<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>متحدہ عرب امارات کے 3.5 ارب ڈالر قرض کی اچانک واپسی، معیشت پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284765/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومتی حکام نے منگل کو بتایا کہ پاکستان رواں ماہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو 3.5 ارب ڈالر کا قرض واپس کرے گا جس سے زرمبادلہ ذخائر پر دباؤ بڑھ جائیگا، اس کے علاوہ جون تک مزید 1.3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کی ادائیگی کے باعث آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف کی خلاف ورزی کا خطرہ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرض کی یہ واپسی ایک ایسے وقت میں ہورہی ہے جب پاکستان آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت جون تک اپنے زرمبادلہ ذخائر 18 ارب ڈالر سے اوپر لے جانے کا ہدف رکھتا ہے جس کے لیے دوطرفہ ڈپازٹس کی مدت میں توسیع (رول اوور) ہونا لازمی شرط ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک کے ذخائر تقریباً 16.4 ارب ڈالر ہیں اور یو اے ای کے قرض کی واپسی جو کل ذخائر کا تقریباً 18 فیصد بنتی ہے، معیشت پر دباؤ میں اضافہ کررہی ہے جو اب بھی بحالی کے عمل سے گزر رہی ہے، ادھر ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور ایران جنگ سے جڑی قلت افراطِ زر میں اضافہ کر رہی ہے اور معاشی ترقی کو متاثر کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک عہدیدار نے بتایا کہ یہ قرض 2018 سے رول اوور کیا جا رہا تھا جس میں تقریباً 6 فیصد سالانہ سود پر 3 ارب ڈالر کی سہولت بھی شامل تھی لیکن رواں سال کے شروع میں اسے سالانہ کے بجائے ماہانہ بنیادوں پر توسیع میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ تاہم اب اسلام آباد نے اسے مکمل طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور توقع ہے کہ 23 اپریل تک اس کی ادائیگی مکمل کرلی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عہدیدار نے مزید بتایا کہ متحدہ عرب امارات کا ایک اور 450 ملین ڈالر کا قرض بھی برسوں سے واجب الادا ہے اور یہ رقم بھی واپس کیے جانے والے مجموعی 3.5 ارب ڈالر کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ذخائر میں کمی سے آئی ایم ایف پروگرام کی خلاف ورزی کا خطرہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خارجہ نے ہفتہ کو تفصیلات بتائے بغیر کہا کہ مرکزی بینک (قرضوں کی) ادائیگیوں کا آغاز کر دے گا اور ان قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا کہ یہ اقدام مشرقِ وسطیٰ کے بحران پر پیدا ہونے والے جغرافیائی سیاسی اختلافات کا نتیجہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان سعودی عرب کا ایک پکا اتحادی ہے جب کہ یمن جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے تیل کی آمدنی میں ہونے والے نقصان کے باعث حالیہ مہینوں میں ابوظہبی اور ریاض کے تعلقات میں بگاڑ پیدا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں مالی سال جون کے اختتام سے قبل 1.3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کی مدتِ تکمیل (میعاد) ملک کی بیرونی پوزیشن پر دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے، جبکہ کل واجبات 4.8 ارب ڈالر کے قریب پہنچ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف، پاکستان کی وزارتِ خزانہ اور مرکزی بینک نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات کے ڈپازٹس چین اور سعودی عرب سمیت ان دوست ممالک کے تعاون کا حصہ ہیں جن کے بارے میں پاکستان نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی تھی کہ پروگرام کے دوران ان کی مدت میں توسیع (رول اوور) کردی جائے گی، تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اسلام آباد ان فنڈز کی جگہ نئے فنڈز حاصل کر پائے گا یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ان ذخائر کی کمی کو پورا نہ کیا گیا تو مرکزی بینک کے ذخائر آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ سطح سے نیچے گر جائیں گے، جو کہ پروگرام کی خلاف ورزی تصور ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے ایس گلوبل کیپٹل کے ہیڈ آف ریسرچ، وقاص غنی نے کہا کہ یہ ادائیگیاں مختصر مدت میں ذخائر میں بڑی کمی کا باعث بنیں گی اور روپے کی قدر پر دباؤ ڈال سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ذخائر کو مستحکم کرنے اور مارکیٹ کے اعتماد کی بحالی کے لیے دوست ممالک سے بروقت مدد کلیدی حیثیت رکھے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومتی حکام نے منگل کو بتایا کہ پاکستان رواں ماہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو 3.5 ارب ڈالر کا قرض واپس کرے گا جس سے زرمبادلہ ذخائر پر دباؤ بڑھ جائیگا، اس کے علاوہ جون تک مزید 1.3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کی ادائیگی کے باعث آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف کی خلاف ورزی کا خطرہ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔</strong></p>
<p>قرض کی یہ واپسی ایک ایسے وقت میں ہورہی ہے جب پاکستان آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت جون تک اپنے زرمبادلہ ذخائر 18 ارب ڈالر سے اوپر لے جانے کا ہدف رکھتا ہے جس کے لیے دوطرفہ ڈپازٹس کی مدت میں توسیع (رول اوور) ہونا لازمی شرط ہے۔</p>
<p>مرکزی بینک کے ذخائر تقریباً 16.4 ارب ڈالر ہیں اور یو اے ای کے قرض کی واپسی جو کل ذخائر کا تقریباً 18 فیصد بنتی ہے، معیشت پر دباؤ میں اضافہ کررہی ہے جو اب بھی بحالی کے عمل سے گزر رہی ہے، ادھر ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور ایران جنگ سے جڑی قلت افراطِ زر میں اضافہ کر رہی ہے اور معاشی ترقی کو متاثر کررہی ہے۔</p>
<p>ایک عہدیدار نے بتایا کہ یہ قرض 2018 سے رول اوور کیا جا رہا تھا جس میں تقریباً 6 فیصد سالانہ سود پر 3 ارب ڈالر کی سہولت بھی شامل تھی لیکن رواں سال کے شروع میں اسے سالانہ کے بجائے ماہانہ بنیادوں پر توسیع میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ تاہم اب اسلام آباد نے اسے مکمل طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور توقع ہے کہ 23 اپریل تک اس کی ادائیگی مکمل کرلی جائے گی۔</p>
<p>عہدیدار نے مزید بتایا کہ متحدہ عرب امارات کا ایک اور 450 ملین ڈالر کا قرض بھی برسوں سے واجب الادا ہے اور یہ رقم بھی واپس کیے جانے والے مجموعی 3.5 ارب ڈالر کا حصہ ہے۔</p>
<p><strong>ذخائر میں کمی سے آئی ایم ایف پروگرام کی خلاف ورزی کا خطرہ</strong></p>
<p>وزارتِ خارجہ نے ہفتہ کو تفصیلات بتائے بغیر کہا کہ مرکزی بینک (قرضوں کی) ادائیگیوں کا آغاز کر دے گا اور ان قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا کہ یہ اقدام مشرقِ وسطیٰ کے بحران پر پیدا ہونے والے جغرافیائی سیاسی اختلافات کا نتیجہ ہے۔</p>
<p>پاکستان سعودی عرب کا ایک پکا اتحادی ہے جب کہ یمن جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے تیل کی آمدنی میں ہونے والے نقصان کے باعث حالیہ مہینوں میں ابوظہبی اور ریاض کے تعلقات میں بگاڑ پیدا ہوا ہے۔</p>
<p>رواں مالی سال جون کے اختتام سے قبل 1.3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کی مدتِ تکمیل (میعاد) ملک کی بیرونی پوزیشن پر دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے، جبکہ کل واجبات 4.8 ارب ڈالر کے قریب پہنچ چکے ہیں۔</p>
<p>آئی ایم ایف، پاکستان کی وزارتِ خزانہ اور مرکزی بینک نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔</p>
<p>متحدہ عرب امارات کے ڈپازٹس چین اور سعودی عرب سمیت ان دوست ممالک کے تعاون کا حصہ ہیں جن کے بارے میں پاکستان نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی تھی کہ پروگرام کے دوران ان کی مدت میں توسیع (رول اوور) کردی جائے گی، تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اسلام آباد ان فنڈز کی جگہ نئے فنڈز حاصل کر پائے گا یا نہیں۔</p>
<p>اگر ان ذخائر کی کمی کو پورا نہ کیا گیا تو مرکزی بینک کے ذخائر آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ سطح سے نیچے گر جائیں گے، جو کہ پروگرام کی خلاف ورزی تصور ہوگی۔</p>
<p>جے ایس گلوبل کیپٹل کے ہیڈ آف ریسرچ، وقاص غنی نے کہا کہ یہ ادائیگیاں مختصر مدت میں ذخائر میں بڑی کمی کا باعث بنیں گی اور روپے کی قدر پر دباؤ ڈال سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ذخائر کو مستحکم کرنے اور مارکیٹ کے اعتماد کی بحالی کے لیے دوست ممالک سے بروقت مدد کلیدی حیثیت رکھے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284765</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Apr 2026 16:19:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/07161329d50fff9.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/07161329d50fff9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
