<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روایت شکن اور جراتمند قیادت کا وقت آ گیا ہے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284802/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کیا دنیا اپنے انجام کی طرف بڑھ رہی ہے؟ ہم کس سمت جا رہے ہیں؟ کمپنیوں کو کیسے چلایا جائے؟ جب کسی نے کسی صورتحال کی پیش بندی ہی نہ کی ہو تو منصوبہ بندی کیسے ممکن ہے؟ جہاں بھی جاتی ہوں، یہی سوالات سننے کو ملتے ہیں۔ بیشتر لوگ ایک ایسی دنیا میں حیران و پریشان ہیں جو اپنی معنویت کھو چکی ہے۔ کاروباری ادارے اس نئے عالمی انتشار کو سمجھنے اور اس سے ہم آہنگ ہونے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملازمین اضطراب اور بے بسی کا شکار ہیں۔ جب میں کارپوریٹ راہداریوں سے گزرتی ہوں تو اکثر بورڈ رومز پر ایک گہری اداسی طاری دکھائی دیتی ہے۔ دنیا بھر میں جیوپولیٹیکل جھٹکوں سے نمٹنے کے لیے طویل اور شدید نوعیت کے اجلاس جاری ہیں۔ تجزیہ کار بلائے جا رہے ہیں، ماہرین سے مشاورت کی جا رہی ہے، کنسلٹنٹس بریفنگ دے رہے ہیں، مگر نتیجہ؟ قیامت خیز، مایوس کن اور ادھورے اندازوں کا انبار، جو غیر یقینی کو مزید بڑھا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بھٹکے ہوئے پن کا احساس کیوں ہے؟ غالباً اس لیے کہ موجودہ نسل نے اس پیمانے اور شدت کے واقعات پہلے کبھی نہیں دیکھے۔ ممکن ہے اس لیے بھی کہ متعلقہ فریقین کے اقدامات اور ردِعمل کسی بھی روایتی تجزیے سے ماورا ہیں۔ وجہ کچھ بھی ہو، ایک عمومی بے یقینی اور انکار کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ اکثر لوگ سر ہلاتے ہوئے یہی کہتے ہیں: ”کیا واقعی یہ سب ہو رہا ہے؟“ بدقسمتی سے، جواب ہاں میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر ایک بحث یہ بھی جاری ہے کہ یہ صورتحال طویل ہوگی یا جلد ختم ہو جائے گی۔ کچھ کے نزدیک یہ لمبی چلے گی، جبکہ دیگر اسے غیر پائیدار قرار دیتے ہیں۔ مگر اس کے دورانیے سے قطع نظر، اس کے اثرات ختم ہونے کے بعد بھی دیر تک محسوس کیے جائیں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ کمپنیوں کو چند حقیقتوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔ اول، کچھ نتائج واضح ہیں اور کچھ ابھی غیر معلوم۔ دوم، جو حکمتِ عملیاں پہلے کارگر تھیں، ضروری نہیں اب بھی مؤثر ہوں۔ سوم، انتظار کا مرحلہ ختم کر کے عملی اقدامات کا آغاز کرنا ہوگا۔ ان حالات میں جن ساختی اصلاحات کی ضرورت ہے، ان میں شامل ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پہلا نیا اقدام: آؤٹ آف دی باکس(او او بی) روم کا قیام،&lt;/strong&gt; زیادہ تر کمپنیاں ایسے حالات میں وار روم، کرائسس روم یا ایمرجنسی سیل قائم کرتی ہیں، مگر یہ خود ایک چیلنج بن جاتا ہے۔ نام ہی تناؤ میں اضافہ کرتا ہے اور بہت سے ملازمین دباؤ محسوس کرتے ہیں۔ ایک کمپنی میں ایک ملازم نے بتایا کہ ”دفتر آنا جیسے کسی جنگی علاقے میں داخل ہونا ہو، فضا غیر معمولی طور پر بوجھل لگتی ہے۔“ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ ایسے کمرے عموماً مسئلے تک محدود رہتے ہیں اور حل میں جدت کم نظر آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس اسے او او بی (آؤٹ آف دی باکس) روم کا نام دینا زیادہ مؤثر ہوگا۔ اس کا مقصد صرف ہنگامی صورتحال پر اپ ڈیٹ رہنا نہیں بلکہ نئے اور غیر روایتی حل تلاش کرنا بھی ہونا چاہیے۔ اس کمرے کا مقصد، دائرہ کار اور متوقع نتائج واضح اور باقاعدہ دستاویزی شکل میں طے کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایسا ماحول ہونا چاہیے جہاں افراد محدود سوچ کے دائرے میں قید نہ ہوں۔ ”باکس“ میں سوچنے کا مطلب روایتی دائرے میں رہ کر حل تلاش کرنا ہے، جبکہ موجودہ حالات غیر معمولی ہیں اور ان کے لیے اسی نوعیت کی آزاد اور تخلیقی سوچ درکار ہے۔ اس کمرے میں ہونے والے اجلاس واضح ایس او پیز کے تحت ہوں، جو وسیع سوچ کو فروغ دیں اور متنوع متبادل راستے سامنے لائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا جدید طرزعمل: مسٹ ون بیٹل (ایم ڈبلیو بی) ٹیم تشکیل دیں، جبکہ جیوپولیٹیکل میدان میں جنگیں جاری ہیں، کمپنیوں کو اپنے اندرونی میدان میں اپنی لڑائیاں لڑنی ہوں گی تاکہ موجودہ حالات کا مقابلہ کیا جا سکے۔ کمپنیوں کو ایک ایم ڈبلیو بی، یعنی ”مسٹ ون بیٹل“ ٹیم تیار کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ٹیم کمپنی کے ان اہم شعبوں کی نشاندہی کرے جس کا کاروبار پر سب سے زیادہ اثر ہے۔ یہ شعبے زیادہ سے زیادہ 3 یا 4 ہونے چاہئیں، یعنی صرف وہ اہم ڈرائیورز جو کاروبار کو آگے بڑھاتے ہیں۔ اس کے بعد یہ ٹیم روزانہ کی بنیاد پر او او بی روم میں ان پر کام کرتی رہے۔ ان چیلنجز پر کام کرتے وقت بنیادی اصول یہ ہونا چاہیے کہ: ”ناکامی کا آپشن نہیں… کوئی نہ کوئی حل موجود ہے، بس ہمیں اسے تخلیق کرنا ہے“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کمرہ صرف رہنمائی فراہم کرے، مقصد اور رہنما اصول واضح کیے جائیں، اور پھر ایم ڈبلیو بی ٹیم خود حل تلاش کرے۔ یہ غیر روایتی خیالات قابلِ عمل ہونے کے لحاظ سے جانچے جائیں تاکہ انہیں عملی طور پر نافذ کیا جا سکے۔ ٹیم دیگر افراد کو بھی شامل کرے اور محکموں کے سب گروپس یا حلقے بھی حصہ لے کر اپنے خیالات پیش کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسری جدت طرازی: ہمدردی کے ذریعے حفاظت کریں، یہ وقت دھنسنے اور دباؤ کا ہے، نہ صرف آپ کے لیے بلکہ آپ کی ٹیم کے لیے بھی۔ سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ اپنا دباؤ نیچے کی سطح پر منتقل کر دیا جائے۔ یہ عارضی راحت تو دے سکتا ہے، مگر ٹیم سے غیر معمولی محنت حاصل کرنے میں مدد نہیں کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں دنیا کی ایک بڑی سافٹ ویئر کمپنی نے 30,000 ملازمین کو صرف ای میل کے ذریعے فارغ کر دیا، یہ ایک ”ان دی باکس“ طریقہ کار کی مثال ہے۔ اس عمل سے زیادہ اثر اندازہ یہ ہوا کہ ملازمین شدید مایوسی اور تکلیف محسوس کرنے لگے۔ سوشل میڈیا میں اس اچانک برطرفی کی خبرچھا گئی ہے، اور یہ وقت بھولایا نہیں جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیمیں بحران کے بعد کے اثرات پر غور کیے بغیر عمومی رجحان میں شامل ہونے کے بجائے مستقبل کے انسانی اثرات پر توجہ دیں۔ جہاں دیگر کمپنیاں آیچ آر میں کٹوتی کر رہی ہیں، ایک حقیقی رہنما ہمدردی اور معاونت کی طرف جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر: ایمرجنسی کے لیے ملازمین کی امدادی فنڈ تشکیل دینا۔ کووِڈ کے دوران کمپنیوں نے شاندار مثالیں قائم کیں کہ کیسے بندش کے باوجود ملازمین کو فارغ نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج ایندھن کی قیمتیں ملازمین کے لیے سفر کو مہنگا کر رہی ہیں۔ کوشش کریں کہ پول گروپس بنائے جائیں تاکہ اخراجات بانٹے جا سکیں اور اس بڑھتی ہوئی لاگت سے متاثر ہونے والوں کی مدد کے لیے منصوبے بنائے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوتھا جدید اقدام: قیادت عمل سے دکھائیں، جب کمپنیاں سخت کٹوتیوں کا راستہ اپناتی ہیں، تو ایک رہنما ایک مختلف راستہ اختیار کر سکتا ہے۔ بطور رہنما، آپ کو یہ جائزہ لینا چاہیے کہ کس طرح آپ اپنے درجے پر اخراجات کم کرنے کی مثال قائم کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک کمپنی جس کے ساتھ میں کام کر رہی ہوں نے اندازہ لگایا کہ اگر انتظامی عہدوں (سی-سوئٹ) پر اخراجات 10 فیصد کم کیے جائیں، تو نچلے سطح کے کئی ملازمین کی ملازمتیں بچائی جا سکتی ہیں۔ اس رہنما نے اپنی تنخواہ میں 30 فیصد کمی کا اعلان کیا اور اپنے ساتھیوں سے 10 فیصد کمی کی درخواست کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام نے نیچے تک ایک مثبت پیغام پہنچایا اور ملازمین خود بخود اس مقصد میں حصہ لینے کے لیے آگے آئے۔ یہ آؤٹ آف دی باکس اقدامات ہیں جو آؤٹ آف دی باکس ردعمل کو جنم دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مستعمل راستہ ہمیشہ آسان ہوتا ہے۔ یہ محفوظ ہے اور روایت کا پابند ہے۔ جس راستے پر ابھی سفر نہ ہوا ہو، وہ خطرناک، پیچیدہ اور غیر روایتی اور تخلیقی راستہ ہے۔ یہ معمول کے اوقات نہیں ہیں اور نہ ہی ہجوم کی پیروی کرنے کا وقت ہے۔ یہ وہ لمحے ہیں جب فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ روایتی طرزعمل اختیار کرنا ہے یا حوصلہ مند قیادت کا کردار ادا کرنا ہے۔ ایک رہنما کے لیے اپنی اندرونی خواہش پر قابو پانا طے کرے گا کہ ترقی کے راستے پر وہ کس طرح کامیابی حاصل کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ، بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کیا دنیا اپنے انجام کی طرف بڑھ رہی ہے؟ ہم کس سمت جا رہے ہیں؟ کمپنیوں کو کیسے چلایا جائے؟ جب کسی نے کسی صورتحال کی پیش بندی ہی نہ کی ہو تو منصوبہ بندی کیسے ممکن ہے؟ جہاں بھی جاتی ہوں، یہی سوالات سننے کو ملتے ہیں۔ بیشتر لوگ ایک ایسی دنیا میں حیران و پریشان ہیں جو اپنی معنویت کھو چکی ہے۔ کاروباری ادارے اس نئے عالمی انتشار کو سمجھنے اور اس سے ہم آہنگ ہونے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔</strong></p>
<p>ملازمین اضطراب اور بے بسی کا شکار ہیں۔ جب میں کارپوریٹ راہداریوں سے گزرتی ہوں تو اکثر بورڈ رومز پر ایک گہری اداسی طاری دکھائی دیتی ہے۔ دنیا بھر میں جیوپولیٹیکل جھٹکوں سے نمٹنے کے لیے طویل اور شدید نوعیت کے اجلاس جاری ہیں۔ تجزیہ کار بلائے جا رہے ہیں، ماہرین سے مشاورت کی جا رہی ہے، کنسلٹنٹس بریفنگ دے رہے ہیں، مگر نتیجہ؟ قیامت خیز، مایوس کن اور ادھورے اندازوں کا انبار، جو غیر یقینی کو مزید بڑھا رہا ہے۔</p>
<p>یہ بھٹکے ہوئے پن کا احساس کیوں ہے؟ غالباً اس لیے کہ موجودہ نسل نے اس پیمانے اور شدت کے واقعات پہلے کبھی نہیں دیکھے۔ ممکن ہے اس لیے بھی کہ متعلقہ فریقین کے اقدامات اور ردِعمل کسی بھی روایتی تجزیے سے ماورا ہیں۔ وجہ کچھ بھی ہو، ایک عمومی بے یقینی اور انکار کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ اکثر لوگ سر ہلاتے ہوئے یہی کہتے ہیں: ”کیا واقعی یہ سب ہو رہا ہے؟“ بدقسمتی سے، جواب ہاں میں ہے۔</p>
<p>پھر ایک بحث یہ بھی جاری ہے کہ یہ صورتحال طویل ہوگی یا جلد ختم ہو جائے گی۔ کچھ کے نزدیک یہ لمبی چلے گی، جبکہ دیگر اسے غیر پائیدار قرار دیتے ہیں۔ مگر اس کے دورانیے سے قطع نظر، اس کے اثرات ختم ہونے کے بعد بھی دیر تک محسوس کیے جائیں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ کمپنیوں کو چند حقیقتوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔ اول، کچھ نتائج واضح ہیں اور کچھ ابھی غیر معلوم۔ دوم، جو حکمتِ عملیاں پہلے کارگر تھیں، ضروری نہیں اب بھی مؤثر ہوں۔ سوم، انتظار کا مرحلہ ختم کر کے عملی اقدامات کا آغاز کرنا ہوگا۔ ان حالات میں جن ساختی اصلاحات کی ضرورت ہے، ان میں شامل ہیں:</p>
<p><strong>پہلا نیا اقدام: آؤٹ آف دی باکس(او او بی) روم کا قیام،</strong> زیادہ تر کمپنیاں ایسے حالات میں وار روم، کرائسس روم یا ایمرجنسی سیل قائم کرتی ہیں، مگر یہ خود ایک چیلنج بن جاتا ہے۔ نام ہی تناؤ میں اضافہ کرتا ہے اور بہت سے ملازمین دباؤ محسوس کرتے ہیں۔ ایک کمپنی میں ایک ملازم نے بتایا کہ ”دفتر آنا جیسے کسی جنگی علاقے میں داخل ہونا ہو، فضا غیر معمولی طور پر بوجھل لگتی ہے۔“ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ ایسے کمرے عموماً مسئلے تک محدود رہتے ہیں اور حل میں جدت کم نظر آتی ہے۔</p>
<p>اس کے برعکس اسے او او بی (آؤٹ آف دی باکس) روم کا نام دینا زیادہ مؤثر ہوگا۔ اس کا مقصد صرف ہنگامی صورتحال پر اپ ڈیٹ رہنا نہیں بلکہ نئے اور غیر روایتی حل تلاش کرنا بھی ہونا چاہیے۔ اس کمرے کا مقصد، دائرہ کار اور متوقع نتائج واضح اور باقاعدہ دستاویزی شکل میں طے کیے جائیں۔</p>
<p>یہ ایسا ماحول ہونا چاہیے جہاں افراد محدود سوچ کے دائرے میں قید نہ ہوں۔ ”باکس“ میں سوچنے کا مطلب روایتی دائرے میں رہ کر حل تلاش کرنا ہے، جبکہ موجودہ حالات غیر معمولی ہیں اور ان کے لیے اسی نوعیت کی آزاد اور تخلیقی سوچ درکار ہے۔ اس کمرے میں ہونے والے اجلاس واضح ایس او پیز کے تحت ہوں، جو وسیع سوچ کو فروغ دیں اور متنوع متبادل راستے سامنے لائیں۔</p>
<p>دوسرا جدید طرزعمل: مسٹ ون بیٹل (ایم ڈبلیو بی) ٹیم تشکیل دیں، جبکہ جیوپولیٹیکل میدان میں جنگیں جاری ہیں، کمپنیوں کو اپنے اندرونی میدان میں اپنی لڑائیاں لڑنی ہوں گی تاکہ موجودہ حالات کا مقابلہ کیا جا سکے۔ کمپنیوں کو ایک ایم ڈبلیو بی، یعنی ”مسٹ ون بیٹل“ ٹیم تیار کرنی چاہیے۔</p>
<p>یہ ٹیم کمپنی کے ان اہم شعبوں کی نشاندہی کرے جس کا کاروبار پر سب سے زیادہ اثر ہے۔ یہ شعبے زیادہ سے زیادہ 3 یا 4 ہونے چاہئیں، یعنی صرف وہ اہم ڈرائیورز جو کاروبار کو آگے بڑھاتے ہیں۔ اس کے بعد یہ ٹیم روزانہ کی بنیاد پر او او بی روم میں ان پر کام کرتی رہے۔ ان چیلنجز پر کام کرتے وقت بنیادی اصول یہ ہونا چاہیے کہ: ”ناکامی کا آپشن نہیں… کوئی نہ کوئی حل موجود ہے، بس ہمیں اسے تخلیق کرنا ہے“۔</p>
<p>یہ کمرہ صرف رہنمائی فراہم کرے، مقصد اور رہنما اصول واضح کیے جائیں، اور پھر ایم ڈبلیو بی ٹیم خود حل تلاش کرے۔ یہ غیر روایتی خیالات قابلِ عمل ہونے کے لحاظ سے جانچے جائیں تاکہ انہیں عملی طور پر نافذ کیا جا سکے۔ ٹیم دیگر افراد کو بھی شامل کرے اور محکموں کے سب گروپس یا حلقے بھی حصہ لے کر اپنے خیالات پیش کر سکیں۔</p>
<p>تیسری جدت طرازی: ہمدردی کے ذریعے حفاظت کریں، یہ وقت دھنسنے اور دباؤ کا ہے، نہ صرف آپ کے لیے بلکہ آپ کی ٹیم کے لیے بھی۔ سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ اپنا دباؤ نیچے کی سطح پر منتقل کر دیا جائے۔ یہ عارضی راحت تو دے سکتا ہے، مگر ٹیم سے غیر معمولی محنت حاصل کرنے میں مدد نہیں کرے گا۔</p>
<p>حال ہی میں دنیا کی ایک بڑی سافٹ ویئر کمپنی نے 30,000 ملازمین کو صرف ای میل کے ذریعے فارغ کر دیا، یہ ایک ”ان دی باکس“ طریقہ کار کی مثال ہے۔ اس عمل سے زیادہ اثر اندازہ یہ ہوا کہ ملازمین شدید مایوسی اور تکلیف محسوس کرنے لگے۔ سوشل میڈیا میں اس اچانک برطرفی کی خبرچھا گئی ہے، اور یہ وقت بھولایا نہیں جائے گا۔</p>
<p>تنظیمیں بحران کے بعد کے اثرات پر غور کیے بغیر عمومی رجحان میں شامل ہونے کے بجائے مستقبل کے انسانی اثرات پر توجہ دیں۔ جہاں دیگر کمپنیاں آیچ آر میں کٹوتی کر رہی ہیں، ایک حقیقی رہنما ہمدردی اور معاونت کی طرف جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر: ایمرجنسی کے لیے ملازمین کی امدادی فنڈ تشکیل دینا۔ کووِڈ کے دوران کمپنیوں نے شاندار مثالیں قائم کیں کہ کیسے بندش کے باوجود ملازمین کو فارغ نہیں کیا گیا۔</p>
<p>آج ایندھن کی قیمتیں ملازمین کے لیے سفر کو مہنگا کر رہی ہیں۔ کوشش کریں کہ پول گروپس بنائے جائیں تاکہ اخراجات بانٹے جا سکیں اور اس بڑھتی ہوئی لاگت سے متاثر ہونے والوں کی مدد کے لیے منصوبے بنائے جائیں۔</p>
<p>چوتھا جدید اقدام: قیادت عمل سے دکھائیں، جب کمپنیاں سخت کٹوتیوں کا راستہ اپناتی ہیں، تو ایک رہنما ایک مختلف راستہ اختیار کر سکتا ہے۔ بطور رہنما، آپ کو یہ جائزہ لینا چاہیے کہ کس طرح آپ اپنے درجے پر اخراجات کم کرنے کی مثال قائم کر سکتے ہیں۔</p>
<p>ایک کمپنی جس کے ساتھ میں کام کر رہی ہوں نے اندازہ لگایا کہ اگر انتظامی عہدوں (سی-سوئٹ) پر اخراجات 10 فیصد کم کیے جائیں، تو نچلے سطح کے کئی ملازمین کی ملازمتیں بچائی جا سکتی ہیں۔ اس رہنما نے اپنی تنخواہ میں 30 فیصد کمی کا اعلان کیا اور اپنے ساتھیوں سے 10 فیصد کمی کی درخواست کی۔</p>
<p>اس اقدام نے نیچے تک ایک مثبت پیغام پہنچایا اور ملازمین خود بخود اس مقصد میں حصہ لینے کے لیے آگے آئے۔ یہ آؤٹ آف دی باکس اقدامات ہیں جو آؤٹ آف دی باکس ردعمل کو جنم دیتے ہیں۔</p>
<p>مستعمل راستہ ہمیشہ آسان ہوتا ہے۔ یہ محفوظ ہے اور روایت کا پابند ہے۔ جس راستے پر ابھی سفر نہ ہوا ہو، وہ خطرناک، پیچیدہ اور غیر روایتی اور تخلیقی راستہ ہے۔ یہ معمول کے اوقات نہیں ہیں اور نہ ہی ہجوم کی پیروی کرنے کا وقت ہے۔ یہ وہ لمحے ہیں جب فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ روایتی طرزعمل اختیار کرنا ہے یا حوصلہ مند قیادت کا کردار ادا کرنا ہے۔ ایک رہنما کے لیے اپنی اندرونی خواہش پر قابو پانا طے کرے گا کہ ترقی کے راستے پر وہ کس طرح کامیابی حاصل کرے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ، بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284802</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Apr 2026 17:06:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عندلیب عباس)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/0815581856befcb.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/0815581856befcb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
