<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیکسٹائل سیکٹر کو درپیش چیلنجز، پی ٹی سی کا حکومت سے فوری پالیسی مداخلت کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284781/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان ٹیکسٹائل کونسل (پی ٹی سی) نے ملک کے ٹیکسٹائل سیکٹر کی مدد کے لیے فوری پالیسی مداخلت کی درخواست کی ہے، جسے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث بڑھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کے چیئرمین فواد انور نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کے نام لکھے گئے ایک خط میں اس شعبے کو درپیش اہم مسائل کی نشاندہی کی ہے اور موجودہ مشکل حالات سے نمٹنے کے لیے تلافی کے اقدامات تجویز کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2025-26 کے پہلے نو ماہ (جولائی تا مارچ) کے دوران پاکستان کی مجموعی برآمدات میں 1.9 بلین ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 8 فیصد گراوٹ کو ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف مارچ 2026 میں برآمدات میں 14 فیصد کمی واقع ہوئی جس سے 360 ملین ڈالر کا خسارہ ہوا۔ اس ماہ کے دوران ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات میں 7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ نو ماہ کے عرصے میں مجموعی تجارتی خسارہ 21 فیصد اضافے کے ساتھ 27.7 بلین ڈالر تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی سی کے چیئرمین نے کہا کہ یہ محض اندازے یا تخمینے نہیں ہیں بلکہ یہ ڈھانچہ جاتی دباؤ کے شکار برآمدی معیشت کی دستاویزی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کونسل نے حالات کی خرابی کے پیچھے تین بڑے عوامل کی نشاندہی کی ہے: گزشتہ تین مالی سالوں کے دوران کاروبار کرنے کی لاگت میں مسلسل اضافہ، آبنائے ہرمز  کے متاثر ہونے کی وجہ سے خام مال کی سپلائی چین میں خلل اور ایک ایسا ٹیکسیشن نظام جس نے برآمد کنندگان پر ان کے آپریٹنگ منافع سے زیادہ واجبات عائد کردیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی سی نے نشاندہی کی ہے کہ ای او بی آئی ، پی ای ایس ایس آئی ، پراویڈنٹ فنڈ، گروپ لائف انشورنس اور ورکر ویلفیئر فنڈز جیسے لازمی واجبات کی وجہ سے ایک غیر ہنر مند مزدور کو ملازمت دینے کی ماہانہ لاگت میں 63 فیصد اضافہ ہوا ہے جو کہ مالی سال 23-2022 میں 39,582 روپے سے بڑھ کر مالی سال 26-2025 میں 64,580 روپے ہو چکی ہے۔ اگرچہ یہ اضافہ کم از کم اجرت کی پالیسی میں بہتری کی عکاسی کرتا ہے، لیکن توانائی اور درآمدی اخراجات میں اضافے کے ساتھ ساتھ ان کے مجموعی اثرات نے محنت طلب صنعتوں کے منافع کے مارجن کو شدید حد تک کم کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی اخراجات، بالخصوص قدرتی گیس کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 2023 کے وسط سے کیپٹو پاور جنریشن (صنعتوں کے اپنے بجلی گھر) کے لیے ٹیرف 1,100 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو سے بڑھ کر 3,500 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہو گئے ہیں، جبکہ 791 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کے اضافی ’گرڈ ٹرانزیشن لیوی‘ نے مؤثر شرح کو 4,291 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچا دیا ہے۔ بعض معاملات میں، قیمتیں پہلے ہی 4,700 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ چکی ہیں، جو تین سالوں میں 300 فیصد سے زائد اضافے کو ظاہر کرتی ہیں۔ بجلی کے فکسڈ چارجز میں بھی 175 فیصد اضافہ ہوا ہے جس سے پیداواری سطح سے قطع نظر اوور ہیڈ اخراجات (مستقل اخراجات) میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کونسل نے مزید بڑھتے ہوئے لیکویڈیٹی کے دباؤ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کمرشل بینک حکومت کی جانب سے بھاری قرضہ جات لینے کے باعث نجی شعبے کو ورکنگ کیپیٹل فنانسنگ (کاروباری سرمائے کی فراہمی) دینے سے گریز کر رہے ہیں، جس سے نجی شعبے کے لیے کریڈٹ کی گنجائش ختم ہو رہی ہے۔ اگرچہ پالیسی ریٹ 22 فیصد کی بلند ترین سطح سے کم ہو کر 10.5 فیصد پر آ گیا ہے، لیکن یہ علاقائی حریفوں کے مقابلے میں اب بھی زیادہ ہے، جس کی وجہ سے پاکستانی برآمد کنندگان کو نقصان پہنچ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان ٹیکسٹائل کونسل (پی ٹی سی) نے ملک کے ٹیکسٹائل سیکٹر کی مدد کے لیے فوری پالیسی مداخلت کی درخواست کی ہے، جسے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث بڑھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا ہے۔</strong></p>
<p>پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کے چیئرمین فواد انور نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کے نام لکھے گئے ایک خط میں اس شعبے کو درپیش اہم مسائل کی نشاندہی کی ہے اور موجودہ مشکل حالات سے نمٹنے کے لیے تلافی کے اقدامات تجویز کیے ہیں۔</p>
<p>تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2025-26 کے پہلے نو ماہ (جولائی تا مارچ) کے دوران پاکستان کی مجموعی برآمدات میں 1.9 بلین ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 8 فیصد گراوٹ کو ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>صرف مارچ 2026 میں برآمدات میں 14 فیصد کمی واقع ہوئی جس سے 360 ملین ڈالر کا خسارہ ہوا۔ اس ماہ کے دوران ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات میں 7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ نو ماہ کے عرصے میں مجموعی تجارتی خسارہ 21 فیصد اضافے کے ساتھ 27.7 بلین ڈالر تک پہنچ گیا۔</p>
<p>پی ٹی سی کے چیئرمین نے کہا کہ یہ محض اندازے یا تخمینے نہیں ہیں بلکہ یہ ڈھانچہ جاتی دباؤ کے شکار برآمدی معیشت کی دستاویزی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں۔</p>
<p>کونسل نے حالات کی خرابی کے پیچھے تین بڑے عوامل کی نشاندہی کی ہے: گزشتہ تین مالی سالوں کے دوران کاروبار کرنے کی لاگت میں مسلسل اضافہ، آبنائے ہرمز  کے متاثر ہونے کی وجہ سے خام مال کی سپلائی چین میں خلل اور ایک ایسا ٹیکسیشن نظام جس نے برآمد کنندگان پر ان کے آپریٹنگ منافع سے زیادہ واجبات عائد کردیے ہیں۔</p>
<p>پی ٹی سی نے نشاندہی کی ہے کہ ای او بی آئی ، پی ای ایس ایس آئی ، پراویڈنٹ فنڈ، گروپ لائف انشورنس اور ورکر ویلفیئر فنڈز جیسے لازمی واجبات کی وجہ سے ایک غیر ہنر مند مزدور کو ملازمت دینے کی ماہانہ لاگت میں 63 فیصد اضافہ ہوا ہے جو کہ مالی سال 23-2022 میں 39,582 روپے سے بڑھ کر مالی سال 26-2025 میں 64,580 روپے ہو چکی ہے۔ اگرچہ یہ اضافہ کم از کم اجرت کی پالیسی میں بہتری کی عکاسی کرتا ہے، لیکن توانائی اور درآمدی اخراجات میں اضافے کے ساتھ ساتھ ان کے مجموعی اثرات نے محنت طلب صنعتوں کے منافع کے مارجن کو شدید حد تک کم کر دیا ہے۔</p>
<p>توانائی اخراجات، بالخصوص قدرتی گیس کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 2023 کے وسط سے کیپٹو پاور جنریشن (صنعتوں کے اپنے بجلی گھر) کے لیے ٹیرف 1,100 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو سے بڑھ کر 3,500 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہو گئے ہیں، جبکہ 791 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کے اضافی ’گرڈ ٹرانزیشن لیوی‘ نے مؤثر شرح کو 4,291 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچا دیا ہے۔ بعض معاملات میں، قیمتیں پہلے ہی 4,700 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ چکی ہیں، جو تین سالوں میں 300 فیصد سے زائد اضافے کو ظاہر کرتی ہیں۔ بجلی کے فکسڈ چارجز میں بھی 175 فیصد اضافہ ہوا ہے جس سے پیداواری سطح سے قطع نظر اوور ہیڈ اخراجات (مستقل اخراجات) میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>کونسل نے مزید بڑھتے ہوئے لیکویڈیٹی کے دباؤ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کمرشل بینک حکومت کی جانب سے بھاری قرضہ جات لینے کے باعث نجی شعبے کو ورکنگ کیپیٹل فنانسنگ (کاروباری سرمائے کی فراہمی) دینے سے گریز کر رہے ہیں، جس سے نجی شعبے کے لیے کریڈٹ کی گنجائش ختم ہو رہی ہے۔ اگرچہ پالیسی ریٹ 22 فیصد کی بلند ترین سطح سے کم ہو کر 10.5 فیصد پر آ گیا ہے، لیکن یہ علاقائی حریفوں کے مقابلے میں اب بھی زیادہ ہے، جس کی وجہ سے پاکستانی برآمد کنندگان کو نقصان پہنچ رہا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284781</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Apr 2026 11:03:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/08110135ff69868.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/08110135ff69868.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
