میں پاکستانی تجارتی مشن کی سربراہ شبانہ عزیز نے کہا ہے کہ مستقبل قریب میں مزید کمپنیوں کو بھی (درآمدات کے لیے) رجسٹر کیا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ٹڈاپ اور پاکستان ہارٹیکلچر ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی (پی ایچ ڈی ای سی) کی ٹیموں کے تعاون سے ورچوئل بی ٹو بی میٹنگز کا اہتمام کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستانی برآمد کنندگان اس ابھرتے ہوئے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔</p>
<p>پاکستان میں اس وقت آلو کی بمپر فصل ہورہی ہے جس کی پیداوار کا تخمینہ تقریباً 12 ملین ٹن لگایا گیا ہے۔ (روس کی) نئی منڈی تک رسائی سے زائد اسٹاک کو کھپانے، مقامی سطح پر آلو کی قیمتوں میں استحکام لانے، کسانوں کی مدد کرنے اور قیمتی زرمبادلہ کمانے میں مدد ملے گی۔</p>
<p>یہ کامیابی وزارتِ خوراک، ڈی پی پی، ٹڈاپ، پی ایچ ڈی ای سی اور ماسکو میں پاکستانی تجارتی مشن کی مربوط کوششوں کی عکاس ہے۔ یہ پیشرفت پاکستان کی زرعی برآمدات کی منڈیوں میں تنوع لانے اور روسی فیڈریشن کے ساتھ دوطرفہ تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے وفاقی اور پنجاب حکومتوں کے عزم کا اظہار بھی ہے۔</p>
<p>رواں سال جنوری میں پنجاب حکومت نے وفاقی حکومت سے رابطہ کیا تھا تاکہ آلو اور کنو کی برآمدات کے لیے فریٹ چارجز (مال برداری کے کرایوں) میں کمی کی جائے، بالخصوص ایران کے راستے ہونے والی برآمدات کے لیے۔ یہ اقدام کاشتکاروں اور برآمد کنندگان کو درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوششوں کا حصہ تھا۔</p>
<p>صوبائی وزیر زراعت پنجاب سید عاشق حسین کرمانی نے کہا ہے کہ حکومتِ پنجاب آلو اور کنو کے کاشتکاروں کو درپیش چیلنجز سے پوری طرح آگاہ ہے اور ان مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں اجناس کی برآمد میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مختلف سطحوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284833</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Apr 2026 12:29:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/09121747bc27586.webp" type="image/webp" medium="image" height="348" width="696">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/09121747bc27586.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
