<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغانستان میں بارش اور قدرتی آفات سے 148 افراد جاں بحق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284832/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;افغانستان کے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا کہ جمعرات کو مزید خراب موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ یہ وارننگ ان سیلابوں، زلزلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد سامنے آئی جن کے نتیجے میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران 148 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی ایشیائی ملک میں 26 مارچ سے ہونے والی شدید بارشوں نے ہولناک سیلابی صورتحال پیدا کردی ہے جس کی وجہ سے پہاڑی علاقوں میں گھر اور عمارتیں منہدم ہوگئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے ہندوکش کے علاقے میں آنے والے 5.9 شدت کے زلزلے نے جنگ زدہ ملک کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان انتظامیہ کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت نے بدھ کی رات گئے بتایا کہ 26 مارچ سے اب تک شدید بارشوں، سیلاب، زلزلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 148 افراد جاں بحق، 216 زخمی اور 8 لاپتہ ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ مجموعی طور پر 1,149 گھر تباہ ہوئے ہیں جبکہ سڑکوں اور فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے جس سے 7,500 سے زائد خاندان متاثر ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ نے افغانستان اور پڑوسی ملک پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا ہے جو شدید موسم اور موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے سب سے زیادہ خطرے کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہاڑوں میں گھرے ہونے کی وجہ سے افغانستان میں اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں بھی شدید بارشوں کے نتیجے میں 14 بچوں سمیت کم از کم 17 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ رائٹرز کی تصاویر میں پڑوسی صوبے بلوچستان میں اچانک آنے والے سیلاب (فلیش فلڈ) کے باعث سڑکوں کو بہتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومبر میں جاری ہونے والی اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں بھی اسی طرح زلزلوں، سیلابوں اور خشک سالی نے افغانستان میں 8 ہزار گھروں کو تباہ کیا اور عوامی خدمات کے نظام پر ان کی استطاعت سے زیادہ بوجھ ڈالا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>افغانستان کے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا کہ جمعرات کو مزید خراب موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ یہ وارننگ ان سیلابوں، زلزلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد سامنے آئی جن کے نتیجے میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران 148 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔</strong></p>
<p>جنوبی ایشیائی ملک میں 26 مارچ سے ہونے والی شدید بارشوں نے ہولناک سیلابی صورتحال پیدا کردی ہے جس کی وجہ سے پہاڑی علاقوں میں گھر اور عمارتیں منہدم ہوگئی ہیں۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے ہندوکش کے علاقے میں آنے والے 5.9 شدت کے زلزلے نے جنگ زدہ ملک کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا۔</p>
<p>طالبان انتظامیہ کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت نے بدھ کی رات گئے بتایا کہ 26 مارچ سے اب تک شدید بارشوں، سیلاب، زلزلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 148 افراد جاں بحق، 216 زخمی اور 8 لاپتہ ہو چکے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ مجموعی طور پر 1,149 گھر تباہ ہوئے ہیں جبکہ سڑکوں اور فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے جس سے 7,500 سے زائد خاندان متاثر ہوئے ہیں۔</p>
<p>اقوام متحدہ نے افغانستان اور پڑوسی ملک پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا ہے جو شدید موسم اور موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے سب سے زیادہ خطرے کا شکار ہیں۔</p>
<p>پہاڑوں میں گھرے ہونے کی وجہ سے افغانستان میں اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں۔</p>
<p>گزشتہ ماہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں بھی شدید بارشوں کے نتیجے میں 14 بچوں سمیت کم از کم 17 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ رائٹرز کی تصاویر میں پڑوسی صوبے بلوچستان میں اچانک آنے والے سیلاب (فلیش فلڈ) کے باعث سڑکوں کو بہتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔</p>
<p>نومبر میں جاری ہونے والی اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں بھی اسی طرح زلزلوں، سیلابوں اور خشک سالی نے افغانستان میں 8 ہزار گھروں کو تباہ کیا اور عوامی خدمات کے نظام پر ان کی استطاعت سے زیادہ بوجھ ڈالا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284832</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Apr 2026 12:12:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/091206137db0829.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/091206137db0829.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
