<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنوبی ایشیا میں قدم جمانے کیلئے یوریشین اکنامک یونین کی پاکستان پر نظریں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284740/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یوریشین اکنامک یونین (ای اے ای یو) نے پاکستان کو خطے میں اہم اور ابھرتا ہوا تجارتی شراکت دار قرار دیا جو بدلتی ہوئی علاقائی تجارتی صورتحال کے درمیان پاکستان کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید گہرا کرنے پر بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک توجہ کا اشارہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری بیان کے مطابق یہ پیش رفت  یوریشین اکنامک کمیشن کے بورڈ ممبر اور وزیر تجارت آندرے سلیپنیف اور پاکستان کے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کے درمیان ہونے والی ایک ملاقات کے دوران سامنے آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوریشین اکنامک یونین (ای اے ای یو) سابقہ سوویت ریاستوں پر مشتمل ایک معاشی اتحاد ہے جسے 2015 میں رکن ممالک کے درمیان آزاد تجارت، اقتصادی انضمام اور اشیاء، خدمات، سرمائے اور افرادی قوت (لیبر) کی آزادانہ نقل و حرکت کے فروغ کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ تقریباً 3 ٹریلین ڈالر کی مجموعی جی ڈی پی  کے حامل اس اتحاد کا صدر دفتر ماسکو میں واقع ہے اور اس میں روس، بیلاروس، قازقستان، کرغزستان اور آرمینیا شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آندرے سلیپنیف نے کہا کہ یوریشین اکنامک یونین اور اس کے رکن ممالک جنوبی ایشیا کے ممالک کے ساتھ باہمی طور پر فائدہ مند تعلقات کے فروغ کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یوریشین اکنامک یونین اسلامی جمہوریہ پاکستان کو خطے میں اپنے ممکنہ شراکت داروں میں سے ایک قرار دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوریشین اکنامک یونین کے عہدیدار نے اس بات پر زور دیا کہ یونین اور پاکستان کے درمیان تجارت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور اس میں وسعت کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا جام کمال نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان یوریشین اکنامک یونین  کے ساتھ بہتر تعاون کو نہ صرف تجارت کے ایک موقع کے طور پر دیکھتا ہے بلکہ اسے لاجسٹکس، توانائی کے شعبے میں تعاون، ڈیجیٹل تجارت، صنعتی اشتراک اور سپلائی چین کے انضمام جیسے شعبوں میں ایک تزویراتی (اسٹریٹجک) شراکت داری کے طور پر بھی دیکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان یوریشین اکنامک کمیشن کے ساتھ باقاعدہ مذاکراتی میکانزم کے آغاز کی حمایت کرتا ہے جس کا مقصد ایک تجارتی معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے، تاہم یہ پیش رفت مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی (امکانی مطالعہ) کے نتائج سے مشروط ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے کے مطابق پاکستان نے تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کی بھرپور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے یوریشین اکنامک یونین اور اس کے رکن ممالک کے ساتھ تعمیری اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر مبنی انداز میں مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقین نے اس بات کا مشاہدہ کیا کہ یوریشین اکنامک یونین اور پاکستان کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعاون کی ترقی کے بہترین امکانات موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اقتصادی اثرات کے جائزے اور پاکستان و یوریشین اکنامک یونین کے درمیان ترجیحی تجارتی نظام متعارف کروانے کے امکانات کا تعین کرنے کے مقصد کے ساتھ، دونوں اطراف نے اپنے اپنے قانونی طریقہ کار کے مطابق ایک مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی گروپ کی تشکیل شروع کرنے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یوریشین اکنامک یونین (ای اے ای یو) نے پاکستان کو خطے میں اہم اور ابھرتا ہوا تجارتی شراکت دار قرار دیا جو بدلتی ہوئی علاقائی تجارتی صورتحال کے درمیان پاکستان کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید گہرا کرنے پر بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک توجہ کا اشارہ ہے۔</strong></p>
<p>سرکاری بیان کے مطابق یہ پیش رفت  یوریشین اکنامک کمیشن کے بورڈ ممبر اور وزیر تجارت آندرے سلیپنیف اور پاکستان کے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کے درمیان ہونے والی ایک ملاقات کے دوران سامنے آئی۔</p>
<p>یوریشین اکنامک یونین (ای اے ای یو) سابقہ سوویت ریاستوں پر مشتمل ایک معاشی اتحاد ہے جسے 2015 میں رکن ممالک کے درمیان آزاد تجارت، اقتصادی انضمام اور اشیاء، خدمات، سرمائے اور افرادی قوت (لیبر) کی آزادانہ نقل و حرکت کے فروغ کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ تقریباً 3 ٹریلین ڈالر کی مجموعی جی ڈی پی  کے حامل اس اتحاد کا صدر دفتر ماسکو میں واقع ہے اور اس میں روس، بیلاروس، قازقستان، کرغزستان اور آرمینیا شامل ہیں۔</p>
<p>آندرے سلیپنیف نے کہا کہ یوریشین اکنامک یونین اور اس کے رکن ممالک جنوبی ایشیا کے ممالک کے ساتھ باہمی طور پر فائدہ مند تعلقات کے فروغ کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یوریشین اکنامک یونین اسلامی جمہوریہ پاکستان کو خطے میں اپنے ممکنہ شراکت داروں میں سے ایک قرار دیتی ہے۔</p>
<p>یوریشین اکنامک یونین کے عہدیدار نے اس بات پر زور دیا کہ یونین اور پاکستان کے درمیان تجارت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور اس میں وسعت کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔</p>
<p>دریں اثنا جام کمال نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان یوریشین اکنامک یونین  کے ساتھ بہتر تعاون کو نہ صرف تجارت کے ایک موقع کے طور پر دیکھتا ہے بلکہ اسے لاجسٹکس، توانائی کے شعبے میں تعاون، ڈیجیٹل تجارت، صنعتی اشتراک اور سپلائی چین کے انضمام جیسے شعبوں میں ایک تزویراتی (اسٹریٹجک) شراکت داری کے طور پر بھی دیکھتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان یوریشین اکنامک کمیشن کے ساتھ باقاعدہ مذاکراتی میکانزم کے آغاز کی حمایت کرتا ہے جس کا مقصد ایک تجارتی معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے، تاہم یہ پیش رفت مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی (امکانی مطالعہ) کے نتائج سے مشروط ہوگی۔</p>
<p>اعلامیے کے مطابق پاکستان نے تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کی بھرپور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے یوریشین اکنامک یونین اور اس کے رکن ممالک کے ساتھ تعمیری اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر مبنی انداز میں مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>دونوں فریقین نے اس بات کا مشاہدہ کیا کہ یوریشین اکنامک یونین اور پاکستان کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعاون کی ترقی کے بہترین امکانات موجود ہیں۔</p>
<p>اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اقتصادی اثرات کے جائزے اور پاکستان و یوریشین اکنامک یونین کے درمیان ترجیحی تجارتی نظام متعارف کروانے کے امکانات کا تعین کرنے کے مقصد کے ساتھ، دونوں اطراف نے اپنے اپنے قانونی طریقہ کار کے مطابق ایک مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی گروپ کی تشکیل شروع کرنے پر اتفاق کیا۔</p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284740</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Apr 2026 11:24:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/07110105b4ffe99.webp" type="image/webp" medium="image" height="900" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/07110105b4ffe99.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
