<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایرانی وزیر خارجہ کا پاکستانی ثالثوں سے رابطہ، اسرائیلی جنگ بندی خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھا دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284811/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایرانی وزارت کے بیان کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کے روز پاکستانی ثالثوں کے ساتھ رابطے میں اسرائیل کی جانب سے ”جنگ بندی کی خلاف ورزیوں“ کا معاملہ اٹھایا، جبکہ اعلیٰ حکام کے حوالے سے آنے والی رپورٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ تہران لبنان پر حملوں کے باعث جنگ بندی سے دستبردار ہو سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق عباس عراقچی نے طاقتور پاکستانی عسکری رہنما فیلڈ مارشل عاصم منیر سے گفتگو میں اسرائیل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایران اور لبنان میں ”صہیونی ریاست کی جنگ بندی خلاف ورزیوں“ پر بات چیت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی میڈیا اور الجزیرہ کی رپورٹس، جو ایرانی حکام اور باخبر ذرائع کے حوالے سے ہیں، کے مطابق تہران لبنان پر اسرائیلی بمباری کے ردعمل میں جنگ بندی سے نکلنے اور جوابی کارروائی کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ”اگر اسرائیل لبنان پر حملوں کے ذریعے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری رکھتا ہے تو ایران اس معاہدے سے دستبردار ہو جائے گا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے انقلابی گارڈز نے ٹیلیگرام پر بیان میں عزم ظاہر کیا کہ ”لبنان میں کیے گئے مظالم اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر اسرائیل کو سزا دی جائے گی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الجزیرہ ٹی وی نے بھی ایک نامعلوم ایرانی عہدیدار کے حوالے سے کہا کہ ”جنگ بندی پورے خطے پر لاگو ہوتی ہے، اور اسرائیل وعدہ خلافی کے لیے جانا جاتا ہے، اسے صرف طاقت کے ذریعے ہی روکا جا سکتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ جنگ بندی کا اطلاق ”ہر جگہ“ ہوتا ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے، جبکہ انہوں نے اعلان کیا کہ اسلام آباد اس ہفتے کے آخر میں امریکہ اور ایران کے وفود کی میزبانی کرے گا تاکہ مذاکرات کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اسرائیل نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ لبنان جنگ بندی میں شامل نہیں، اور اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز کہا کہ اس نے لبنان بھر میں ”اب تک کی سب سے بڑی مربوط کارروائی“ انجام دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم شہباز شریف نے بدھ کو کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور انہوں نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ اس جنگ بندی کا احترام کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایرانی وزارت کے بیان کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کے روز پاکستانی ثالثوں کے ساتھ رابطے میں اسرائیل کی جانب سے ”جنگ بندی کی خلاف ورزیوں“ کا معاملہ اٹھایا، جبکہ اعلیٰ حکام کے حوالے سے آنے والی رپورٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ تہران لبنان پر حملوں کے باعث جنگ بندی سے دستبردار ہو سکتا ہے۔</strong></p>
<p>بیان کے مطابق عباس عراقچی نے طاقتور پاکستانی عسکری رہنما فیلڈ مارشل عاصم منیر سے گفتگو میں اسرائیل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایران اور لبنان میں ”صہیونی ریاست کی جنگ بندی خلاف ورزیوں“ پر بات چیت کی۔</p>
<p>ایرانی میڈیا اور الجزیرہ کی رپورٹس، جو ایرانی حکام اور باخبر ذرائع کے حوالے سے ہیں، کے مطابق تہران لبنان پر اسرائیلی بمباری کے ردعمل میں جنگ بندی سے نکلنے اور جوابی کارروائی کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>ایران کی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ”اگر اسرائیل لبنان پر حملوں کے ذریعے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری رکھتا ہے تو ایران اس معاہدے سے دستبردار ہو جائے گا۔“</p>
<p>ایران کے انقلابی گارڈز نے ٹیلیگرام پر بیان میں عزم ظاہر کیا کہ ”لبنان میں کیے گئے مظالم اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر اسرائیل کو سزا دی جائے گی۔“</p>
<p>الجزیرہ ٹی وی نے بھی ایک نامعلوم ایرانی عہدیدار کے حوالے سے کہا کہ ”جنگ بندی پورے خطے پر لاگو ہوتی ہے، اور اسرائیل وعدہ خلافی کے لیے جانا جاتا ہے، اسے صرف طاقت کے ذریعے ہی روکا جا سکتا ہے۔“</p>
<p>پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ جنگ بندی کا اطلاق ”ہر جگہ“ ہوتا ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے، جبکہ انہوں نے اعلان کیا کہ اسلام آباد اس ہفتے کے آخر میں امریکہ اور ایران کے وفود کی میزبانی کرے گا تاکہ مذاکرات کیے جا سکیں۔</p>
<p>تاہم، اسرائیل نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ لبنان جنگ بندی میں شامل نہیں، اور اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز کہا کہ اس نے لبنان بھر میں ”اب تک کی سب سے بڑی مربوط کارروائی“ انجام دی ہے۔</p>
<p>وزیر اعظم شہباز شریف نے بدھ کو کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور انہوں نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ اس جنگ بندی کا احترام کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284811</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Apr 2026 22:49:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/082241324487b8b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/082241324487b8b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
