<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Perspectives</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کیلئے جنگ بندی کا لمحہ — اور ماضی کا سبق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284830/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جیسے ہی امریکہ ایران کے ساتھ فوجی کشیدگی کی طرف مزید بڑھ رہا تھا، پاکستان نے وہ کام کیا جو اس نے کئی برسوں میں نہیں کیا تھا—وہ اہم بن گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی الٹی میٹم کی آخری گھنٹوں میں، اسلام آباد نے ایک ثالث کے طور پر کردار ادا کیا۔ وزیرِاعظم شہباز شریف نے عوامی سطح پر جنگ بندی کی اپیل کی۔ پسِ پردہ پاکستان کی عسکری اور سفارتی قیادت نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطہ کاری کو ممکن بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند ہی گھنٹوں میں دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹس نے فوری ردعمل دیا۔ پاکستان کا کے ایس ای-100 انڈیکس انٹرا ڈے تقریباً 9 فیصد تک بڑھ گیا اور عارضی طور پر ٹریڈنگ روکنی پڑی—یہ تقریباً ایک سال میں اس کی سب سے بڑی یومیہ بہتری تھی۔ تیل کے حوالے سے خدشات کم ہو گئے۔ ایک بدترین منظرنامہ—جو توانائی کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیتا اور پہلے سے کمزور معیشتوں کو شدید نقصان پہنچاتا—کم از کم وقتی طور پر ٹل گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اخبارات نے اسے سفارتی کامیابی قرار دیا ہے۔ وہ غلط نہیں ہیں۔ لیکن ابھی مکمل بھی نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیونکہ پاکستان اس سے پہلے بھی اس مقام پر آ چکا ہے—ایک سے زیادہ بار۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1971 میں اس نے 20ویں صدی کے سب سے اہم جغرافیائی سیاسی مواقع میں سے ایک میں کردار ادا کیا—امریکہ اور چین کے درمیان خفیہ تعلقات کی بحالی۔ چند ہفتوں بعد جب پاکستان خود جنگ میں تھا اور ملک تقسیم کے خطرے سے دوچار تھا، یہ اسٹریٹجک اہمیت کسی حمایت میں تبدیل نہیں ہوئی۔ سبق یہ نہیں کہ ثالثی بے معنی ہے۔ سبق یہ ہے کہ ثالثی بذاتِ خود کچھ بھی یقینی طور پر فراہم نہیں کرتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی طرزِعمل حالیہ برسوں میں بھی دہرایا گیا ہے۔ پاکستان نے افغانستان سے امریکی انخلا اور طالبان کو اقتدار کی منتقلی میں مرکزی کردار ادا کیا۔ لیکن چند ہی ماہ بعد واشنگٹن اور کابل دونوں کے ساتھ تعلقات خراب ہو گئے۔ ایک بار پھر جغرافیائی اہمیت کا ایک لمحہ کسی مستقل معاشی یا اسٹریٹجک فائدے میں تبدیل نہیں ہو سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وہ فرق ہے جو اس موجودہ لمحے کو سمجھنے کی بنیاد ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو دوبارہ جغرافیائی سیاسی اہمیت کی واپسی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ لیکن اہمیت کوئی نتیجہ نہیں ہوتی۔ یہ ایک موقع ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان کسی بحران میں ثالثی کر سکتا ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس کردار کو کسی زیادہ پائیدار چیز میں تبدیل کر سکتا ہے—ایسی چیز جو خبروں میں نہیں بلکہ اس کے ادائیگیوں کے توازن میں نظر آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیونکہ سفارت کاری کے پیچھے ایک زیادہ سخت حقیقت موجود ہے۔ پاکستان نے صرف اصولی بنیاد پر مداخلت نہیں کی۔ اس نے اس لیے مداخلت کی کیونکہ اسے کرنا ہی تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اپنی تیل کی ضروریات کا تقریباً 80 سے 85 فیصد درآمد کرتا ہے، جس کی وجہ سے وہ عالمی قیمتوں کے جھٹکوں کے لیے انتہائی حساس ہے۔ توانائی ملک کے درآمدی بل کا ایک بڑا حصہ ہے، جس سے یہ معیشت کے بیرونی خطرات میں سب سے زیادہ کمزور اجزا میں سے ایک بن جاتی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر رسد آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے، جو ایک ایسا مقام ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد حصہ تیل کی فراہمی گزرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ کشیدگی پہلے ہی اثر انداز ہونا شروع ہو چکی تھی۔ حکومت کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھانی پڑیں، جبکہ مالی دباؤ کو سنبھالنے کے لیے فیول سبسڈی بھی ختم کر دی گئی۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پارلیمنٹ میں کہا کہ اس بحران کے معاشی اثرات جنگ بندی کے بعد بھی برقرار رہیں گے۔ اگرچہ جنگ بندی ہو بھی جائے، معمول کی صورتحال بحال ہونے میں ہفتوں بلکہ ممکنہ طور پر مہینے لگ سکتے ہیں، کیونکہ توانائی کا انفرااسٹرکچر متاثر ہوا ہے اور مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس لیے ہمیں منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تناظر میں ثالثی صرف سفارت کاری نہیں تھی۔ یہ معاشی بقا کا عمل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور یہی وجہ ہے کہ یہ اہم لمحہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ ممالک جنہوں نے عالمی تنازعات میں کامیابی کے ساتھ ثالثی کے کردار ادا کیے ہیں، انہوں نے اسے کبھی بھی ایک الگ تھلگ واقعہ کے طور پر نہیں دیکھا۔ انہوں نے اس کے گرد نظام قائم کیے ہیں۔ عمان نے غیرجانبداری کو بندرگاہی انفرااسٹرکچر اور صنعتی زونز میں تبدیل کیا۔ قطر نے سفارتی مرکزیت کو ایوی ایشن حب اور توانائی کے اثر و رسوخ میں ڈھالا۔ سنگاپور نے اعتبار کو سرمائے کے بہاؤ اور مالیاتی غلبے میں بدل دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے تحفظ کا انتظار نہیں کیا۔ انہوں نے اپنی حیثیت خود بنائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور پابندی بھی ہے جسے ان ممالک نے ابتدا ہی میں حل کیا: داخلی استحکام۔ تجارتی بہاؤ، سرمایہ کاری اور لاجسٹکس صرف سفارت کاری کے پیچھے نہیں چلتے—یہ سب قابلِ پیش گوئی ماحول کے پیچھے چلتے ہیں۔ پاکستان کا اپنے گزشتہ دو دہائیوں کا تجربہ یہ دکھاتا ہے کہ سکیورٹی کے مسائل کس تیزی سے معاشی امکانات کو کمزور کر سکتے ہیں، سرمایہ کاری کو روک سکتے ہیں اور تسلسل کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ثالثی بین الاقوامی سطح پر دروازے تو کھول سکتی ہے، لیکن اندرونی استحکام کے بغیر وہ دروازے کھلے نہیں رہتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس پاکستان نے تاریخی طور پر جغرافیائی سیاسی مواقع کو لین دین کے طور پر دیکھا ہے—اس وقت قیمتی، مگر طویل المدتی معاشی حکمت عملی سے منقطع۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے ساتھ جنگ بندی پاکستان کے لیے ایک موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ کچھ مختلف کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اسلام آباد فالو اَپ مذاکرات کی میزبانی میں کامیاب ہوتا ہے، تو یہ ایک ایسے خطے میں خود کو ایک غیرجانبدار پلیٹ فارم کے طور پر پیش کرنا شروع کر سکتا ہے جہاں اس کی کمی ہے۔ اگر یہ اپنی جغرافیائی حیثیت کو استعمال کرتا ہے، تو یہ خلیج، وسطی ایشیا اور اس سے آگے تجارت اور لاجسٹکس میں اپنا کردار مزید مضبوط کر سکتا ہے۔ اگر یہ پالیسی کو اپنی اسٹریٹجک پوزیشننگ کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے، تو یہ ان کمزوریوں کو کم کر سکتا ہے جنہوں نے اسے خود ثالثی پر مجبور کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سب کچھ خود بخود نہیں ہوتا۔ اعتبار ایک بار حاصل ہو جائے تو آسانی سے کھو بھی دیا جاتا ہے۔ اور جغرافیائی سیاسی اہمیت اگر معاشی ڈھانچے سے منسلک نہ ہو تو وہ جلد ختم ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خطرہ یہ ہوگا کہ اس واقعے کو ایک توثیق سمجھ لیا جائے—اسے اس بات کا ثبوت مان لیا جائے کہ پاکستان واپس عالمی اسٹیج پر آ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن 1971—اور اس کے بعد کا پورا عرصہ—زیادہ حقیقت پسندانہ نقطہ نظر پیش کرتا ہے۔ پاکستان نے اس وقت ایک دروازہ کھولا تھا، اور بدلے کی توقع رکھی تھی۔ اسے بہت کم ملا۔ اس لیے نہیں کہ وہ لمحہ اہم نہیں تھا، بلکہ اس لیے کہ اہمیت اکیلے کوئی طاقت (لیوریج) پیدا نہیں کرتی۔ آج پاکستان نے ایک اور دروازہ کھولا ہے۔ فرق یہ ہوگا کہ کیا وہ اس کے دوسری طرف کچھ تعمیر کرتا ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جیسے ہی امریکہ ایران کے ساتھ فوجی کشیدگی کی طرف مزید بڑھ رہا تھا، پاکستان نے وہ کام کیا جو اس نے کئی برسوں میں نہیں کیا تھا—وہ اہم بن گیا۔</strong></p>
<p>صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی الٹی میٹم کی آخری گھنٹوں میں، اسلام آباد نے ایک ثالث کے طور پر کردار ادا کیا۔ وزیرِاعظم شہباز شریف نے عوامی سطح پر جنگ بندی کی اپیل کی۔ پسِ پردہ پاکستان کی عسکری اور سفارتی قیادت نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطہ کاری کو ممکن بنایا۔</p>
<p>چند ہی گھنٹوں میں دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کر دیا گیا۔</p>
<p>مارکیٹس نے فوری ردعمل دیا۔ پاکستان کا کے ایس ای-100 انڈیکس انٹرا ڈے تقریباً 9 فیصد تک بڑھ گیا اور عارضی طور پر ٹریڈنگ روکنی پڑی—یہ تقریباً ایک سال میں اس کی سب سے بڑی یومیہ بہتری تھی۔ تیل کے حوالے سے خدشات کم ہو گئے۔ ایک بدترین منظرنامہ—جو توانائی کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیتا اور پہلے سے کمزور معیشتوں کو شدید نقصان پہنچاتا—کم از کم وقتی طور پر ٹل گیا۔</p>
<p>اخبارات نے اسے سفارتی کامیابی قرار دیا ہے۔ وہ غلط نہیں ہیں۔ لیکن ابھی مکمل بھی نہیں ہیں۔</p>
<p>کیونکہ پاکستان اس سے پہلے بھی اس مقام پر آ چکا ہے—ایک سے زیادہ بار۔</p>
<p>1971 میں اس نے 20ویں صدی کے سب سے اہم جغرافیائی سیاسی مواقع میں سے ایک میں کردار ادا کیا—امریکہ اور چین کے درمیان خفیہ تعلقات کی بحالی۔ چند ہفتوں بعد جب پاکستان خود جنگ میں تھا اور ملک تقسیم کے خطرے سے دوچار تھا، یہ اسٹریٹجک اہمیت کسی حمایت میں تبدیل نہیں ہوئی۔ سبق یہ نہیں کہ ثالثی بے معنی ہے۔ سبق یہ ہے کہ ثالثی بذاتِ خود کچھ بھی یقینی طور پر فراہم نہیں کرتی۔</p>
<p>یہی طرزِعمل حالیہ برسوں میں بھی دہرایا گیا ہے۔ پاکستان نے افغانستان سے امریکی انخلا اور طالبان کو اقتدار کی منتقلی میں مرکزی کردار ادا کیا۔ لیکن چند ہی ماہ بعد واشنگٹن اور کابل دونوں کے ساتھ تعلقات خراب ہو گئے۔ ایک بار پھر جغرافیائی اہمیت کا ایک لمحہ کسی مستقل معاشی یا اسٹریٹجک فائدے میں تبدیل نہیں ہو سکا۔</p>
<p>یہ وہ فرق ہے جو اس موجودہ لمحے کو سمجھنے کی بنیاد ہونا چاہیے۔</p>
<p>امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو دوبارہ جغرافیائی سیاسی اہمیت کی واپسی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ لیکن اہمیت کوئی نتیجہ نہیں ہوتی۔ یہ ایک موقع ہوتا ہے۔</p>
<p>اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان کسی بحران میں ثالثی کر سکتا ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس کردار کو کسی زیادہ پائیدار چیز میں تبدیل کر سکتا ہے—ایسی چیز جو خبروں میں نہیں بلکہ اس کے ادائیگیوں کے توازن میں نظر آئے۔</p>
<p>کیونکہ سفارت کاری کے پیچھے ایک زیادہ سخت حقیقت موجود ہے۔ پاکستان نے صرف اصولی بنیاد پر مداخلت نہیں کی۔ اس نے اس لیے مداخلت کی کیونکہ اسے کرنا ہی تھا۔</p>
<p>پاکستان اپنی تیل کی ضروریات کا تقریباً 80 سے 85 فیصد درآمد کرتا ہے، جس کی وجہ سے وہ عالمی قیمتوں کے جھٹکوں کے لیے انتہائی حساس ہے۔ توانائی ملک کے درآمدی بل کا ایک بڑا حصہ ہے، جس سے یہ معیشت کے بیرونی خطرات میں سب سے زیادہ کمزور اجزا میں سے ایک بن جاتی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر رسد آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے، جو ایک ایسا مقام ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد حصہ تیل کی فراہمی گزرتی ہے۔</p>
<p>حالیہ کشیدگی پہلے ہی اثر انداز ہونا شروع ہو چکی تھی۔ حکومت کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھانی پڑیں، جبکہ مالی دباؤ کو سنبھالنے کے لیے فیول سبسڈی بھی ختم کر دی گئی۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پارلیمنٹ میں کہا کہ اس بحران کے معاشی اثرات جنگ بندی کے بعد بھی برقرار رہیں گے۔ اگرچہ جنگ بندی ہو بھی جائے، معمول کی صورتحال بحال ہونے میں ہفتوں بلکہ ممکنہ طور پر مہینے لگ سکتے ہیں، کیونکہ توانائی کا انفرااسٹرکچر متاثر ہوا ہے اور مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس لیے ہمیں منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔</p>
<p>اس تناظر میں ثالثی صرف سفارت کاری نہیں تھی۔ یہ معاشی بقا کا عمل تھا۔</p>
<p>اور یہی وجہ ہے کہ یہ اہم لمحہ ہے۔</p>
<p>وہ ممالک جنہوں نے عالمی تنازعات میں کامیابی کے ساتھ ثالثی کے کردار ادا کیے ہیں، انہوں نے اسے کبھی بھی ایک الگ تھلگ واقعہ کے طور پر نہیں دیکھا۔ انہوں نے اس کے گرد نظام قائم کیے ہیں۔ عمان نے غیرجانبداری کو بندرگاہی انفرااسٹرکچر اور صنعتی زونز میں تبدیل کیا۔ قطر نے سفارتی مرکزیت کو ایوی ایشن حب اور توانائی کے اثر و رسوخ میں ڈھالا۔ سنگاپور نے اعتبار کو سرمائے کے بہاؤ اور مالیاتی غلبے میں بدل دیا۔</p>
<p>انہوں نے تحفظ کا انتظار نہیں کیا۔ انہوں نے اپنی حیثیت خود بنائی۔</p>
<p>ایک اور پابندی بھی ہے جسے ان ممالک نے ابتدا ہی میں حل کیا: داخلی استحکام۔ تجارتی بہاؤ، سرمایہ کاری اور لاجسٹکس صرف سفارت کاری کے پیچھے نہیں چلتے—یہ سب قابلِ پیش گوئی ماحول کے پیچھے چلتے ہیں۔ پاکستان کا اپنے گزشتہ دو دہائیوں کا تجربہ یہ دکھاتا ہے کہ سکیورٹی کے مسائل کس تیزی سے معاشی امکانات کو کمزور کر سکتے ہیں، سرمایہ کاری کو روک سکتے ہیں اور تسلسل کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ثالثی بین الاقوامی سطح پر دروازے تو کھول سکتی ہے، لیکن اندرونی استحکام کے بغیر وہ دروازے کھلے نہیں رہتے۔</p>
<p>اس کے برعکس پاکستان نے تاریخی طور پر جغرافیائی سیاسی مواقع کو لین دین کے طور پر دیکھا ہے—اس وقت قیمتی، مگر طویل المدتی معاشی حکمت عملی سے منقطع۔</p>
<p>ایران کے ساتھ جنگ بندی پاکستان کے لیے ایک موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ کچھ مختلف کرے۔</p>
<p>اگر اسلام آباد فالو اَپ مذاکرات کی میزبانی میں کامیاب ہوتا ہے، تو یہ ایک ایسے خطے میں خود کو ایک غیرجانبدار پلیٹ فارم کے طور پر پیش کرنا شروع کر سکتا ہے جہاں اس کی کمی ہے۔ اگر یہ اپنی جغرافیائی حیثیت کو استعمال کرتا ہے، تو یہ خلیج، وسطی ایشیا اور اس سے آگے تجارت اور لاجسٹکس میں اپنا کردار مزید مضبوط کر سکتا ہے۔ اگر یہ پالیسی کو اپنی اسٹریٹجک پوزیشننگ کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے، تو یہ ان کمزوریوں کو کم کر سکتا ہے جنہوں نے اسے خود ثالثی پر مجبور کیا۔</p>
<p>یہ سب کچھ خود بخود نہیں ہوتا۔ اعتبار ایک بار حاصل ہو جائے تو آسانی سے کھو بھی دیا جاتا ہے۔ اور جغرافیائی سیاسی اہمیت اگر معاشی ڈھانچے سے منسلک نہ ہو تو وہ جلد ختم ہو جاتی ہے۔</p>
<p>خطرہ یہ ہوگا کہ اس واقعے کو ایک توثیق سمجھ لیا جائے—اسے اس بات کا ثبوت مان لیا جائے کہ پاکستان واپس عالمی اسٹیج پر آ گیا ہے۔</p>
<p>لیکن 1971—اور اس کے بعد کا پورا عرصہ—زیادہ حقیقت پسندانہ نقطہ نظر پیش کرتا ہے۔ پاکستان نے اس وقت ایک دروازہ کھولا تھا، اور بدلے کی توقع رکھی تھی۔ اسے بہت کم ملا۔ اس لیے نہیں کہ وہ لمحہ اہم نہیں تھا، بلکہ اس لیے کہ اہمیت اکیلے کوئی طاقت (لیوریج) پیدا نہیں کرتی۔ آج پاکستان نے ایک اور دروازہ کھولا ہے۔ فرق یہ ہوگا کہ کیا وہ اس کے دوسری طرف کچھ تعمیر کرتا ہے یا نہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Perspectives</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284830</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Apr 2026 12:04:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر لیجر)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/0912023797a12ac.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/0912023797a12ac.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
