<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ٹی کمپنیوں اور فری لانسرز کو 25 ہزار ڈالر تک برآمدی آمدنی کی رپورٹنگ سے استثنیٰ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284744/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کمپنیوں اور فری لانسرز کو 25,000 ڈالر تک کی برآمدی آمدنی کی وصولی کی رپورٹنگ سے مستثنیٰ قرار دے دیا ہے۔ یہ اقدام سروسز ایکسپورٹ کے رپورٹنگ قواعد کو نرم کرنے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ ملک کی آئی ٹی برآمدات کی ترقی کو تیز کیا جا سکے، یہ بات پیر کے روز جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن میں کہی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے آئی ٹی کمپنیوں اور فری لانسرز کو یہ سہولت بھی جاری رکھی ہے کہ وہ اپنی برآمدی آمدنی میں سے ماہانہ 5,000 ڈالر یا 50 فیصد (جو بھی زیادہ ہو) اپنی ایکسپورٹرز اسپیشل فارن کرنسی اکاؤنٹس (ای ایس ایف سی ایز) میں رکھ سکتے ہیں، یہ بات ایک علیحدہ نوٹیفکیشن میں بتائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ فارم آر اور آئی آر وی (انورڈ ریمیٹنس واؤچر) کی حد بھی بڑھا کر 25,000 ڈالر (یا دیگر کرنسیوں میں اس کے برابر) کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے پہلے رپورٹنگ کی حد 10,000 ڈالر سے زیادہ رکھی گئی تھی، یہ بات ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ای سی اے پی) کے صدر ظفر پراچہ نے بزنس ریکارڈر کو بتائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مرکزی بینک نے کمرشل بینکوں کے لیے رپورٹنگ کے تقاضے مزید سخت کر دیے ہیں اور انہیں ہدایت کی ہے کہ وہ آئی ٹی کمپنیوں اور فری لانسرز کی جانب سے بیرون ملک ادائیگیوں کی مزید تفصیلی معلومات فراہم کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک کی ہدایت کے مطابق مجاز ڈیلرز (بینک) کو کہا گیا ہے کہ وہ ترمیم شدہ فارمز آر (25,000 ڈالر سے زائد انورڈ ریمیٹنسز کی رپورٹنگ کے لیے) اور فارم ایم (آؤٹ ورڈ ریمیٹنسز کے لیے) فوری طور پر استعمال کریں تاکہ ترسیلات زر کی تفصیلات کو بہتر طور پر ریکارڈ کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ٹی کمپنیوں اور فری لانسرز کو یہ اجازت بھی دی گئی ہے کہ وہ ان رقوم کو مختلف مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں جن میں سامان کی درآمد، امپورٹس کی ایڈوانس ادائیگیاں، غیر ملکی کنسلٹنسی کی فیس، سافٹ ویئر یا آئی ٹی سروسز کی سبسکرپشنز اور وہ فری لانسرز شامل ہیں جو غیر ملکی وینڈرز کو ادائیگی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ ای ایس ایف سی ایز میں موجود رقوم کسی بھی وقت صارف کی درخواست پر پاکستانی روپے میں تبدیل کی جا سکتی ہیں، تاہم ان رقوم کو کسی دوسرے فارن کرنسی اکاؤنٹ میں منتقل نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس بی پی کے پریس بیان کے مطابق بینکوں کو فارم آر اور فارم ایم کو ڈیجیٹائز کرنے اور صارف کے بنیادی ڈیٹا کی خودکار بھرائی (آٹو پاپولیشن) کے ساتھ بہتر بنانے کی ہدایت بھی دی گئی ہے تاکہ کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دیا جا سکے۔ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنائیں گے اور پاکستان کی آئی ٹی برآمدات کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ظفر پراچہ نے مزید کہا کہ رپورٹنگ قواعد میں نرمی سے برآمدی آمدنی کی ملک میں تیزی سے وصولی ممکن ہوگی، برآمد کنندگان کو زیادہ زرمبادلہ لانے کی ترغیب ملے گی اور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں کمی کا رجحان برقرار رہا ہے، اور اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق فروری 2026 میں آئی ٹی سیکٹر کی وصولیاں 365 ملین ڈالر رہیں۔ جنوری 2026 میں یہ آمدن 374 ملین ڈالر تھی، جو دسمبر 2025 میں 437 ملین ڈالر تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ٹی اور آئی ٹی سے منسلک خدمات کی آمدن جولائی سے فروری کے دوران 2.97 ارب ڈالر رہی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کمپنیوں اور فری لانسرز کو 25,000 ڈالر تک کی برآمدی آمدنی کی وصولی کی رپورٹنگ سے مستثنیٰ قرار دے دیا ہے۔ یہ اقدام سروسز ایکسپورٹ کے رپورٹنگ قواعد کو نرم کرنے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ ملک کی آئی ٹی برآمدات کی ترقی کو تیز کیا جا سکے، یہ بات پیر کے روز جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن میں کہی گئی۔</strong></p>
<p>اس کے علاوہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے آئی ٹی کمپنیوں اور فری لانسرز کو یہ سہولت بھی جاری رکھی ہے کہ وہ اپنی برآمدی آمدنی میں سے ماہانہ 5,000 ڈالر یا 50 فیصد (جو بھی زیادہ ہو) اپنی ایکسپورٹرز اسپیشل فارن کرنسی اکاؤنٹس (ای ایس ایف سی ایز) میں رکھ سکتے ہیں، یہ بات ایک علیحدہ نوٹیفکیشن میں بتائی گئی۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ فارم آر اور آئی آر وی (انورڈ ریمیٹنس واؤچر) کی حد بھی بڑھا کر 25,000 ڈالر (یا دیگر کرنسیوں میں اس کے برابر) کر دی گئی ہے۔</p>
<p>اس سے پہلے رپورٹنگ کی حد 10,000 ڈالر سے زیادہ رکھی گئی تھی، یہ بات ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ای سی اے پی) کے صدر ظفر پراچہ نے بزنس ریکارڈر کو بتائی۔</p>
<p>تاہم مرکزی بینک نے کمرشل بینکوں کے لیے رپورٹنگ کے تقاضے مزید سخت کر دیے ہیں اور انہیں ہدایت کی ہے کہ وہ آئی ٹی کمپنیوں اور فری لانسرز کی جانب سے بیرون ملک ادائیگیوں کی مزید تفصیلی معلومات فراہم کریں۔</p>
<p>مرکزی بینک کی ہدایت کے مطابق مجاز ڈیلرز (بینک) کو کہا گیا ہے کہ وہ ترمیم شدہ فارمز آر (25,000 ڈالر سے زائد انورڈ ریمیٹنسز کی رپورٹنگ کے لیے) اور فارم ایم (آؤٹ ورڈ ریمیٹنسز کے لیے) فوری طور پر استعمال کریں تاکہ ترسیلات زر کی تفصیلات کو بہتر طور پر ریکارڈ کیا جا سکے۔</p>
<p>آئی ٹی کمپنیوں اور فری لانسرز کو یہ اجازت بھی دی گئی ہے کہ وہ ان رقوم کو مختلف مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں جن میں سامان کی درآمد، امپورٹس کی ایڈوانس ادائیگیاں، غیر ملکی کنسلٹنسی کی فیس، سافٹ ویئر یا آئی ٹی سروسز کی سبسکرپشنز اور وہ فری لانسرز شامل ہیں جو غیر ملکی وینڈرز کو ادائیگی کرتے ہیں۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ ای ایس ایف سی ایز میں موجود رقوم کسی بھی وقت صارف کی درخواست پر پاکستانی روپے میں تبدیل کی جا سکتی ہیں، تاہم ان رقوم کو کسی دوسرے فارن کرنسی اکاؤنٹ میں منتقل نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p>ایس بی پی کے پریس بیان کے مطابق بینکوں کو فارم آر اور فارم ایم کو ڈیجیٹائز کرنے اور صارف کے بنیادی ڈیٹا کی خودکار بھرائی (آٹو پاپولیشن) کے ساتھ بہتر بنانے کی ہدایت بھی دی گئی ہے تاکہ کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دیا جا سکے۔ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنائیں گے اور پاکستان کی آئی ٹی برآمدات کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔</p>
<p>ظفر پراچہ نے مزید کہا کہ رپورٹنگ قواعد میں نرمی سے برآمدی آمدنی کی ملک میں تیزی سے وصولی ممکن ہوگی، برآمد کنندگان کو زیادہ زرمبادلہ لانے کی ترغیب ملے گی اور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔</p>
<p>یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں کمی کا رجحان برقرار رہا ہے، اور اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق فروری 2026 میں آئی ٹی سیکٹر کی وصولیاں 365 ملین ڈالر رہیں۔ جنوری 2026 میں یہ آمدن 374 ملین ڈالر تھی، جو دسمبر 2025 میں 437 ملین ڈالر تھی۔</p>
<p>آئی ٹی اور آئی ٹی سے منسلک خدمات کی آمدن جولائی سے فروری کے دوران 2.97 ارب ڈالر رہی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284744</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Apr 2026 12:02:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلمان صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/071200236aadc3a.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/071200236aadc3a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
