<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سروس لانگ مارچ ٹائرز کا پاکستان میں 120 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284831/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چین اور پاکستان کے مشترکہ منصوبے سروس لانگ مارچ ٹائرز لمیٹڈ (ایس ایل ایم ) نے پاکستان میں 120 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے جو ملک کی صنعتی اور معاشی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے کے مطابق ان خیالات کا اظہار سروس لانگ مارچ کے چیئرمین جن یونگ شینگ نے وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں جانب سے سرمایہ کاری میں توسیع، برآمدات میں اضافے اور پاکستان کی ٹائر انڈسٹری کے لیے ٹیرف پالیسی کے ذریعے تعاون فراہم کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں مزید 120 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کرتے ہوئے چینی وفد نے آگاہ کیا کہ کمپنی جون 2026 تک 70 ملین ڈالر کی برآمدات کا ہدف حاصل کرنے کی راہ پر گامزن ہے جبکہ آئندہ مالی سال برآمدات کو 100 ملین ڈالر سے متجاوز کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں بتایا گیا کہ پاکستان نے ٹائروں کی عالمی منڈیوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے، بالخصوص امریکہ اور برازیل کو ہونے والی برآمدات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے کے مطابق جام کمال خان نے صنعت کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات کا اعتراف کیا اور بہترین کارکردگی اور برآمدی صلاحیت رکھنے والے شعبوں کی حمایت کے لیے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایک متوازن ٹیرف پالیسی برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا جو مسابقت کو یقینی بنانے کے ساتھ مقامی پیداوار کی حوصلہ افزائی کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے اس بات کی نشاندہی کی کہ حکومت زیادہ ترقیاتی صلاحیت رکھنے والی ابھرتی ہوئی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کر کے پاکستان کی صنعتی بنیاد کو وسعت دینے (تنوع لانے) کے لیے کام کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد نے پاک چین صنعتی شراکت داری کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور اسے ٹائر کے شعبے کی تیز رفتار ترقی کے پیچھے ایک کلیدی محرک قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوری آباد میں کمپنی کے مینوفیکچرنگ پلانٹ کو ایک جدید اور فعال صنعتی یونٹ کے طور پر پیش کیا گیا جہاں تقریباً 2,000 مزدور کام کر رہے ہیں۔ یہ یونٹ قابلِ تجدید توانائی کے حل (سولر وغیرہ) کو بروئے کار لارہا ہے جو اسے خطے کے پائیدار ترین پیداواری مراکز میں سے ایک بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں دونوں فریقین نے برآمدات پر مبنی ترقی اور صنعتی توسیع میں تعاون کے لیے حکومت اور صنعت کے درمیان اشتراک کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں کہا گیا کہ سرمایہ کاروں نے موجودہ عالمی چیلنجز کے باوجود پاکستان کے معاشی مستقبل پر اعتماد کا اظہار کیا اور کاروباری برادری کے ساتھ حکومت کے مسلسل رابطے اور مشاورت کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کا اختتام اس مشترکہ عزم کے ساتھ ہوا کہ پالیسی میں استحکام کو فروغ دیا جائے گا، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اور پاکستان کو ٹائر جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں مینوفیکچرنگ اور برآمدات کے لیے ایک مسابقتی مرکز کے طور پر منوایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال جنوری میں چینی کمپنی نے سندھ کے علاقے نوری آباد میں پیسنجر کار ریڈیل ٹائروں کی تیاری کا پلانٹ قائم کرنے کے لیے 80 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی منظوری دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سروس لانگ مارچ پاکستان میں آل اسٹیل ریڈیل ٹرک اور بس ٹائر تیار کرنے والی کمپنی ہے جسے پاکستان کے سروس گروپ اور چین کی چاؤیانگ لانگ مارچ کے درمیان مشترکہ منصوبے کے تحت قائم کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چین اور پاکستان کے مشترکہ منصوبے سروس لانگ مارچ ٹائرز لمیٹڈ (ایس ایل ایم ) نے پاکستان میں 120 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے جو ملک کی صنعتی اور معاشی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار ہے۔</strong></p>
<p>اعلامیے کے مطابق ان خیالات کا اظہار سروس لانگ مارچ کے چیئرمین جن یونگ شینگ نے وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران کیا۔</p>
<p>دونوں جانب سے سرمایہ کاری میں توسیع، برآمدات میں اضافے اور پاکستان کی ٹائر انڈسٹری کے لیے ٹیرف پالیسی کے ذریعے تعاون فراہم کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>پاکستان میں مزید 120 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کرتے ہوئے چینی وفد نے آگاہ کیا کہ کمپنی جون 2026 تک 70 ملین ڈالر کی برآمدات کا ہدف حاصل کرنے کی راہ پر گامزن ہے جبکہ آئندہ مالی سال برآمدات کو 100 ملین ڈالر سے متجاوز کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p>ملاقات میں بتایا گیا کہ پاکستان نے ٹائروں کی عالمی منڈیوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے، بالخصوص امریکہ اور برازیل کو ہونے والی برآمدات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔</p>
<p>اعلامیے کے مطابق جام کمال خان نے صنعت کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات کا اعتراف کیا اور بہترین کارکردگی اور برآمدی صلاحیت رکھنے والے شعبوں کی حمایت کے لیے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>انہوں نے ایک متوازن ٹیرف پالیسی برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا جو مسابقت کو یقینی بنانے کے ساتھ مقامی پیداوار کی حوصلہ افزائی کرے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے اس بات کی نشاندہی کی کہ حکومت زیادہ ترقیاتی صلاحیت رکھنے والی ابھرتی ہوئی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کر کے پاکستان کی صنعتی بنیاد کو وسعت دینے (تنوع لانے) کے لیے کام کررہی ہے۔</p>
<p>وفد نے پاک چین صنعتی شراکت داری کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور اسے ٹائر کے شعبے کی تیز رفتار ترقی کے پیچھے ایک کلیدی محرک قرار دیا۔</p>
<p>نوری آباد میں کمپنی کے مینوفیکچرنگ پلانٹ کو ایک جدید اور فعال صنعتی یونٹ کے طور پر پیش کیا گیا جہاں تقریباً 2,000 مزدور کام کر رہے ہیں۔ یہ یونٹ قابلِ تجدید توانائی کے حل (سولر وغیرہ) کو بروئے کار لارہا ہے جو اسے خطے کے پائیدار ترین پیداواری مراکز میں سے ایک بناتا ہے۔</p>
<p>مزید برآں دونوں فریقین نے برآمدات پر مبنی ترقی اور صنعتی توسیع میں تعاون کے لیے حکومت اور صنعت کے درمیان اشتراک کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔</p>
<p>اعلامیے میں کہا گیا کہ سرمایہ کاروں نے موجودہ عالمی چیلنجز کے باوجود پاکستان کے معاشی مستقبل پر اعتماد کا اظہار کیا اور کاروباری برادری کے ساتھ حکومت کے مسلسل رابطے اور مشاورت کو سراہا۔</p>
<p>ملاقات کا اختتام اس مشترکہ عزم کے ساتھ ہوا کہ پالیسی میں استحکام کو فروغ دیا جائے گا، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اور پاکستان کو ٹائر جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں مینوفیکچرنگ اور برآمدات کے لیے ایک مسابقتی مرکز کے طور پر منوایا جائے گا۔</p>
<p>رواں سال جنوری میں چینی کمپنی نے سندھ کے علاقے نوری آباد میں پیسنجر کار ریڈیل ٹائروں کی تیاری کا پلانٹ قائم کرنے کے لیے 80 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی منظوری دی تھی۔</p>
<p>سروس لانگ مارچ پاکستان میں آل اسٹیل ریڈیل ٹرک اور بس ٹائر تیار کرنے والی کمپنی ہے جسے پاکستان کے سروس گروپ اور چین کی چاؤیانگ لانگ مارچ کے درمیان مشترکہ منصوبے کے تحت قائم کیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284831</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Apr 2026 11:58:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/09115152beb59ca.webp" type="image/webp" medium="image" height="602" width="1040">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/09115152beb59ca.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
