<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خلیجی ممالک سے ترسیلاتِ زر مستحکم ہیں، وزیر خزانہ نے قومی اسمبلی کو آگاہ کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284776/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشرقِ وسطیٰ کے بڑھتے بحران کے باعث ترسیلاتِ زر میں ممکنہ کمی کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کے پیشِ نظر وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے منگل کو قومی اسمبلی کو یقین دہانی کرائی کہ ایران امریکہ تنازع کے باوجود پاکستان کی ترسیلاتِ زر خاص طور پر خلیجی خطے سے اب تک مستحکم رہی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ پاکستان اپریل 2026 میں 1.4 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کی ایک بڑی ادائیگی کرنے والا ہے جس میں اصل رقم اور سود دونوں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیج تعاون کونسل  کے ممالک سے ترسیلاتِ زر میں ممکنہ کمی کے بارے میں قانون سازوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب تک اس حوالے سے کوئی اثرات سامنے نہیں آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ مجموعی ترسیلاتِ زر کا 40 سے 50 فیصد اسی خطے سے حاصل ہوتا ہے اور حکومت ان کی لچک  کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ ادائیگیوں کے توازن  اور کرنٹ اکاؤنٹ پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کا تخمینہ لگایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر بات کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ ملک اس ضمن میں وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے ہمراہ بھرپور طریقے سے مصروفِ عمل ہے اور انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ کوششیں کامیاب نتائج پر منتج ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم محمد اورنگزیب نے خبردار کیا کہ اگر دشمنی جلد ختم ہو بھی جائے، تب بھی خلیج بھر میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے اس کے اثرات ہفتوں اور مہینوں تک برقرار رہ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ حکومت علاقائی صورتحال کی نگرانی کے لیے روزانہ کی بنیاد پر اجلاس کر رہی ہے۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات میں ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے اور بنگلہ دیش، سری لنکا، بھارت، فلپائن اور کمبوڈیا پر پڑنے والے شدید اثرات کا بھی ذکر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ نے ان بیانات کی تصحیح کرنے کی ضرورت پر زور دیا جو ان کے بقول حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ 14 مارچ سے 4 اپریل کے درمیان ایک جامع سبسڈی  نے عوام کو تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے محفوظ رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ نوٹ کرنا اہم ہے کہ 129 ارب روپے کی جامع سبسڈی فراہم کی گئی تھی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ فنڈز کفایت شعاری کے اقدامات کے ذریعے حاصل کیے گئے تھے جن کا اب تھرڈ پارٹی آڈٹ کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے یہ بھی بتایا کہ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام میں 100 ارب روپے کی کمی کی گئی جبکہ سرکاری اداروں سے حاصل ہونے والے منافع اور ڈیوڈنڈز کو بھی بروئے کار لایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ موٹر سائیکل سواروں، پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والوں اور چھوٹے پیمانے پر کاشتکاری کرنے والے کسانوں کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی کا اعلان کیا گیا جس کی تقسیم کا عمل گزشتہ ہفتے (ہفتہ) سے جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجکاری کے محاذ پر وزیرِ خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ 26 سرکاری اداروں کی نجکاری کی جاچکی ہے جبکہ پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ ، پاسکو  اور دیگر محکموں کو بند کر دیا گیا ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کے منصوبے بھی تیار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے رپورٹ کیا کہ اس وقت سولر سسٹم سے 8 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے اور 35-2034 تک کلین انرجی پالیسی مرتب کرنے کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پٹرولیم قیمتوں پر بحث کے دوران محمد اورنگزیب نے اپوزیشن اور حکومتی بینچوں کی جانب سے دی گئی تعمیری تجاویز کا خیرمقدم کیا اور ایندھن کے اسٹریٹجک ذخائربنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی پی پی کے نوید قمر اور دیگر کی جانب سے پیش کردہ توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے اخراجات میں کمی کے لیے شمسی توانائی سمیت توانائی کے سستے ذرائع پر منتقل ہونے کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستان آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں  کے ساتھ بجلی کی خریداری کے معاہدوں کا پابند ہے جن میں سے بعض کی مدت 2029، 2030 اور 2034 تک پھیلی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران ٹیکس ریونیو میں اضافے کی اطلاع دی اور کہا کہ حکومت ٹیکس نیٹ کو وسعت دے رہی ہے جبکہ امریکہ-ایران تنازع کے اثرات کو کم کرنے اور ایندھن کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے لیے ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی کو صفر کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشرقِ وسطیٰ کے بڑھتے بحران کے باعث ترسیلاتِ زر میں ممکنہ کمی کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کے پیشِ نظر وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے منگل کو قومی اسمبلی کو یقین دہانی کرائی کہ ایران امریکہ تنازع کے باوجود پاکستان کی ترسیلاتِ زر خاص طور پر خلیجی خطے سے اب تک مستحکم رہی ہیں۔</strong></p>
<p>قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ پاکستان اپریل 2026 میں 1.4 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کی ایک بڑی ادائیگی کرنے والا ہے جس میں اصل رقم اور سود دونوں شامل ہیں۔</p>
<p>خلیج تعاون کونسل  کے ممالک سے ترسیلاتِ زر میں ممکنہ کمی کے بارے میں قانون سازوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب تک اس حوالے سے کوئی اثرات سامنے نہیں آئے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ مجموعی ترسیلاتِ زر کا 40 سے 50 فیصد اسی خطے سے حاصل ہوتا ہے اور حکومت ان کی لچک  کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ ادائیگیوں کے توازن  اور کرنٹ اکاؤنٹ پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کا تخمینہ لگایا جا سکے۔</p>
<p>مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر بات کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ ملک اس ضمن میں وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے ہمراہ بھرپور طریقے سے مصروفِ عمل ہے اور انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ کوششیں کامیاب نتائج پر منتج ہوں گی۔</p>
<p>تاہم محمد اورنگزیب نے خبردار کیا کہ اگر دشمنی جلد ختم ہو بھی جائے، تب بھی خلیج بھر میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے اس کے اثرات ہفتوں اور مہینوں تک برقرار رہ سکتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ حکومت علاقائی صورتحال کی نگرانی کے لیے روزانہ کی بنیاد پر اجلاس کر رہی ہے۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات میں ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے اور بنگلہ دیش، سری لنکا، بھارت، فلپائن اور کمبوڈیا پر پڑنے والے شدید اثرات کا بھی ذکر کیا۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ نے ان بیانات کی تصحیح کرنے کی ضرورت پر زور دیا جو ان کے بقول حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ 14 مارچ سے 4 اپریل کے درمیان ایک جامع سبسڈی  نے عوام کو تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے محفوظ رکھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ نوٹ کرنا اہم ہے کہ 129 ارب روپے کی جامع سبسڈی فراہم کی گئی تھی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ فنڈز کفایت شعاری کے اقدامات کے ذریعے حاصل کیے گئے تھے جن کا اب تھرڈ پارٹی آڈٹ کیا جارہا ہے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے یہ بھی بتایا کہ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام میں 100 ارب روپے کی کمی کی گئی جبکہ سرکاری اداروں سے حاصل ہونے والے منافع اور ڈیوڈنڈز کو بھی بروئے کار لایا گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ موٹر سائیکل سواروں، پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والوں اور چھوٹے پیمانے پر کاشتکاری کرنے والے کسانوں کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی کا اعلان کیا گیا جس کی تقسیم کا عمل گزشتہ ہفتے (ہفتہ) سے جاری ہے۔</p>
<p>نجکاری کے محاذ پر وزیرِ خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ 26 سرکاری اداروں کی نجکاری کی جاچکی ہے جبکہ پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ ، پاسکو  اور دیگر محکموں کو بند کر دیا گیا ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کے منصوبے بھی تیار ہیں۔</p>
<p>انہوں نے رپورٹ کیا کہ اس وقت سولر سسٹم سے 8 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے اور 35-2034 تک کلین انرجی پالیسی مرتب کرنے کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔</p>
<p>پٹرولیم قیمتوں پر بحث کے دوران محمد اورنگزیب نے اپوزیشن اور حکومتی بینچوں کی جانب سے دی گئی تعمیری تجاویز کا خیرمقدم کیا اور ایندھن کے اسٹریٹجک ذخائربنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔</p>
<p>پی پی پی کے نوید قمر اور دیگر کی جانب سے پیش کردہ توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے اخراجات میں کمی کے لیے شمسی توانائی سمیت توانائی کے سستے ذرائع پر منتقل ہونے کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستان آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں  کے ساتھ بجلی کی خریداری کے معاہدوں کا پابند ہے جن میں سے بعض کی مدت 2029، 2030 اور 2034 تک پھیلی ہوئی ہے۔</p>
<p>وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران ٹیکس ریونیو میں اضافے کی اطلاع دی اور کہا کہ حکومت ٹیکس نیٹ کو وسعت دے رہی ہے جبکہ امریکہ-ایران تنازع کے اثرات کو کم کرنے اور ایندھن کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے لیے ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی کو صفر کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284776</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Apr 2026 13:55:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذوالفقار احمدنوید بٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/08101223553ed2a.webp" type="image/webp" medium="image" height="737" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/08101223553ed2a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
