<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پٹرولیم ڈیلرز کا منافع کے مارجن میں فوری اضافے کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284780/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آل پاکستان پٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن اور پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن  نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے پرافٹ مارجن میں فوری طور پر اضافہ کیا جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گروپس نے خبردار کیا ہے کہ اگر پٹرولیم  قیمتوں میں حالیہ بڑے اضافے کے تناسب سے ان کے مارجن نہ بڑھائے گئے، تو وہ ملک بھر میں فیول اسٹیشنز بند کرنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ایسوسی ایشنز نے انوائس قیمت کے 8 فیصد تک مارجن پر نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے دلیل دی ہے کہ موجودہ 8 روپے فی لٹر کا مقررہ منافع بڑھتے ہوئے آپریشنل اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ مارجنز کی وجہ سے بینک کریڈٹ یا کارپوریٹ فیول کارڈز کو قبول کرنا مالی طور پر ناممکن ہو گیا ہے۔ پٹرول پمپ مالکان میں سے ایک نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہم پٹرول کی فروخت پر ہر 100 روپے میں سے 0.75 فیصد بینکوں اور کارڈ کمپنیوں کو ادا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک پریس کانفرنس کے دوران پی پی ڈی اے کے چیئرمین عبد السمیع خان نے اس بات پر زور دیا کہ کاروبار کرنے کی لاگت بڑی سطح تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ ان منافع کے مارجنز کے ساتھ کام کرنا جو طویل عرصے سے تبدیل نہیں ہوئے، اب فیول اسٹیشنز کے لیے معاشی طور پر ممکن نہیں رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل کے لائحہ عمل کا فیصلہ آئندہ ہفتے کراچی میں دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ایسوسی ایشن کے اجلاس میں کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ قیمتوں میں اضافہ ایسوسی ایشنز کی پٹرولیم وزیر سے ملاقات کے محض ایک دن بعد کیا گیا، جس کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ ان کے بنیادی تحفظات دور کرنے میں ناکام رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ حکومتِ بلوچستان نے صوبے بھر میں پیٹرول کی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، ساتھ ہی انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ ایرانی پٹرول غیر قانونی طور پر درآمد کیا جا رہا ہے اور اس کی قیمت مقامی سطح پر طے کی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;6 اپریل کو حکومتِ بلوچستان نے اسمگل شدہ ایرانی پیٹرول کی قیمت 190 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 220 روپے فی لیٹر مقرر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اس مقررہ نرخ سے زائد وصول کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ہمایوں خان نے کہا کہ اسمگل شدہ ایندھن کی بھرمار سے ان کا کاروبار شدید متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اسمگلنگ روکنے کے ذمہ دار حکام اسے روکنے میں کیوں ناکام رہے اور سرحدوں پر اسمگلنگ کو کنٹرول کرنے کا ذمہ دار کون ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن  کے وائس چیئرمین نعمان علی بٹ نے کہا کہ ایندھن کے خوردہ فروش  اس وقت 2 فیصد سے بھی کم مارجن پر کام کررہے ہیں جو کہ ناقابلِ برداشت ہے، انہوں نے مزید کہا کہ وہ کم از کم 6 روپے فی لٹر کے یقینی مارجن کا مطالبہ کر رہے ہیں جس میں مستقبل میں قیمتوں کی کمی یا اضافے کے مطابق ردوبدل کا لچکدار طریقہ کار موجود ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے پٹرول پمپ آپریٹرز کے لیے 8.64 روپے فی لیٹر مارجن کی ضمانت دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آل پاکستان پٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن اور پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن  نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے پرافٹ مارجن میں فوری طور پر اضافہ کیا جائے۔</strong></p>
<p>گروپس نے خبردار کیا ہے کہ اگر پٹرولیم  قیمتوں میں حالیہ بڑے اضافے کے تناسب سے ان کے مارجن نہ بڑھائے گئے، تو وہ ملک بھر میں فیول اسٹیشنز بند کرنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>دونوں ایسوسی ایشنز نے انوائس قیمت کے 8 فیصد تک مارجن پر نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے دلیل دی ہے کہ موجودہ 8 روپے فی لٹر کا مقررہ منافع بڑھتے ہوئے آپریشنل اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔</p>
<p>مزید برآں انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ مارجنز کی وجہ سے بینک کریڈٹ یا کارپوریٹ فیول کارڈز کو قبول کرنا مالی طور پر ناممکن ہو گیا ہے۔ پٹرول پمپ مالکان میں سے ایک نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہم پٹرول کی فروخت پر ہر 100 روپے میں سے 0.75 فیصد بینکوں اور کارڈ کمپنیوں کو ادا کر رہے ہیں۔</p>
<p>ایک پریس کانفرنس کے دوران پی پی ڈی اے کے چیئرمین عبد السمیع خان نے اس بات پر زور دیا کہ کاروبار کرنے کی لاگت بڑی سطح تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ ان منافع کے مارجنز کے ساتھ کام کرنا جو طویل عرصے سے تبدیل نہیں ہوئے، اب فیول اسٹیشنز کے لیے معاشی طور پر ممکن نہیں رہا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل کے لائحہ عمل کا فیصلہ آئندہ ہفتے کراچی میں دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ایسوسی ایشن کے اجلاس میں کیا جائے گا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ قیمتوں میں اضافہ ایسوسی ایشنز کی پٹرولیم وزیر سے ملاقات کے محض ایک دن بعد کیا گیا، جس کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ ان کے بنیادی تحفظات دور کرنے میں ناکام رہی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ حکومتِ بلوچستان نے صوبے بھر میں پیٹرول کی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، ساتھ ہی انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ ایرانی پٹرول غیر قانونی طور پر درآمد کیا جا رہا ہے اور اس کی قیمت مقامی سطح پر طے کی جارہی ہے۔</p>
<p>6 اپریل کو حکومتِ بلوچستان نے اسمگل شدہ ایرانی پیٹرول کی قیمت 190 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 220 روپے فی لیٹر مقرر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اس مقررہ نرخ سے زائد وصول کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔</p>
<p>آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ہمایوں خان نے کہا کہ اسمگل شدہ ایندھن کی بھرمار سے ان کا کاروبار شدید متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اسمگلنگ روکنے کے ذمہ دار حکام اسے روکنے میں کیوں ناکام رہے اور سرحدوں پر اسمگلنگ کو کنٹرول کرنے کا ذمہ دار کون ہے؟</p>
<p>آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن  کے وائس چیئرمین نعمان علی بٹ نے کہا کہ ایندھن کے خوردہ فروش  اس وقت 2 فیصد سے بھی کم مارجن پر کام کررہے ہیں جو کہ ناقابلِ برداشت ہے، انہوں نے مزید کہا کہ وہ کم از کم 6 روپے فی لٹر کے یقینی مارجن کا مطالبہ کر رہے ہیں جس میں مستقبل میں قیمتوں کی کمی یا اضافے کے مطابق ردوبدل کا لچکدار طریقہ کار موجود ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے پٹرول پمپ آپریٹرز کے لیے 8.64 روپے فی لیٹر مارجن کی ضمانت دی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284780</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Apr 2026 10:57:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وسیم اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/0810571674603d3.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/0810571674603d3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
