<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 10:28:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 10:28:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فروری ایف سی اے، نیپرا نے بجلی کی قیمت میں 1.4 روپے فی یونٹ اضافہ کردیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284819/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیپرا نے فروری 2026 کے لیے مثبت فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت بجلی کی قیمت میں 1.42 روپے فی یونٹ اضافہ کیا جائے گا۔ یہ اضافہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں(ڈسکوز) اور کے الیکٹرک دونوں کے صارفین پر لاگو ہوگا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا نے یہ فیصلہ 31 مارچ 2026 کو ہونے والی عوامی سماعت کے بعد کیا، جس میں سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (گارنٹیڈ)، پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی اور انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر کے نمائندوں نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ ڈسکوز اور کے الیکٹرک پہلے ہی مارچ 2026 میں 1.63 روپے فی یونٹ ایف سی اے وصول کر چکے ہیں، اس لیے نئے ریٹ کے بعد صارفین کو عملی طور پر 0.21 روپے فی یونٹ کا معمولی ریلیف اپریل کے بلوں میں ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماعت کے دوران صنعتی صارفین کی جانب سے نشاندہی کی گئی کہ کراس سبسڈی اور پی ایچ ایل سرچارج کے باعث گزشتہ تین سال میں صنعتوں پر 564.7 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑا ہے، جو کاروباری سرگرمیوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ایف سی اے کے حساب میں شفافیت اور درست ڈیٹا کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت توانائی (پاور ڈویژن) کے نمائندوں نے مؤقف اختیار کیا کہ نیپرا ایکٹ کے تحت ٹیرف کا تعین حقیقی اور مؤثر لاگت کے مطابق کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ایندھن کی قیمتوں، شرح مبادلہ، طلب اور پیداوار کے نظام جیسے عوامل ٹیرف پر اثر انداز ہوتے ہیں، جو ریگولیٹر اور حکومت کے کنٹرول سے باہر ہوتے ہیں، اس لیے ان کا اثر صارفین تک منتقل کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت توانائی نے مزید بتایا کہ صنعتی شعبے کی مسابقت بڑھانے کے لیے حکومت نے کراس سبسڈی ختم کر دی ہے، جس کے نتیجے میں صنعتی ٹیرف میں 4.04 روپے فی یونٹ کمی ہوئی ہے۔ مارچ 2024 میں صنعتی بجلی کی قیمت 49.19 روپے فی یونٹ تھی جو مارچ 2026 میں کم ہو کر 34.75 روپے فی یونٹ رہ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ تین سالہ انکریمنٹل کنزمپشن پیکیج کے تحت صنعتی اور زرعی شعبے کے لیے رعایتی نرخ 22.98 روپے فی یونٹ مقرر کیے گئے ہیں تاکہ پیداوار، برآمدات اور روزگار میں اضافہ ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن نے واضح کیا کہ ملک میں گیس کی فراہمی اور عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث مستقبل کی قیمتوں کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے، اس لیے فیول ایڈجسٹمنٹ کا انحصار اصل پیداواری لاگت اور نظام کی ضروریات پر ہوتا ہے۔ فی الحال ملک میں بجلی کی طلب پوری کی جا رہی ہے اور اضافی لوڈ شیڈنگ نہیں کی جا رہی، تاہم مستقبل کی صورتحال ایندھن کی دستیابی اور عالمی حالات پر منحصر ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیپرا نے فروری 2026 کے لیے مثبت فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت بجلی کی قیمت میں 1.42 روپے فی یونٹ اضافہ کیا جائے گا۔ یہ اضافہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں(ڈسکوز) اور کے الیکٹرک دونوں کے صارفین پر لاگو ہوگا۔</strong></p>
<p>نیپرا نے یہ فیصلہ 31 مارچ 2026 کو ہونے والی عوامی سماعت کے بعد کیا، جس میں سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (گارنٹیڈ)، پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی اور انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر کے نمائندوں نے شرکت کی۔</p>
<p>چونکہ ڈسکوز اور کے الیکٹرک پہلے ہی مارچ 2026 میں 1.63 روپے فی یونٹ ایف سی اے وصول کر چکے ہیں، اس لیے نئے ریٹ کے بعد صارفین کو عملی طور پر 0.21 روپے فی یونٹ کا معمولی ریلیف اپریل کے بلوں میں ملے گا۔</p>
<p>سماعت کے دوران صنعتی صارفین کی جانب سے نشاندہی کی گئی کہ کراس سبسڈی اور پی ایچ ایل سرچارج کے باعث گزشتہ تین سال میں صنعتوں پر 564.7 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑا ہے، جو کاروباری سرگرمیوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ایف سی اے کے حساب میں شفافیت اور درست ڈیٹا کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے۔</p>
<p>وزارت توانائی (پاور ڈویژن) کے نمائندوں نے مؤقف اختیار کیا کہ نیپرا ایکٹ کے تحت ٹیرف کا تعین حقیقی اور مؤثر لاگت کے مطابق کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ایندھن کی قیمتوں، شرح مبادلہ، طلب اور پیداوار کے نظام جیسے عوامل ٹیرف پر اثر انداز ہوتے ہیں، جو ریگولیٹر اور حکومت کے کنٹرول سے باہر ہوتے ہیں، اس لیے ان کا اثر صارفین تک منتقل کیا جاتا ہے۔</p>
<p>وزارت توانائی نے مزید بتایا کہ صنعتی شعبے کی مسابقت بڑھانے کے لیے حکومت نے کراس سبسڈی ختم کر دی ہے، جس کے نتیجے میں صنعتی ٹیرف میں 4.04 روپے فی یونٹ کمی ہوئی ہے۔ مارچ 2024 میں صنعتی بجلی کی قیمت 49.19 روپے فی یونٹ تھی جو مارچ 2026 میں کم ہو کر 34.75 روپے فی یونٹ رہ گئی ہے۔</p>
<p>اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ تین سالہ انکریمنٹل کنزمپشن پیکیج کے تحت صنعتی اور زرعی شعبے کے لیے رعایتی نرخ 22.98 روپے فی یونٹ مقرر کیے گئے ہیں تاکہ پیداوار، برآمدات اور روزگار میں اضافہ ہو سکے۔</p>
<p>پاور ڈویژن نے واضح کیا کہ ملک میں گیس کی فراہمی اور عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث مستقبل کی قیمتوں کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے، اس لیے فیول ایڈجسٹمنٹ کا انحصار اصل پیداواری لاگت اور نظام کی ضروریات پر ہوتا ہے۔ فی الحال ملک میں بجلی کی طلب پوری کی جا رہی ہے اور اضافی لوڈ شیڈنگ نہیں کی جا رہی، تاہم مستقبل کی صورتحال ایندھن کی دستیابی اور عالمی حالات پر منحصر ہوگی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284819</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Apr 2026 10:16:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/09101301a03d01d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/09101301a03d01d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
