<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 21:13:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 21:13:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی فضائی اہلکار کے بچاؤ کا مشن افزودہ یورینیم چوری کا بہانہ بھی ہوسکتا تھا، ایران کا دعویٰ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284723/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی فضائی اہلکار کے بچاؤ کا مشن ممکنہ طور پر اسلامی جمہوریہ سے افزودہ یورینیم چرانے کا بہانہ ہو سکتا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے جمعہ کو ایران میں گرنے والے ایف 15 ای کے عملے کے دوسرے رکن کو بھی بحفاظت نکال لیا ہے، جسے انہوں نے ایک ”حوصلہ مند“ تلاش و بچاؤ مشن قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی فوج نے اس کارروائی کو ”فریب اور فرار کا مشن“ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مکمل طور پر ناکام رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس مشن کے حوالے سے “کئی سوالات اور غیر یقینی صورتحال” موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بقائی کے مطابق ”وہ علاقہ جہاں امریکی پائلٹ موجود ہونے کا دعویٰ کیا گیا، کوہگِلویہ اور بویراحمد صوبے میں ہے، جو وسطی ایران میں اس علاقے سے کافی دور ہے جہاں امریکی فوج نے اترنے کی کوشش کی یا اترنا چاہا تھا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”یہ امکان کہ یہ مشن افزودہ یورینیم چرانے کے لیے ایک فریب ہو سکتا تھا، بالکل نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بقائی نے مزید کہا کہ اس مشن کا امریکی حکام کے لیے ”خوفناک انجام“ نکلا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی فوج نے بتایا کہ مشن کے دوران کئی امریکی طیاروں کو جنوبی اصفہان صوبے میں ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑی اور امریکی فوج کو گرنے والے طیارے پر شدید بمباری کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی فضائی اہلکار کے بچاؤ کا مشن ممکنہ طور پر اسلامی جمہوریہ سے افزودہ یورینیم چرانے کا بہانہ ہو سکتا تھا۔</strong></p>
<p>اتوار کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے جمعہ کو ایران میں گرنے والے ایف 15 ای کے عملے کے دوسرے رکن کو بھی بحفاظت نکال لیا ہے، جسے انہوں نے ایک ”حوصلہ مند“ تلاش و بچاؤ مشن قرار دیا۔</p>
<p>ایران کی فوج نے اس کارروائی کو ”فریب اور فرار کا مشن“ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مکمل طور پر ناکام رہا۔</p>
<p>پیر کو ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس مشن کے حوالے سے “کئی سوالات اور غیر یقینی صورتحال” موجود ہے۔</p>
<p>بقائی کے مطابق ”وہ علاقہ جہاں امریکی پائلٹ موجود ہونے کا دعویٰ کیا گیا، کوہگِلویہ اور بویراحمد صوبے میں ہے، جو وسطی ایران میں اس علاقے سے کافی دور ہے جہاں امریکی فوج نے اترنے کی کوشش کی یا اترنا چاہا تھا۔“</p>
<p>انہوں نے کہا، ”یہ امکان کہ یہ مشن افزودہ یورینیم چرانے کے لیے ایک فریب ہو سکتا تھا، بالکل نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔“</p>
<p>بقائی نے مزید کہا کہ اس مشن کا امریکی حکام کے لیے ”خوفناک انجام“ نکلا۔</p>
<p>ایران کی فوج نے بتایا کہ مشن کے دوران کئی امریکی طیاروں کو جنوبی اصفہان صوبے میں ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑی اور امریکی فوج کو گرنے والے طیارے پر شدید بمباری کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284723</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Apr 2026 18:55:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/0618444033df294.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/0618444033df294.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
