<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 29 Jul 2026 14:28:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 29 Jul 2026 14:28:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مزید دو بھارتی ایل پی جی ٹینکرز خلیج سے روانہ، ڈیٹا سے تصدیق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284717/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت کے پرچم بردار مزید دو ایل پی جی ٹینکرز، گرین آشا اور گرین سانوی، خلیج فارس سے روانہ ہو کر ملک کے لیے ایندھن لے جا رہے ہیں۔ جہازوں کی نگرانی کے ڈیٹا کے مطابق یہ دونوں بحری جہاز آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں داخل ہو چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز عبور کرنے والے بھارتی ایل پی جی بردار جہازوں کی تعداد بڑھ کر آٹھ ہو گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک تیسرا جہاز، جگ وکرم، اب بھی آبنائے ہرمز کے مغربی حصے میں موجود ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے باعث اس اہم آبی راستے سے جہاز رانی تقریباً معطل ہو چکی ہے، تاہم ایران نے کہا ہے کہ غیر دشمن ممالک کے جہاز ایرانی حکام سے رابطہ کر کے گزر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت بتدریج اپنے پھنسے ہوئے ایل پی جی کارگو کو نکال رہا ہے، جبکہ شیوَالک، نندا دیوی، پائن گیس، جگ واسنت، بی ڈبلیو ایلم اور بی ڈبلیو ٹائر پہلے ہی بھارت پہنچ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کا دوسرا بڑا ایل پی جی درآمد کنندہ ہونے کے ناطے بھارت اس وقت کئی دہائیوں کے بدترین گیس بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ حکومت نے گھریلو صارفین کو ریلیف دینے کے لیے صنعتی شعبے کو گیس کی فراہمی محدود کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال بھارت نے 33.15 ملین میٹرک ٹن ایل پی جی استعمال کی، جس میں سے تقریباً 60 فیصد درآمدات پر مشتمل تھا، جبکہ ان درآمدات کا تقریباً 90 فیصد حصہ مشرقِ وسطیٰ سے آیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت کے پرچم بردار مزید دو ایل پی جی ٹینکرز، گرین آشا اور گرین سانوی، خلیج فارس سے روانہ ہو کر ملک کے لیے ایندھن لے جا رہے ہیں۔ جہازوں کی نگرانی کے ڈیٹا کے مطابق یہ دونوں بحری جہاز آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں داخل ہو چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز عبور کرنے والے بھارتی ایل پی جی بردار جہازوں کی تعداد بڑھ کر آٹھ ہو گئی ہے۔</strong></p>
<p>ایک تیسرا جہاز، جگ وکرم، اب بھی آبنائے ہرمز کے مغربی حصے میں موجود ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے باعث اس اہم آبی راستے سے جہاز رانی تقریباً معطل ہو چکی ہے، تاہم ایران نے کہا ہے کہ غیر دشمن ممالک کے جہاز ایرانی حکام سے رابطہ کر کے گزر سکتے ہیں۔</p>
<p>بھارت بتدریج اپنے پھنسے ہوئے ایل پی جی کارگو کو نکال رہا ہے، جبکہ شیوَالک، نندا دیوی، پائن گیس، جگ واسنت، بی ڈبلیو ایلم اور بی ڈبلیو ٹائر پہلے ہی بھارت پہنچ چکے ہیں۔</p>
<p>دنیا کا دوسرا بڑا ایل پی جی درآمد کنندہ ہونے کے ناطے بھارت اس وقت کئی دہائیوں کے بدترین گیس بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ حکومت نے گھریلو صارفین کو ریلیف دینے کے لیے صنعتی شعبے کو گیس کی فراہمی محدود کر دی ہے۔</p>
<p>گزشتہ سال بھارت نے 33.15 ملین میٹرک ٹن ایل پی جی استعمال کی، جس میں سے تقریباً 60 فیصد درآمدات پر مشتمل تھا، جبکہ ان درآمدات کا تقریباً 90 فیصد حصہ مشرقِ وسطیٰ سے آیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284717</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Apr 2026 15:30:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/061528053627a13.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/061528053627a13.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
