<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تانبے اور ایلومینیم کی برآمدات سے مقامی صنعت متاثر، فین مینوفیکچررز کا وزیرِ خزانہ سے پالیسی پر نظرثانی کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284712/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی الیکٹرک فین انڈسٹری نے حکومت سے تانبے اور ایلومینیم جیسے اہم خام مال کی برآمدی پالیسی پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ صنعت نے خبردار کیا ہے کہ خام شکل میں ان اشیاء کی غیرمنظم برآمدات مقامی ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ کو نقصان پہنچارہی ہیں اور اس شعبے کی ترقی کی صلاحیت کو محدود کررہی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیشرفت پیر کو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی الیکٹرک فین انڈسٹری کے نمائندوں کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات کے دوران سامنے آئی۔  وفد کی قیادت وفاقی چیمبر اور پاکستان الیکٹرک فین مینوفیکچررز ایسوسی ایشن  کے ارکان نے کی جس میں شعبہ جاتی چیلنجز، برآمدی صلاحیت اور پالیسی سپورٹ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایف پی سی سی آئی لاہور میں بزنس کمیونٹی کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقات کا حوالہ دیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مختلف شعبوں کے ساتھ باقاعدہ مشاورت کرے گی تاکہ ان کے کاروباری حالات کو بہتر طور پر سمجھنے کے ساتھ ان کی ترقی میں تعاون کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گفتگو کے دوران وفد اراکین نے اس شعبے کو متاثر کرنے والے کئی ڈھانچہ جاتی اور پالیسی سے متعلق امور کی جانب توجہ دلائی۔ خاص طور پر تانبے اور ایلومینیم جیسے اہم خام مال کی دستیابی اور ان کے استعمال کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں یہ بات نوٹ کی گئی کہ ان خام مال کی  برآمدات کے مقامی ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ  پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں اور اس بات پر زور دیا گیا کہ ایک ایسی متوازن حکمتِ عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو ملک کے اندر اعلیٰ سطح کی ویلیو ایڈیشن کو فروغ دے سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایم ای کی لیکویڈٹی سے متعلق امور، بشمول ٹیکس ریفنڈز کی پروسیسنگ، برآمدی سہولیات کے طریقہ کار اور خام مال پر ٹیرف کے ڈھانچے پر بھی تفصیلی غوروخوض کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں وفد نے پنکھا سازی کی صنعت کے ڈھانچے اور معاشی اہمیت کا جائزہ پیش کرتے ہوئے اس بات پر روشنی ڈالی کہ یہ مکمل طور پر ایک مقامی  مینوفیکچرنگ سیکٹر ہے جس کے تقریباً 300 مینوفیکچررز گجرات اور گجرانوالہ میں مرکوز ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صنعت روزگار کی فراہمی میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے جس سے تقریباً 40,000 براہِ راست اور 150,000 سے زائد بالواسطہ ملازمتیں وابستہ ہیں، اور یہ صنعت ویلیو ایڈیشن کا ایک مضبوط پروفائل رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارکان نے مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں اس شعبے کی برآمدی موجودگی کے بارے میں بھی آگاہ کیا جبکہ برآمدی کارکردگی کے حالیہ رجحانات کو بھی نوٹ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گفتگو میں اس شعبے کی توانائی بچانے والی ڈی سی فین ٹیکنالوجی کی جانب منتقلی پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد نے روایتی پنکھوں کی بڑے پیمانے پر تبدیلی کے لیے اپنی صلاحیت اور تیاری پر روشنی ڈالی جس کے بجلی کے استعمال میں کمی پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تناظر میں وزیر خزانہ نے نوٹ کیا کہ اگرچہ پالیسی فریم ورک موجود ہے، تاہم اس کے بہتر نتائج کے لیے آگاہی بڑھانے اور مالیاتی اداروں کے ساتھ ہم آہنگی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس ٹیکنالوجی کو اپنانے کی رفتار تیز کرنے کے لیے عملدرآمد کے خلا کو پُر کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صلاحیت میں اضافے کے لیے فنانس تک رسائی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، خاص طور پر توانائی بچت کے اقدامات کے تحت ممکنہ طلب کو پورا کرنے کے لیے پیداوار بڑھانے کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے پیداواری صلاحیت میں سرمایہ کاری کی سہولت فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ موجودہ مالیاتی فریم ورک پر نظرثانی کی جائے گی تاکہ انہیں شعبہ جاتی ضروریات کے مطابق بہتر بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ جاری اصلاحات کا مقصد خام مال کی لاگت کو معتدل بنانا اور مجموعی کاروباری ماحول کو بہتر بنانا ہے، ساتھ ہی انہوں نے صنعت کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ مزید جائزے کے لیے مخصوص تفصیلات فراہم کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گفتگو میں ہدف شدہ پالیسی سپورٹ اور جدت کے ذریعے مارکیٹ تک رسائی بڑھانے اور الیکٹریکل اپلائنسز کے شعبے کی مسابقتی صلاحیت کو بہتر بنانے کے مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار برآمدی ترقی کا انحصار مسابقتی صلاحیت، بڑے پیمانے پر پیداوار اور پالیسی کے تسلسل کے امتزاج پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نوٹ کیا کہ اگرچہ ٹیکسیشن ایک اہم عنصر ہے، تاہم صنعتی کارکردگی کو مضبوط بنانے کے لیے فنانس تک رسائی، توانائی بچت اور مارکیٹ کی ترقی بھی اتنی ہی ناگزیر ہے۔ انہوں نے صنعت اور متعلقہ سرکاری اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مسلسل رابطے کی حوصلہ افزائی کی تاکہ عملی اور مستقبل پر مبنی تجاویز کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ نے توانائی کی بچت کرنے والی ٹیکنالوجیز کے فروغ کی اہمیت پر بھی زور دیا اور نوٹ کیا کہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے آگاہی میں بہتری اور موجودہ اقدامات پر عملدرآمد ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی سمیت فنانس ڈویژن، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی الیکٹرک فین انڈسٹری نے حکومت سے تانبے اور ایلومینیم جیسے اہم خام مال کی برآمدی پالیسی پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ صنعت نے خبردار کیا ہے کہ خام شکل میں ان اشیاء کی غیرمنظم برآمدات مقامی ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ کو نقصان پہنچارہی ہیں اور اس شعبے کی ترقی کی صلاحیت کو محدود کررہی ہیں۔</strong></p>
<p>یہ پیشرفت پیر کو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی الیکٹرک فین انڈسٹری کے نمائندوں کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات کے دوران سامنے آئی۔  وفد کی قیادت وفاقی چیمبر اور پاکستان الیکٹرک فین مینوفیکچررز ایسوسی ایشن  کے ارکان نے کی جس میں شعبہ جاتی چیلنجز، برآمدی صلاحیت اور پالیسی سپورٹ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایف پی سی سی آئی لاہور میں بزنس کمیونٹی کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقات کا حوالہ دیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مختلف شعبوں کے ساتھ باقاعدہ مشاورت کرے گی تاکہ ان کے کاروباری حالات کو بہتر طور پر سمجھنے کے ساتھ ان کی ترقی میں تعاون کیا جاسکے۔</p>
<p>گفتگو کے دوران وفد اراکین نے اس شعبے کو متاثر کرنے والے کئی ڈھانچہ جاتی اور پالیسی سے متعلق امور کی جانب توجہ دلائی۔ خاص طور پر تانبے اور ایلومینیم جیسے اہم خام مال کی دستیابی اور ان کے استعمال کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔</p>
<p>ملاقات میں یہ بات نوٹ کی گئی کہ ان خام مال کی  برآمدات کے مقامی ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ  پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں اور اس بات پر زور دیا گیا کہ ایک ایسی متوازن حکمتِ عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو ملک کے اندر اعلیٰ سطح کی ویلیو ایڈیشن کو فروغ دے سکے۔</p>
<p>ایس ایم ای کی لیکویڈٹی سے متعلق امور، بشمول ٹیکس ریفنڈز کی پروسیسنگ، برآمدی سہولیات کے طریقہ کار اور خام مال پر ٹیرف کے ڈھانچے پر بھی تفصیلی غوروخوض کیا گیا۔</p>
<p>مزید برآں وفد نے پنکھا سازی کی صنعت کے ڈھانچے اور معاشی اہمیت کا جائزہ پیش کرتے ہوئے اس بات پر روشنی ڈالی کہ یہ مکمل طور پر ایک مقامی  مینوفیکچرنگ سیکٹر ہے جس کے تقریباً 300 مینوفیکچررز گجرات اور گجرانوالہ میں مرکوز ہیں۔</p>
<p>یہ صنعت روزگار کی فراہمی میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے جس سے تقریباً 40,000 براہِ راست اور 150,000 سے زائد بالواسطہ ملازمتیں وابستہ ہیں، اور یہ صنعت ویلیو ایڈیشن کا ایک مضبوط پروفائل رکھتی ہے۔</p>
<p>ارکان نے مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں اس شعبے کی برآمدی موجودگی کے بارے میں بھی آگاہ کیا جبکہ برآمدی کارکردگی کے حالیہ رجحانات کو بھی نوٹ کیا گیا۔</p>
<p>گفتگو میں اس شعبے کی توانائی بچانے والی ڈی سی فین ٹیکنالوجی کی جانب منتقلی پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔</p>
<p>وفد نے روایتی پنکھوں کی بڑے پیمانے پر تبدیلی کے لیے اپنی صلاحیت اور تیاری پر روشنی ڈالی جس کے بجلی کے استعمال میں کمی پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>اس تناظر میں وزیر خزانہ نے نوٹ کیا کہ اگرچہ پالیسی فریم ورک موجود ہے، تاہم اس کے بہتر نتائج کے لیے آگاہی بڑھانے اور مالیاتی اداروں کے ساتھ ہم آہنگی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس ٹیکنالوجی کو اپنانے کی رفتار تیز کرنے کے لیے عملدرآمد کے خلا کو پُر کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔</p>
<p>صلاحیت میں اضافے کے لیے فنانس تک رسائی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، خاص طور پر توانائی بچت کے اقدامات کے تحت ممکنہ طلب کو پورا کرنے کے لیے پیداوار بڑھانے کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے پیداواری صلاحیت میں سرمایہ کاری کی سہولت فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ موجودہ مالیاتی فریم ورک پر نظرثانی کی جائے گی تاکہ انہیں شعبہ جاتی ضروریات کے مطابق بہتر بنایا جا سکے۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ جاری اصلاحات کا مقصد خام مال کی لاگت کو معتدل بنانا اور مجموعی کاروباری ماحول کو بہتر بنانا ہے، ساتھ ہی انہوں نے صنعت کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ مزید جائزے کے لیے مخصوص تفصیلات فراہم کریں۔</p>
<p>گفتگو میں ہدف شدہ پالیسی سپورٹ اور جدت کے ذریعے مارکیٹ تک رسائی بڑھانے اور الیکٹریکل اپلائنسز کے شعبے کی مسابقتی صلاحیت کو بہتر بنانے کے مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار برآمدی ترقی کا انحصار مسابقتی صلاحیت، بڑے پیمانے پر پیداوار اور پالیسی کے تسلسل کے امتزاج پر ہے۔</p>
<p>انہوں نے نوٹ کیا کہ اگرچہ ٹیکسیشن ایک اہم عنصر ہے، تاہم صنعتی کارکردگی کو مضبوط بنانے کے لیے فنانس تک رسائی، توانائی بچت اور مارکیٹ کی ترقی بھی اتنی ہی ناگزیر ہے۔ انہوں نے صنعت اور متعلقہ سرکاری اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مسلسل رابطے کی حوصلہ افزائی کی تاکہ عملی اور مستقبل پر مبنی تجاویز کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ نے توانائی کی بچت کرنے والی ٹیکنالوجیز کے فروغ کی اہمیت پر بھی زور دیا اور نوٹ کیا کہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے آگاہی میں بہتری اور موجودہ اقدامات پر عملدرآمد ناگزیر ہے۔</p>
<p>اجلاس میں وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی سمیت فنانس ڈویژن، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284712</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Apr 2026 14:41:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/06142720b0f6c84.webp" type="image/webp" medium="image" height="821" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/06142720b0f6c84.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
