<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پٹرولیم قیمتوں پر بھاری ٹیکسز صنعتوں کیلئے تباہ کن، بی ایم پی کی حکومتی پالیسیوں پر سخت تنقید</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284696/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی چیمبر کے بزنس مین پینل نے حکومت کی ایندھن پر بھاری ٹیکس عائد کرنے کی پالیسی پر سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پٹرولیم  قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ قومی معیشت کو جمود کی طرف دھکیل رہا ہے جب کہ اس سے صنعتوں کی مسابقت کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی ایم پی کے چیئرمین اور ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر میاں انجم نثار نے کہا کہ پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ جو پٹرول اور ڈیزل پر 63 فیصد سے 75 فیصد سے بھی زائد رہا،علاقائی معیشتوں کے بالکل برعکس ہے جہاں قیمتوں میں اضافہ صرف 2 سے 10 فیصد تک محدود رہا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ بھارت، بنگلہ دیش، چین اور ویتنام نے قیمتوں کے تعین کی متوازن حکمت عملی اپنائی ہے جس میں سبسڈی، ٹیکس ایڈجسٹمنٹ اور بتدریج تبدیلیوں کے ذریعے اپنی صنعتوں کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے جبکہ پاکستان نے اپنی معیشت پر غیر متناسب طور پر بھاری بوجھ ڈال دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہ کہ پالیسیوں میں یہ تضاد نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ معاشی طور پر تباہ کن بھی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ہمارے برآمد کنندگان پہلے ہی توانائی کے بھاری اخراجات اور عالمی طلب میں کمی کی وجہ سے جدوجہد کررہے ہیں، ایندھن کی قیمتوں میں اس قدر غیر معمولی اضافہ درحقیقت پاکستان کو عالمی منڈیوں سے باہر کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں انجم نثار نے اس بات پر زور دیا کہ پٹرول کی قیمتوں کا تقریباً 458 روپے فی لٹر تک پہنچنا جس کی بڑی وجہ 160 روپے فی لٹر سے زائد کا پٹرولیم لیوی ہے، ایک ایسی مالیاتی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے جو مکمل طور پر بالواسطہ ٹیکسوں پر منحصر ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کی جانب سے عائد کردہ رکاوٹوں کو تسلیم کرتے ہوئے انہوں نے متنبہ کیا کہ ایندھن کے ٹیکسوں پر حد سے زیادہ انحصار معیشت کو مستحکم کرنے کے بجائے معاشی سرگرمیوں کا گلا گھونٹ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایندھن تمام معاشی شعبوں ٹرانسپورٹ، مینوفیکچرنگ، زراعت اور سروسزکی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ جب اس کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے تو پوری معاشی زنجیر درہم برہم ہو جاتی ہے۔ یہ محض قیمتوں میں اضافہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک اسٹرکچرل شاک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستان میں لاجسٹکس اور نقل و حمل کے اخراجات پہلے ہی خطے میں سب سے زیادہ ہیں۔ ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے فریٹ چارجز (مال برداری کے کرایوں) میں مزید اضافہ ہوگا، مینوفیکچررز کے لیے پیداواری لاگت بڑھ جائے گی اور تمام صنعتوں کے منافع کے مارجن میں کمی آئے گی۔ برآمدی شعبوں، بالخصوص ٹیکسٹائل اور ویلیو ایڈڈ سیکٹرز کو بڑے دھچکوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ عالمی خریدار زیادہ مسابقتی قیمتیں فراہم کرنے والی مارکیٹوں کا رخ کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی چیمبر کے بزنس مین پینل نے حکومت کی ایندھن پر بھاری ٹیکس عائد کرنے کی پالیسی پر سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پٹرولیم  قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ قومی معیشت کو جمود کی طرف دھکیل رہا ہے جب کہ اس سے صنعتوں کی مسابقت کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔</strong></p>
<p>بی ایم پی کے چیئرمین اور ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر میاں انجم نثار نے کہا کہ پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ جو پٹرول اور ڈیزل پر 63 فیصد سے 75 فیصد سے بھی زائد رہا،علاقائی معیشتوں کے بالکل برعکس ہے جہاں قیمتوں میں اضافہ صرف 2 سے 10 فیصد تک محدود رہا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ بھارت، بنگلہ دیش، چین اور ویتنام نے قیمتوں کے تعین کی متوازن حکمت عملی اپنائی ہے جس میں سبسڈی، ٹیکس ایڈجسٹمنٹ اور بتدریج تبدیلیوں کے ذریعے اپنی صنعتوں کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے جبکہ پاکستان نے اپنی معیشت پر غیر متناسب طور پر بھاری بوجھ ڈال دیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہ کہ پالیسیوں میں یہ تضاد نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ معاشی طور پر تباہ کن بھی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ہمارے برآمد کنندگان پہلے ہی توانائی کے بھاری اخراجات اور عالمی طلب میں کمی کی وجہ سے جدوجہد کررہے ہیں، ایندھن کی قیمتوں میں اس قدر غیر معمولی اضافہ درحقیقت پاکستان کو عالمی منڈیوں سے باہر کررہا ہے۔</p>
<p>میاں انجم نثار نے اس بات پر زور دیا کہ پٹرول کی قیمتوں کا تقریباً 458 روپے فی لٹر تک پہنچنا جس کی بڑی وجہ 160 روپے فی لٹر سے زائد کا پٹرولیم لیوی ہے، ایک ایسی مالیاتی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے جو مکمل طور پر بالواسطہ ٹیکسوں پر منحصر ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کی جانب سے عائد کردہ رکاوٹوں کو تسلیم کرتے ہوئے انہوں نے متنبہ کیا کہ ایندھن کے ٹیکسوں پر حد سے زیادہ انحصار معیشت کو مستحکم کرنے کے بجائے معاشی سرگرمیوں کا گلا گھونٹ سکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایندھن تمام معاشی شعبوں ٹرانسپورٹ، مینوفیکچرنگ، زراعت اور سروسزکی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ جب اس کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے تو پوری معاشی زنجیر درہم برہم ہو جاتی ہے۔ یہ محض قیمتوں میں اضافہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک اسٹرکچرل شاک ہے۔</p>
<p>انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستان میں لاجسٹکس اور نقل و حمل کے اخراجات پہلے ہی خطے میں سب سے زیادہ ہیں۔ ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے فریٹ چارجز (مال برداری کے کرایوں) میں مزید اضافہ ہوگا، مینوفیکچررز کے لیے پیداواری لاگت بڑھ جائے گی اور تمام صنعتوں کے منافع کے مارجن میں کمی آئے گی۔ برآمدی شعبوں، بالخصوص ٹیکسٹائل اور ویلیو ایڈڈ سیکٹرز کو بڑے دھچکوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ عالمی خریدار زیادہ مسابقتی قیمتیں فراہم کرنے والی مارکیٹوں کا رخ کر رہے ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284696</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Apr 2026 12:29:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/06122620289836e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/06122620289836e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
