<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نان ریذیڈنٹ ڈیجیٹل کریٹرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284797/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے 2 اپریل کو سوشل میڈیا کنٹینٹ کریٹرز کیلئے جاری کردہ نئے قوانین کا مقصد پاکستانی صارفین کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے، چاہے وہ آمدنی یہاں کے مقیم افراد  کما رہے ہوں یا نان ریذیڈنٹ۔ اس کے پیچھے منطق درست ہے: چونکہ کنٹینٹ تخلیق کرنا اب آمدنی کا ایک باقاعدہ ذریعہ بن چکا ہے، اس لیے ایک مقررہ حد سے زیادہ کمانے والے مقامی کریٹرز پر ٹیکس عائد کرنا منطقی اور ضروری ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیلنج نان ریذیڈنٹ افراد پر ٹیکس عائد کرنے کی کوشش سے پیدا ہوتا ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ ترمیمی مسودے کے تحت، کوئی بھی نان ریذیڈنٹ ڈیجیٹل کریٹر جس کے سالانہ 50 ہزار سے زائد، یا ایک سہ ماہی میں 12,250 پاکستانی سبسکرائبرز ہوں گے، اسے سیکشن (3B)(b)101 کے تحت پاکستان میں نمایاں معاشی موجودگی تصور کیا جائے گا، جس کے بعد ان کی پاکستان سے وابستہ آمدنی ٹیکس کے قابل ہو جائے گی۔ یہی سلوک ان کریٹرز کے ساتھ بھی کیا جائے گا جن کے فالوورز تو کم ہیں لیکن ان کی ویورشپ (مشاہدات) مقررہ حد سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ سیکشن (3B)(b)101 کو 2024 میں ڈیجیٹل لین دین پر ٹیکس عائد کرنے کی جانب تبدیلی کے ایک حصے کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا، جس میں وہ ادارے بھی شامل ہیں جن کا پاکستان میں کوئی روایتی فزیکل دفتر یا مستقل ٹھکانہ موجود نہیں ، اس فریم ورک کے تحت ایف بی آر کے تازہ ترین قوانین نان ریذیڈنٹ کنٹینٹ کریٹرز کی پاکستانی ناظرین سے حاصل کردہ آمدنی کو پاکستان سے وابستہ آمدنی قرار دیتے ہیں، چاہے ان کی فزیکل موجودگی ہو یا نہ ہو۔ کاغذی حد تک یہ سرحدوں سے آزاد ڈیجیٹل معیشت پر ٹیکس لگانے کی ایک پرجوش کوشش ہے، تاہم عملی طور پر یہ انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 107 کے تحت پاکستان کے دنیا بھر کے بیشتر ممالک کے ساتھ دوہرے ٹیکس سے بچاؤ کے موجودہ معاہدوں سے براہِ راست ٹکراتا ہے۔ یہ پابند قانونی معاہدے نان ریذیڈنٹ اداروں پر ٹیکس لگانے کیلئے مستقل ٹھکانے کے تصور پر انحصار کرتے ہیں، یعنی ملک کے اندر فزیکل موجودگی کا ہونا ضروری ہے۔ نمایاں معاشی موجودگی کی اصطلاح مستقل ٹھکانے کی تعریف میں شامل نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، یہ نوٹ کرنا بھی اہم ہے کہ یہ (بین الاقوامی) معاہدے مقامی قوانین پر فوقیت رکھتے ہیں، جن میں سیکشن (3B)(b)101 اور انکم ٹیکس آرڈیننس کی دیگر دفعات بھی شامل ہیں۔ ان معاہدوں کا مقصد مختلف ممالک میں ایک ہی آمدنی پر دو بار ٹیکس لگنے سے روکنا ہے، جبکہ غیر ملکی اداروں پر ٹیکس لگانے کی اجازت صرف اسی صورت میں دی جاتی ہے جب وہ پاکستان کے اندر مستقل ٹھکانہ رکھتے ہوں اور یہی وہ مقام ہے جہاں نان ریڈیڈنٹ افراد کی ڈیجیٹل آمدنی پر ٹیکس لگانے کے حوالے سے ایف بی آر کے نئے قوانین کو ساختی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ چونکہ یہ ٹیکس معاہدے نمایاں معاشی موجودگی کو ٹیکس کی بنیاد کے طور پر تسلیم نہیں کرتے اور  نان ریڈیڈنٹ اداروں کی فزیکل موجودگی کے اصولوں پر قائم ہیں، اس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایف بی آر بیرون ملک سے کام کرنے والے سوشل میڈیا کریٹرز پر ٹیکس کیسے لگائے گا، کیونکہ وہ عام طور پر اس فریم ورک سے باہر ہوتے ہیں۔ یہاں یقیناً معاہدے کی ذمہ داریوں کو ترجیح حاصل ہوگی جس سے ایف بی آر کے لیے ایسی آمدنی پر ٹیکس لگانے کی صلاحیت محدود ہوجائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سادہ لفظوں میں اگر ایک یوٹیوبر کسی ایسے ملک میں مقیم ہے جس کے ساتھ پاکستان کا ٹیکس معاہدہ موجود ہے اور وہ پاکستانی ناظرین سے آمدنی حاصل کرتا ہے تو ایف بی آر اسے سیکشن (3B)(b)101 کے تحت ٹیکس کے قابل قرار دے سکتا ہے لیکن جب سیکشن 107 کے تحت معاہدے کی دفعات اس کی نفی کر دیں گی تو اس پر عمل درآمد تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ مقامی قوانین کو بین الاقوامی معاہدوں کے ساتھ ہم آہنگ کیے بغیر، نان ریذیڈنٹ ڈیجیٹل کریٹرز پر ٹیکس عائد کرنا قانونی طور پر غیر پائیدار ہونے کا خطرہ رکھتا ہے۔ دوسرا راستہ یعنی ان ممالک کے کریٹرز کو نشانہ بنانا جن کے ساتھ پاکستان کے ایسے ٹیکس معاہدے نہیں ہیں، غالباً بہت کم فائدہ مند ثابت ہوگا۔ ایسے ممالک بہت کم ہیں، جن میں زیادہ ترٹیکس ہیونز شامل ہیں اور وہاں بھی قوانین پر عمل درآمد کروانا مشکل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر کے ممالک اسی کشمکش کا شکار ہیں کہ مستقل ٹھکانے کے روایتی تصور اور سرحدوں سے آزاد ڈیجیٹل معیشت کے حقائق کے درمیان ہم آہنگی کیسے پیدا کی جائے۔ مثال کے طور پر اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم کی قیادت میں ایک اقدام پر کام جاری ہے جس کا مقصد عالمی ٹیکس قوانین کو ازسرِ نو ترتیب دینا ہے تاکہ بڑی کثیر القومی کمپنیوں پر وہاں ٹیکس لگایا جائے جہاں ان کے صارفین اور مارکیٹیں موجود ہیں، نہ کہ صرف وہاں جہاں ان کا فزیکل دفتر ہو۔ اگرچہ ایسی کوششوں کا زیادہ تر رخ بڑی ٹیک کالونیوں اور کثیر القومی اداروں کی طرف ہے، نہ کہ انفرادی ڈیجیٹل کریٹرز کی جانب، لیکن یہ مستقبل کی سمت کا واضح تعین کرتی ہیں۔ ایف بی آر کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ ان تبدیلیوں کا گہرا مشاہدہ کرے اور عالمی سطح پر بدلتے ہوئے معیارات کے مطابق اپنا لائحہ عمل مرتب کرے۔ نان ریذیڈنٹ ڈیجیٹل کریٹرز پر مؤثر طریقے سے ٹیکس لگانے کے لیے، غالباً معاہدوں پر دوبارہ بات چیت اور نفاذ کے مربوط میکانزم کی ضرورت ہوگی۔ فی الحال، حالیہ قوانین میں وہ قانونی بنیاد موجود نہیں جو ٹھوس نتائج پیدا کرسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے 2 اپریل کو سوشل میڈیا کنٹینٹ کریٹرز کیلئے جاری کردہ نئے قوانین کا مقصد پاکستانی صارفین کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے، چاہے وہ آمدنی یہاں کے مقیم افراد  کما رہے ہوں یا نان ریذیڈنٹ۔ اس کے پیچھے منطق درست ہے: چونکہ کنٹینٹ تخلیق کرنا اب آمدنی کا ایک باقاعدہ ذریعہ بن چکا ہے، اس لیے ایک مقررہ حد سے زیادہ کمانے والے مقامی کریٹرز پر ٹیکس عائد کرنا منطقی اور ضروری ہے۔</strong></p>
<p>چیلنج نان ریذیڈنٹ افراد پر ٹیکس عائد کرنے کی کوشش سے پیدا ہوتا ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ ترمیمی مسودے کے تحت، کوئی بھی نان ریذیڈنٹ ڈیجیٹل کریٹر جس کے سالانہ 50 ہزار سے زائد، یا ایک سہ ماہی میں 12,250 پاکستانی سبسکرائبرز ہوں گے، اسے سیکشن (3B)(b)101 کے تحت پاکستان میں نمایاں معاشی موجودگی تصور کیا جائے گا، جس کے بعد ان کی پاکستان سے وابستہ آمدنی ٹیکس کے قابل ہو جائے گی۔ یہی سلوک ان کریٹرز کے ساتھ بھی کیا جائے گا جن کے فالوورز تو کم ہیں لیکن ان کی ویورشپ (مشاہدات) مقررہ حد سے زیادہ ہے۔</p>
<p>یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ سیکشن (3B)(b)101 کو 2024 میں ڈیجیٹل لین دین پر ٹیکس عائد کرنے کی جانب تبدیلی کے ایک حصے کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا، جس میں وہ ادارے بھی شامل ہیں جن کا پاکستان میں کوئی روایتی فزیکل دفتر یا مستقل ٹھکانہ موجود نہیں ، اس فریم ورک کے تحت ایف بی آر کے تازہ ترین قوانین نان ریذیڈنٹ کنٹینٹ کریٹرز کی پاکستانی ناظرین سے حاصل کردہ آمدنی کو پاکستان سے وابستہ آمدنی قرار دیتے ہیں، چاہے ان کی فزیکل موجودگی ہو یا نہ ہو۔ کاغذی حد تک یہ سرحدوں سے آزاد ڈیجیٹل معیشت پر ٹیکس لگانے کی ایک پرجوش کوشش ہے، تاہم عملی طور پر یہ انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 107 کے تحت پاکستان کے دنیا بھر کے بیشتر ممالک کے ساتھ دوہرے ٹیکس سے بچاؤ کے موجودہ معاہدوں سے براہِ راست ٹکراتا ہے۔ یہ پابند قانونی معاہدے نان ریذیڈنٹ اداروں پر ٹیکس لگانے کیلئے مستقل ٹھکانے کے تصور پر انحصار کرتے ہیں، یعنی ملک کے اندر فزیکل موجودگی کا ہونا ضروری ہے۔ نمایاں معاشی موجودگی کی اصطلاح مستقل ٹھکانے کی تعریف میں شامل نہیں ہے۔</p>
<p>مزید برآں، یہ نوٹ کرنا بھی اہم ہے کہ یہ (بین الاقوامی) معاہدے مقامی قوانین پر فوقیت رکھتے ہیں، جن میں سیکشن (3B)(b)101 اور انکم ٹیکس آرڈیننس کی دیگر دفعات بھی شامل ہیں۔ ان معاہدوں کا مقصد مختلف ممالک میں ایک ہی آمدنی پر دو بار ٹیکس لگنے سے روکنا ہے، جبکہ غیر ملکی اداروں پر ٹیکس لگانے کی اجازت صرف اسی صورت میں دی جاتی ہے جب وہ پاکستان کے اندر مستقل ٹھکانہ رکھتے ہوں اور یہی وہ مقام ہے جہاں نان ریڈیڈنٹ افراد کی ڈیجیٹل آمدنی پر ٹیکس لگانے کے حوالے سے ایف بی آر کے نئے قوانین کو ساختی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ چونکہ یہ ٹیکس معاہدے نمایاں معاشی موجودگی کو ٹیکس کی بنیاد کے طور پر تسلیم نہیں کرتے اور  نان ریڈیڈنٹ اداروں کی فزیکل موجودگی کے اصولوں پر قائم ہیں، اس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایف بی آر بیرون ملک سے کام کرنے والے سوشل میڈیا کریٹرز پر ٹیکس کیسے لگائے گا، کیونکہ وہ عام طور پر اس فریم ورک سے باہر ہوتے ہیں۔ یہاں یقیناً معاہدے کی ذمہ داریوں کو ترجیح حاصل ہوگی جس سے ایف بی آر کے لیے ایسی آمدنی پر ٹیکس لگانے کی صلاحیت محدود ہوجائے گی۔</p>
<p>سادہ لفظوں میں اگر ایک یوٹیوبر کسی ایسے ملک میں مقیم ہے جس کے ساتھ پاکستان کا ٹیکس معاہدہ موجود ہے اور وہ پاکستانی ناظرین سے آمدنی حاصل کرتا ہے تو ایف بی آر اسے سیکشن (3B)(b)101 کے تحت ٹیکس کے قابل قرار دے سکتا ہے لیکن جب سیکشن 107 کے تحت معاہدے کی دفعات اس کی نفی کر دیں گی تو اس پر عمل درآمد تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ مقامی قوانین کو بین الاقوامی معاہدوں کے ساتھ ہم آہنگ کیے بغیر، نان ریذیڈنٹ ڈیجیٹل کریٹرز پر ٹیکس عائد کرنا قانونی طور پر غیر پائیدار ہونے کا خطرہ رکھتا ہے۔ دوسرا راستہ یعنی ان ممالک کے کریٹرز کو نشانہ بنانا جن کے ساتھ پاکستان کے ایسے ٹیکس معاہدے نہیں ہیں، غالباً بہت کم فائدہ مند ثابت ہوگا۔ ایسے ممالک بہت کم ہیں، جن میں زیادہ ترٹیکس ہیونز شامل ہیں اور وہاں بھی قوانین پر عمل درآمد کروانا مشکل ہوگا۔</p>
<p>دنیا بھر کے ممالک اسی کشمکش کا شکار ہیں کہ مستقل ٹھکانے کے روایتی تصور اور سرحدوں سے آزاد ڈیجیٹل معیشت کے حقائق کے درمیان ہم آہنگی کیسے پیدا کی جائے۔ مثال کے طور پر اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم کی قیادت میں ایک اقدام پر کام جاری ہے جس کا مقصد عالمی ٹیکس قوانین کو ازسرِ نو ترتیب دینا ہے تاکہ بڑی کثیر القومی کمپنیوں پر وہاں ٹیکس لگایا جائے جہاں ان کے صارفین اور مارکیٹیں موجود ہیں، نہ کہ صرف وہاں جہاں ان کا فزیکل دفتر ہو۔ اگرچہ ایسی کوششوں کا زیادہ تر رخ بڑی ٹیک کالونیوں اور کثیر القومی اداروں کی طرف ہے، نہ کہ انفرادی ڈیجیٹل کریٹرز کی جانب، لیکن یہ مستقبل کی سمت کا واضح تعین کرتی ہیں۔ ایف بی آر کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ ان تبدیلیوں کا گہرا مشاہدہ کرے اور عالمی سطح پر بدلتے ہوئے معیارات کے مطابق اپنا لائحہ عمل مرتب کرے۔ نان ریذیڈنٹ ڈیجیٹل کریٹرز پر مؤثر طریقے سے ٹیکس لگانے کے لیے، غالباً معاہدوں پر دوبارہ بات چیت اور نفاذ کے مربوط میکانزم کی ضرورت ہوگی۔ فی الحال، حالیہ قوانین میں وہ قانونی بنیاد موجود نہیں جو ٹھوس نتائج پیدا کرسکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284797</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Apr 2026 14:40:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/08143655c977f22.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/08143655c977f22.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
