<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 16:45:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 16:45:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی، عالمی منڈیوں میں ڈالر کی قیمت میں استحکام</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284820/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈالر نے جمعرات کی ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران وسیع پیمانے پر ہونے والے نقصانات کے بعد کچھ سنبھلنے کی کوشش کی کیونکہ سرمایہ کار اس بات کا بے چینی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں پر مشتمل نازک جنگ بندی برقرار رہ پائے گی یا نہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر انڈیکس جو ین اور یورو سمیت دیگر اہم کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کی قدر کی پیمائش کرتا ہے 0.03 فیصد اضافے کے ساتھ 99.09 پر پہنچ گیا جبکہ یورو کی قدر 0.07 فیصد کمی کے ساتھ 1.1654 ڈالر رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ین نے بھی گزشتہ روز کے حاصل کردہ فوائد میں سے کچھ حصہ گنوادیا اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں 0.06 فیصد کمی کے ساتھ 158.7 فی ڈالر کی سطح پر آگیا۔ دوسری جانب برطانوی پاؤنڈ (اسٹرلنگ) کی قدر میں بھی 0.04 فیصد کی معمولی گراوٹ دیکھی گئی اور یہ 1.3387 ڈالر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقِ وسطیٰ کے تنازع میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد بدھ کو ڈالر گر کر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود یہ معاہدہ خطرات سے دوچار دکھائی دے رہا ہے، کیونکہ اسرائیل نے لبنان میں ایران کی حامی ملیشیا حزب اللہ کے خلاف اپنی متوازی جنگ جاری رکھی ہوئی ہے جبکہ تہران نے اسرائیل اور امریکہ دونوں پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن مذاکرات کو آگے بڑھانا غیر منطقی ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز اب بھی بغیر اجازت کے سفر کرنے والے بحری جہازوں کے لیے بند ہے جبکہ شپرز کا کہنا ہے کہ وہ نقل و حمل دوبارہ شروع کرنے سے قبل صورتحال کا جائزہ لیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنسیوں کے مقابلے میں ایران جنگ سے سب سے زیادہ فائدہ امریکی ڈالر کو پہنچا ہے جس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ امریکہ توانائی کا خالص برآمد کنندہ ہے اور اسی لیے وہ تیل درآمد کرنے والے ممالک جیسے کہ جاپان اور کئی یورپی ممالک کے مقابلے میں ان معاشی اثرات سے کم متاثر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پانچ ہفتوں سے جاری اس جنگ نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متزلزل کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل اور گیس کی سپلائی میں تاریخ کا سب سے بڑا تعطل پیدا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس غیر یقینی جنگ بندی کے نتیجے میں، ایران کو اس اہم آبی گزرگاہ (آبنائے ہرمز) سے ہونے والی جہاز رانی پر تنازع سے پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہو گیا ہے، اور یہ صورتحال صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے سویلین انفراسٹرکچر (شہری ڈھانچے) پر حملہ کرنے کی دھمکیوں سے دستبردار ہونے کے بعد پیدا ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ جمعرات کو فروری کے پرسنل اخراجات  اور پی سی ای ڈیفلیٹ کے اعداد و شمار جاری کرنے والا ہے۔ مٹسوبشی یو ایف جے بینک کے سینئر تجزیہ کار اکیہیکو یوکو نے ایک نوٹ میں کہا ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے کے بعد جذبات میں بہتری کے باوجود، ٹوکیو ٹریڈنگ میں ڈالر-ین کی جوڑی ایک محدود حد میں رہ سکتی ہے، تاہم امریکہ کے مضبوط معاشی اعداد و شمار ڈالر کی قدر میں دوبارہ اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توقع ہے کہ بینک آف جاپان کے گورنر کازوؤ یوئیدا جمعرات کو پارلیمنٹ میں پیش ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلوی ڈالر کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں 0.13 فیصد کمی کے ساتھ 0.7034 ڈالر رہی۔ نیوزی لینڈ کا کیوی بھی امریکی ڈالر کے مقابلے میں 0.02 فیصد گر کر 0.5821 ڈالر کی سطح پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرپٹو کرنسیوں کی مارکیٹ میں، بٹ کوائن 0.50 فیصد کمی کے ساتھ 71,018.20 ڈالر تک گر گیا جبکہ ایتھیریم کی قیمت 0.96 فیصد کمی کے ساتھ 2,188.86 ڈالر ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ڈالر نے جمعرات کی ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران وسیع پیمانے پر ہونے والے نقصانات کے بعد کچھ سنبھلنے کی کوشش کی کیونکہ سرمایہ کار اس بات کا بے چینی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں پر مشتمل نازک جنگ بندی برقرار رہ پائے گی یا نہیں۔</strong></p>
<p>ڈالر انڈیکس جو ین اور یورو سمیت دیگر اہم کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کی قدر کی پیمائش کرتا ہے 0.03 فیصد اضافے کے ساتھ 99.09 پر پہنچ گیا جبکہ یورو کی قدر 0.07 فیصد کمی کے ساتھ 1.1654 ڈالر رہی۔</p>
<p>ین نے بھی گزشتہ روز کے حاصل کردہ فوائد میں سے کچھ حصہ گنوادیا اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں 0.06 فیصد کمی کے ساتھ 158.7 فی ڈالر کی سطح پر آگیا۔ دوسری جانب برطانوی پاؤنڈ (اسٹرلنگ) کی قدر میں بھی 0.04 فیصد کی معمولی گراوٹ دیکھی گئی اور یہ 1.3387 ڈالر رہا۔</p>
<p>مشرقِ وسطیٰ کے تنازع میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد بدھ کو ڈالر گر کر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا تھا۔</p>
<p>اس کے باوجود یہ معاہدہ خطرات سے دوچار دکھائی دے رہا ہے، کیونکہ اسرائیل نے لبنان میں ایران کی حامی ملیشیا حزب اللہ کے خلاف اپنی متوازی جنگ جاری رکھی ہوئی ہے جبکہ تہران نے اسرائیل اور امریکہ دونوں پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن مذاکرات کو آگے بڑھانا غیر منطقی ہوگا۔</p>
<p>آبنائے ہرمز اب بھی بغیر اجازت کے سفر کرنے والے بحری جہازوں کے لیے بند ہے جبکہ شپرز کا کہنا ہے کہ وہ نقل و حمل دوبارہ شروع کرنے سے قبل صورتحال کا جائزہ لیں گی۔</p>
<p>کرنسیوں کے مقابلے میں ایران جنگ سے سب سے زیادہ فائدہ امریکی ڈالر کو پہنچا ہے جس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ امریکہ توانائی کا خالص برآمد کنندہ ہے اور اسی لیے وہ تیل درآمد کرنے والے ممالک جیسے کہ جاپان اور کئی یورپی ممالک کے مقابلے میں ان معاشی اثرات سے کم متاثر ہوتا ہے۔</p>
<p>پانچ ہفتوں سے جاری اس جنگ نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متزلزل کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل اور گیس کی سپلائی میں تاریخ کا سب سے بڑا تعطل پیدا ہوا ہے۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس غیر یقینی جنگ بندی کے نتیجے میں، ایران کو اس اہم آبی گزرگاہ (آبنائے ہرمز) سے ہونے والی جہاز رانی پر تنازع سے پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہو گیا ہے، اور یہ صورتحال صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے سویلین انفراسٹرکچر (شہری ڈھانچے) پر حملہ کرنے کی دھمکیوں سے دستبردار ہونے کے بعد پیدا ہوئی ہے۔</p>
<p>امریکہ جمعرات کو فروری کے پرسنل اخراجات  اور پی سی ای ڈیفلیٹ کے اعداد و شمار جاری کرنے والا ہے۔ مٹسوبشی یو ایف جے بینک کے سینئر تجزیہ کار اکیہیکو یوکو نے ایک نوٹ میں کہا ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے کے بعد جذبات میں بہتری کے باوجود، ٹوکیو ٹریڈنگ میں ڈالر-ین کی جوڑی ایک محدود حد میں رہ سکتی ہے، تاہم امریکہ کے مضبوط معاشی اعداد و شمار ڈالر کی قدر میں دوبارہ اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔</p>
<p>توقع ہے کہ بینک آف جاپان کے گورنر کازوؤ یوئیدا جمعرات کو پارلیمنٹ میں پیش ہوں گے۔</p>
<p>آسٹریلوی ڈالر کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں 0.13 فیصد کمی کے ساتھ 0.7034 ڈالر رہی۔ نیوزی لینڈ کا کیوی بھی امریکی ڈالر کے مقابلے میں 0.02 فیصد گر کر 0.5821 ڈالر کی سطح پر آگیا۔</p>
<p>کرپٹو کرنسیوں کی مارکیٹ میں، بٹ کوائن 0.50 فیصد کمی کے ساتھ 71,018.20 ڈالر تک گر گیا جبکہ ایتھیریم کی قیمت 0.96 فیصد کمی کے ساتھ 2,188.86 ڈالر ریکارڈ کی گئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284820</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Apr 2026 10:19:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/091015517eae1e5.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/091015517eae1e5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
