<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>متحدہ عرب امارات میں ڈرون حملے سے 3 پاکستانی زخمی، وزیراعظم کا اظہارِ تشویش</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284694/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیرِاعظم شہباز شریف نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی خور فکان بندرگاہ پر پر میزائل حملے میں پاکستانیوں سمیت شہریوں کے زخمی ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے اپنے ایکس پر لکھا کہ متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ خور فکان پر پیش آنے والے واقعے پر گہری تشویش ہے جہاں ایک روکا گیا پروجیکٹائل شہریوں پر آ گرا جس کے نتیجے میں پاکستانی شہریوں سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/CMShehbaz/status/2041008107439181887?'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/CMShehbaz/status/2041008107439181887?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت متحدہ عرب امارات کے حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ پاکستانی شہریوں کو ہرممکن مدد فراہم کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے اس واقعے پر پاکستان کی طرف سے متحدہ عرب امارات کے برادر عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں تحمل، کشیدگی میں کمی اور صورتِ حال کو مزید بگڑنے سے روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات کے حکام کے مطابق 5 اپریل کو پیش آنے والے اس واقعے میں 4 افراد زخمی ہوئے جن میں ایک نیپالی شہری بھی شامل ہے جو شدید زخمی ہے جبکہ 3 پاکستانی شہریوں کو معمولی سے درمیانی نوعیت کی چوٹیں آئی ہیں، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اماراتی افواج نے ایران کی جانب سے داغے گئے 9 بیلسٹک میزائلوں، ایک کروز میزائل اور 50 ڈرونز کو فضا میں ہی نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/sharjahmedia/status/2040841498263175414?'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/sharjahmedia/status/2040841498263175414?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;خطے میں تنازع کے آغاز سے اب تک ہونے والے حملوں کے نتیجے میں مسلح افواج کے 2 اہلکار اور مختلف قومیتوں کے 10 شہری مارے جاچکے ہیں جن میں پاکستانی، نیپالی، بنگلہ دیشی، فلسطینی، ہندوستانی اور مصری باشندے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان حملوں میں اب تک تقریباً 217 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر متحدہ عرب امارات کے مختلف علاقوں میں فضا میں تباہ کیے گئے میزائلوں اور ڈرونز  کا ملبہ گرنے سے اب تک چار پاکستانی شہری اپنی جانیں گنوا چکے ہیں جن میں سے تین ابوظہبی اور ایک دبئی میں جاں بحق ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیرِاعظم شہباز شریف نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی خور فکان بندرگاہ پر پر میزائل حملے میں پاکستانیوں سمیت شہریوں کے زخمی ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔</strong></p>
<p>وزیراعظم نے اپنے ایکس پر لکھا کہ متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ خور فکان پر پیش آنے والے واقعے پر گہری تشویش ہے جہاں ایک روکا گیا پروجیکٹائل شہریوں پر آ گرا جس کے نتیجے میں پاکستانی شہریوں سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/CMShehbaz/status/2041008107439181887?'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/CMShehbaz/status/2041008107439181887?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت متحدہ عرب امارات کے حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ پاکستانی شہریوں کو ہرممکن مدد فراہم کی جائے۔</p>
<p>وزیراعظم نے اس واقعے پر پاکستان کی طرف سے متحدہ عرب امارات کے برادر عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں تحمل، کشیدگی میں کمی اور صورتِ حال کو مزید بگڑنے سے روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>متحدہ عرب امارات کے حکام کے مطابق 5 اپریل کو پیش آنے والے اس واقعے میں 4 افراد زخمی ہوئے جن میں ایک نیپالی شہری بھی شامل ہے جو شدید زخمی ہے جبکہ 3 پاکستانی شہریوں کو معمولی سے درمیانی نوعیت کی چوٹیں آئی ہیں، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اماراتی افواج نے ایران کی جانب سے داغے گئے 9 بیلسٹک میزائلوں، ایک کروز میزائل اور 50 ڈرونز کو فضا میں ہی نشانہ بنایا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/sharjahmedia/status/2040841498263175414?'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/sharjahmedia/status/2040841498263175414?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>خطے میں تنازع کے آغاز سے اب تک ہونے والے حملوں کے نتیجے میں مسلح افواج کے 2 اہلکار اور مختلف قومیتوں کے 10 شہری مارے جاچکے ہیں جن میں پاکستانی، نیپالی، بنگلہ دیشی، فلسطینی، ہندوستانی اور مصری باشندے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان حملوں میں اب تک تقریباً 217 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔</p>
<p>مجموعی طور پر متحدہ عرب امارات کے مختلف علاقوں میں فضا میں تباہ کیے گئے میزائلوں اور ڈرونز  کا ملبہ گرنے سے اب تک چار پاکستانی شہری اپنی جانیں گنوا چکے ہیں جن میں سے تین ابوظہبی اور ایک دبئی میں جاں بحق ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284694</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Apr 2026 12:14:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/06115310942066c.webp" type="image/webp" medium="image" height="421" width="744">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/06115310942066c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
