<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹی آئی پی کا مشیرِ نجکاری کو خط، اتصالات سے 6 ارب ڈالر کے بقایا جات وصول کرنے کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284823/</link>
      <description>&lt;p&gt;ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان (ٹی آئی پی) نے وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو میسرز اتصالات سے سنہ 2005 سے واجب الادا 800 ملین امریکی ڈالر کے بقایا جات وصول کرنے کی ہدایت کریں جو مبینہ طور پر دو دہائیاں گزرنے کے بعد اب بڑھ کر تقریباً 6 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشیرِ نجکاری کے نام لکھے گئے ایک خط میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان  نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس نے 2011 میں چیف جسٹس آف پاکستان سے رجوع کر کے اس جانب توجہ دلائی تھی کہ متحدہ عرب امارات کی کمپنی میسرز اتصالات 800 ملین ڈالر کی نادہندہ ہے جو اس وقت بڑھ کر 1.6 ارب ڈالر ہوچکے تھے۔ اب مزید 15 سال گزرنے کے بعد یہ رقم 6 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے جسے خزانے کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کے مالکان سے وصول کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے مزید کہا کہ اس نے پی ٹی اے اور سپریم کورٹ آف پاکستان کو 2 فیصد جرمانے کے مد میں ہونے والے نقصان کے بارے میں خط لکھا ہے جس کا تخمینہ سات سال (2005 سے) کے دوران 1.5 ارب امریکی ڈالر لگایا گیا ہے، اس کے ساتھ میسرز اتصالات کی جانب سے پی ٹی سی ایل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کے 800 ملین امریکی ڈالر سے زائد کی عدم ادائیگی کا معاملہ بھی اٹھایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے مطابق پی ٹی اے کی جانب سے مبینہ طور پر میسرز اتصالات کو دی گئی غیر ضروری رعایت پی ٹی اے کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے جس کی وجہ سے خزانے کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹی آئی پی نے کہا کہ جب کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات پی ٹی سی ایل سے متعلق دیرینہ مسائل کو حل کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں تو یہ ضروری ہے کہ حکومتِ پاکستان واجب الادا ادائیگیوں (ڈیفالٹڈ پیمنٹس) کا معاملہ اٹھائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری سے درخواست کی ہے کہ وہ پی ٹی سی ایل کیس پر نظرثانی کریں اور پی ٹی اے کو واجب الادا بقایا جات کی وصولی کے لیے ہدایات جاری کریں جو 2005 میں 800 ملین امریکی ڈالر سے بڑھ کر آج تقریباً 6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ جنوری 2026 میں پاکستان نے پی ٹی سی ایل کی نجکاری اور آپریشنز سے متعلق دیرینہ مسائل کے فوری حل کی خواہش ظاہر کی تھی جس کا انتظام متحدہ عرب امارات کی ٹیلی کام کمپنی اتصالات سنبھال رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان مسائل پر بشمول اتصالات کی جانب سے حکومتِ پاکستان کو تقریباً 800 ملین  ڈالر کی زیرِ التوا ادائیگی دبئی میں ہونے والے ایک اجلاس کے دوران تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور جاسم محمد بو عتبہ الزعابی شریک تھے جو ابوظہبی کے محکمہ فنانس کے چیئرمین، ابوظہبی کی سپریم کونسل برائے مالیاتی و اقتصادی امور کے سیکرٹری جنرل، اتصالات کے چیئرمین اور ابوظہبی ہولڈنگ کمپنی  کے وائس چیئرمین ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان (ٹی آئی پی) نے وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو میسرز اتصالات سے سنہ 2005 سے واجب الادا 800 ملین امریکی ڈالر کے بقایا جات وصول کرنے کی ہدایت کریں جو مبینہ طور پر دو دہائیاں گزرنے کے بعد اب بڑھ کر تقریباً 6 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔</p>
<p>مشیرِ نجکاری کے نام لکھے گئے ایک خط میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان  نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس نے 2011 میں چیف جسٹس آف پاکستان سے رجوع کر کے اس جانب توجہ دلائی تھی کہ متحدہ عرب امارات کی کمپنی میسرز اتصالات 800 ملین ڈالر کی نادہندہ ہے جو اس وقت بڑھ کر 1.6 ارب ڈالر ہوچکے تھے۔ اب مزید 15 سال گزرنے کے بعد یہ رقم 6 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے جسے خزانے کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کے مالکان سے وصول کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے مزید کہا کہ اس نے پی ٹی اے اور سپریم کورٹ آف پاکستان کو 2 فیصد جرمانے کے مد میں ہونے والے نقصان کے بارے میں خط لکھا ہے جس کا تخمینہ سات سال (2005 سے) کے دوران 1.5 ارب امریکی ڈالر لگایا گیا ہے، اس کے ساتھ میسرز اتصالات کی جانب سے پی ٹی سی ایل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کے 800 ملین امریکی ڈالر سے زائد کی عدم ادائیگی کا معاملہ بھی اٹھایا گیا ہے۔</p>
<p>ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے مطابق پی ٹی اے کی جانب سے مبینہ طور پر میسرز اتصالات کو دی گئی غیر ضروری رعایت پی ٹی اے کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے جس کی وجہ سے خزانے کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔</p>
<p>ٹی آئی پی نے کہا کہ جب کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات پی ٹی سی ایل سے متعلق دیرینہ مسائل کو حل کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں تو یہ ضروری ہے کہ حکومتِ پاکستان واجب الادا ادائیگیوں (ڈیفالٹڈ پیمنٹس) کا معاملہ اٹھائے۔</p>
<p>ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری سے درخواست کی ہے کہ وہ پی ٹی سی ایل کیس پر نظرثانی کریں اور پی ٹی اے کو واجب الادا بقایا جات کی وصولی کے لیے ہدایات جاری کریں جو 2005 میں 800 ملین امریکی ڈالر سے بڑھ کر آج تقریباً 6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ جنوری 2026 میں پاکستان نے پی ٹی سی ایل کی نجکاری اور آپریشنز سے متعلق دیرینہ مسائل کے فوری حل کی خواہش ظاہر کی تھی جس کا انتظام متحدہ عرب امارات کی ٹیلی کام کمپنی اتصالات سنبھال رہی ہے۔</p>
<p>ان مسائل پر بشمول اتصالات کی جانب سے حکومتِ پاکستان کو تقریباً 800 ملین  ڈالر کی زیرِ التوا ادائیگی دبئی میں ہونے والے ایک اجلاس کے دوران تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور جاسم محمد بو عتبہ الزعابی شریک تھے جو ابوظہبی کے محکمہ فنانس کے چیئرمین، ابوظہبی کی سپریم کونسل برائے مالیاتی و اقتصادی امور کے سیکرٹری جنرل، اتصالات کے چیئرمین اور ابوظہبی ہولڈنگ کمپنی  کے وائس چیئرمین ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284823</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Apr 2026 11:08:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/091048417bebef1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/091048417bebef1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
