<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خلیجی ممالک کو برآمدات میں اضافہ، زرعی مصنوعات کی طلب بڑھ گئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284764/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت منعقدہ ایک اجلاس میں بتایا گیا کہ حالیہ عالمی کشیدگی اور چیلنجز کے باوجود خلیجی ممالک کو پاکستانی برآمدات میں اضافے کا رجحان برقرار رہا اور ان منڈیوں میں پاکستانی زرعی مصنوعات کی طلب میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سرکاری بیان کے مطابق یہ تفصیلات وزیراعظم کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس کے دوران شیئر کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیجی ممالک کو پاکستانی برآمدات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ علاقائی کشیدگی کے باوجود کامیاب سفارت کاری نے پاکستانی برآمدات کی مسلسل ترسیل کو یقینی بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کو ہدایت کی کہ سمندری راستوں کے ذریعے برآمدات بڑھانے کے لیے جہازوں کا انتظام کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے دوران وزیراعظم کو بجلی کی پیداوار کی طویل مدتی حکمت عملی پر بھی بریفنگ دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ اس وقت بجلی کی کل پیداوار کا 55 فیصد قابلِ تجدید ذرائع سے حاصل ہو رہا ہے جبکہ 45 فیصد فوسل فیول (تیل، گیس اور کوئلہ) سے حاصل کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ علاقائی کشیدگی کی وجہ سے تیل کی فراہمی میں تعطل کے باوجود ملک میں توانائی کا کوئی بحران پیدا نہیں ہوا، کیونکہ بجلی کی پیداوار کا ایک بڑا حصہ قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع سے حاصل ہورہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے مزید کہا کہ شمسی توانائی اور دیگر قابلِ تجدید ذرائع توانائی کے شعبے کا مستقبل ہیں اور انہوں نے بیٹری انرجی سٹوریج سسٹم کے منصوبے پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے قومی سطح پر قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کو مزید وسعت دینے کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت بھی کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت منعقدہ ایک اجلاس میں بتایا گیا کہ حالیہ عالمی کشیدگی اور چیلنجز کے باوجود خلیجی ممالک کو پاکستانی برآمدات میں اضافے کا رجحان برقرار رہا اور ان منڈیوں میں پاکستانی زرعی مصنوعات کی طلب میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔</strong></p>
<p>ایک سرکاری بیان کے مطابق یہ تفصیلات وزیراعظم کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس کے دوران شیئر کی گئیں۔</p>
<p>خلیجی ممالک کو پاکستانی برآمدات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ علاقائی کشیدگی کے باوجود کامیاب سفارت کاری نے پاکستانی برآمدات کی مسلسل ترسیل کو یقینی بنایا ہے۔</p>
<p>انہوں نے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کو ہدایت کی کہ سمندری راستوں کے ذریعے برآمدات بڑھانے کے لیے جہازوں کا انتظام کیا جائے۔</p>
<p>اجلاس کے دوران وزیراعظم کو بجلی کی پیداوار کی طویل مدتی حکمت عملی پر بھی بریفنگ دی گئی۔</p>
<p>اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ اس وقت بجلی کی کل پیداوار کا 55 فیصد قابلِ تجدید ذرائع سے حاصل ہو رہا ہے جبکہ 45 فیصد فوسل فیول (تیل، گیس اور کوئلہ) سے حاصل کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ علاقائی کشیدگی کی وجہ سے تیل کی فراہمی میں تعطل کے باوجود ملک میں توانائی کا کوئی بحران پیدا نہیں ہوا، کیونکہ بجلی کی پیداوار کا ایک بڑا حصہ قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع سے حاصل ہورہا ہے۔</p>
<p>وزیراعظم نے مزید کہا کہ شمسی توانائی اور دیگر قابلِ تجدید ذرائع توانائی کے شعبے کا مستقبل ہیں اور انہوں نے بیٹری انرجی سٹوریج سسٹم کے منصوبے پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی۔</p>
<p>وزیراعظم نے قومی سطح پر قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کو مزید وسعت دینے کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت بھی کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284764</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Apr 2026 15:53:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/071546258402264.webp" type="image/webp" medium="image" height="834" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/071546258402264.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/mVcs0UUfUGk/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/mVcs0UUfUGk/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=mVcs0UUfUGk"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
