<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 03:57:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 03:57:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا ملک مالیاتی ایمرجنسی کے قریب ہے؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284690/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ایک بار پھر اپنے ٹیکس وصولی کے ہدف کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ  میں ہدف سے 610 ارب روپے کا بڑا شارٹ فال رہا ہے جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی وجہ سے تجارتی رکاوٹوں اور معاشی سست روی کے باعث مارچ میں اس خسارے میں مزید اضافہ ہوا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فرق میں مزید اضافے کا امکان ہے اور توقع ہے کہ پورے سال کا ہدف ایک بڑے مارجن سے حاصل نہیں ہوسکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صورتحال کو مزید پیچیدہ ہونے سے اس طرح بچایا گیا کہ حکومت نے بالآخر بین الاقوامی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتوں کا بوجھ صارفین پر منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے تاکہ پٹرولیم ڈیفرینشل کلیم (پی ڈی سی) کے بڑھتے حجم کو روکا جا سکے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اب سبسڈی میں مزید اضافہ نہیں ہوگا، جس سے 2 ٹریلین روپے (جی ڈی پی کا 1.6 فیصد) کے سالانہ پرائمری مالیاتی توازن  کے ہدف کے حصول میں حائل چیلنجز مزید سنگین نہیں ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ہی ایف بی آر کے ٹیکس محصولات میں شارٹ فال مزید بڑھنے کا خدشہ ہے کیونکہ تجارتی رکاوٹوں اور سپلائی چین (خصوصاً گیس کے شعبے) پر اس کے اثرات کے باعث درآمدی سطح پر سیلز ٹیکس کی وصولی میں کمی آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، آئی ایم ایف آئندہ سال کے لیے 15.6 ٹریلین روپے کا ہدف حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ 400 ارب روپے کے نئے ممکنہ ٹیکس اقدامات کا مطالبہ کر رہا ہے۔ رواں سال کے 13.98 ٹریلین روپے کے نظرثانی شدہ ہدف میں پہلے ہی بڑے خسارے کے پیشِ نظرآئندہ  سال کے لیے 15.6 ٹریلین روپے یا جی ڈی پی کا 11.3 فیصد ہدف حاصل کرنا ناممکن نظر آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف آئندہ سال کے ہدف میں کمی کے حوالے سے لچک دکھانے کو تیار نہیں ہے۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حکومت کا مرحلہ وار سپر ٹیکس کم کرنے کا منصوبہ اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کے شدید بوجھ میں کچھ ریلیف دینے کی تجویز فی الحال پسِ پشت ڈالی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی ایک اور شرط یہ ہے کہ حال ہی میں مکمل کیے گئے تیسرے جائزے کی بورڈ سے منظوری اور 1.2 ارب ڈالر کی قسط کا اجرا اس بات سے مشروط ہے کہ عدالتوں کے ان مقدمات سے باقی ماندہ 322 ارب روپے وصول کیے جائیں، جن کے فیصلے پہلے ہی ایف بی آر کے حق میں آ چکے ہیں۔ ایف بی آر اب تک تقریباً 300 ارب روپے وصول کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے زیادہ تر ٹیکس بڑی کمپنیوں اور زیادہ آمدن رکھنے والے افراد پر عائد کیے گئے سپر ٹیکس کے بدلے میں ہیں۔ ایک طرف حکومت کہتی ہے کہ وہ باضابطہ (فارمل) شعبے پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنا چاہتی ہے جبکہ دوسری طرف اسی شعبے پر مزید دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکسوں کا یہ بڑھتا ہوا بوجھ ان وجوہات میں سے ایک ہے جس کی بنا پر کثیر القومی کمپنیاں پاکستان سے اپنا کاروبار سمیٹ رہی ہیں، اور مجموعی طور پر رسمی معیشت، خاص طور پر مینوفیکچرنگ کا شعبہ، سکڑ رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں جہاں ایک طرف بیروزگاری بڑھ رہی ہے، وہیں درآمدات پر انحصار بھی بڑھتا جا رہا ہے، جو برآمدات کے ذریعے معاشی ترقی کے حکومتی دعوؤں اور پالیسی کے مکمل برعکس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمہیدِ ستم یہ ہے کہ ریاست مقدس گایوں (بااثر طبقات) کو ہاتھ لگانے کے لیے تیار نہیں اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے حوالے سے بھی کوئی حقیقی عزم نظر نہیں آتا۔ صوبوں کی جانب سے زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی کا ہدف مضحکہ خیز حد تک کم ہے جب کہ لائیواسٹاک (مویشی پال) کے شعبے سے بھی کوئی خاطر خواہ وصولی نہیں ہورہی جہاں دائرہ اختیار کے معاملے پر ابہام پایا جاتا ہے۔ اسی طرح تاجر، ہول سیلرز اور ریٹیلرز بھی اپنا واجب الادا حصہ ادا نہیں کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکسوں کا سارا بوجھ غیر متناسب طور پر شہری رسمی شعبے  پر پڑ رہا ہے اور اس کے باوجود آئی ایم ایف کے اہداف پورے نہیں ہو پا رہے۔ اگر جنگ جاری رہتی ہے تو صورتحال مزید ابتر ہو جائے گی اور جلد یا بدیر حکومت کو مالیاتی ایمرجنسی نافذ کرنے کی طرف جانا پڑسکتا ہے۔ اس انتہائی مگر آئینی طور پر جائز اقدام سے بچنے کے لیے اب وقت آ گیا ہے کہ نام نہاد مقدس گایوں سے واجبات وصول کیے جائیں اور انہیں وہ ٹیکس ادا کرنے پر مجبور کیا جائے جس سے وہ طویل عرصے سے بچتے آرہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ایک بار پھر اپنے ٹیکس وصولی کے ہدف کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ  میں ہدف سے 610 ارب روپے کا بڑا شارٹ فال رہا ہے جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی وجہ سے تجارتی رکاوٹوں اور معاشی سست روی کے باعث مارچ میں اس خسارے میں مزید اضافہ ہوا ہے۔</strong></p>
<p>اس فرق میں مزید اضافے کا امکان ہے اور توقع ہے کہ پورے سال کا ہدف ایک بڑے مارجن سے حاصل نہیں ہوسکے گا۔</p>
<p>صورتحال کو مزید پیچیدہ ہونے سے اس طرح بچایا گیا کہ حکومت نے بالآخر بین الاقوامی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتوں کا بوجھ صارفین پر منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے تاکہ پٹرولیم ڈیفرینشل کلیم (پی ڈی سی) کے بڑھتے حجم کو روکا جا سکے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اب سبسڈی میں مزید اضافہ نہیں ہوگا، جس سے 2 ٹریلین روپے (جی ڈی پی کا 1.6 فیصد) کے سالانہ پرائمری مالیاتی توازن  کے ہدف کے حصول میں حائل چیلنجز مزید سنگین نہیں ہوں گے۔</p>
<p>اس کے ساتھ ہی ایف بی آر کے ٹیکس محصولات میں شارٹ فال مزید بڑھنے کا خدشہ ہے کیونکہ تجارتی رکاوٹوں اور سپلائی چین (خصوصاً گیس کے شعبے) پر اس کے اثرات کے باعث درآمدی سطح پر سیلز ٹیکس کی وصولی میں کمی آئی ہے۔</p>
<p>تاہم، آئی ایم ایف آئندہ سال کے لیے 15.6 ٹریلین روپے کا ہدف حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ 400 ارب روپے کے نئے ممکنہ ٹیکس اقدامات کا مطالبہ کر رہا ہے۔ رواں سال کے 13.98 ٹریلین روپے کے نظرثانی شدہ ہدف میں پہلے ہی بڑے خسارے کے پیشِ نظرآئندہ  سال کے لیے 15.6 ٹریلین روپے یا جی ڈی پی کا 11.3 فیصد ہدف حاصل کرنا ناممکن نظر آتا ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف آئندہ سال کے ہدف میں کمی کے حوالے سے لچک دکھانے کو تیار نہیں ہے۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حکومت کا مرحلہ وار سپر ٹیکس کم کرنے کا منصوبہ اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کے شدید بوجھ میں کچھ ریلیف دینے کی تجویز فی الحال پسِ پشت ڈالی جا سکتی ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی ایک اور شرط یہ ہے کہ حال ہی میں مکمل کیے گئے تیسرے جائزے کی بورڈ سے منظوری اور 1.2 ارب ڈالر کی قسط کا اجرا اس بات سے مشروط ہے کہ عدالتوں کے ان مقدمات سے باقی ماندہ 322 ارب روپے وصول کیے جائیں، جن کے فیصلے پہلے ہی ایف بی آر کے حق میں آ چکے ہیں۔ ایف بی آر اب تک تقریباً 300 ارب روپے وصول کر چکا ہے۔</p>
<p>ان میں سے زیادہ تر ٹیکس بڑی کمپنیوں اور زیادہ آمدن رکھنے والے افراد پر عائد کیے گئے سپر ٹیکس کے بدلے میں ہیں۔ ایک طرف حکومت کہتی ہے کہ وہ باضابطہ (فارمل) شعبے پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنا چاہتی ہے جبکہ دوسری طرف اسی شعبے پر مزید دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔</p>
<p>ٹیکسوں کا یہ بڑھتا ہوا بوجھ ان وجوہات میں سے ایک ہے جس کی بنا پر کثیر القومی کمپنیاں پاکستان سے اپنا کاروبار سمیٹ رہی ہیں، اور مجموعی طور پر رسمی معیشت، خاص طور پر مینوفیکچرنگ کا شعبہ، سکڑ رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں جہاں ایک طرف بیروزگاری بڑھ رہی ہے، وہیں درآمدات پر انحصار بھی بڑھتا جا رہا ہے، جو برآمدات کے ذریعے معاشی ترقی کے حکومتی دعوؤں اور پالیسی کے مکمل برعکس ہے۔</p>
<p>تمہیدِ ستم یہ ہے کہ ریاست مقدس گایوں (بااثر طبقات) کو ہاتھ لگانے کے لیے تیار نہیں اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے حوالے سے بھی کوئی حقیقی عزم نظر نہیں آتا۔ صوبوں کی جانب سے زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی کا ہدف مضحکہ خیز حد تک کم ہے جب کہ لائیواسٹاک (مویشی پال) کے شعبے سے بھی کوئی خاطر خواہ وصولی نہیں ہورہی جہاں دائرہ اختیار کے معاملے پر ابہام پایا جاتا ہے۔ اسی طرح تاجر، ہول سیلرز اور ریٹیلرز بھی اپنا واجب الادا حصہ ادا نہیں کر رہے ہیں۔</p>
<p>ٹیکسوں کا سارا بوجھ غیر متناسب طور پر شہری رسمی شعبے  پر پڑ رہا ہے اور اس کے باوجود آئی ایم ایف کے اہداف پورے نہیں ہو پا رہے۔ اگر جنگ جاری رہتی ہے تو صورتحال مزید ابتر ہو جائے گی اور جلد یا بدیر حکومت کو مالیاتی ایمرجنسی نافذ کرنے کی طرف جانا پڑسکتا ہے۔ اس انتہائی مگر آئینی طور پر جائز اقدام سے بچنے کے لیے اب وقت آ گیا ہے کہ نام نہاد مقدس گایوں سے واجبات وصول کیے جائیں اور انہیں وہ ٹیکس ادا کرنے پر مجبور کیا جائے جس سے وہ طویل عرصے سے بچتے آرہے ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284690</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Apr 2026 11:23:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/061109359f5b98b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/061109359f5b98b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
