<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 12:07:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 02 Oct 2026 12:07:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیش، خسرہ کی وبا 3 ہفتے میں 100 بچوں کی زندگیاں نگل گئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284675/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پنگلہ دیش میں گزشتہ تین ہفتوں کے دوران خسرہ  کے باعث کم از کم 98 بچے جان سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں۔ جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق  حکومت نے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں ویکسینیشن کی مہم تیز کر دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے وزیراعظم طارق رحمان نے دو سینئر وزراء کو ملک گیر دورے کی ہدایت کی، تاکہ 17 کروڑ آبادی والے اس ملک میں بحران کی شدت کا اندازہ لگا کر امدادی سرگرمیوں کو منظم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت صحت کے مطابق خسرہ کی علامات کے ساتھ رپورٹ ہونے والے بچوں کی تعداد 6,476 تک پہنچ گئی ہے، جن کی عمریں چھ ماہ سے پانچ سال کے درمیان ہیں۔ کمیونیکیبل ڈیزیز کنٹرول کے ڈائریکٹر حلیم الرشید نے اے ایف پی کو بتایا کہ گزشتہ سالوں کے مقابلے میں اس بار متاثرہ بچوں اور اموات کی شرح کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے اس وبائی صورتحال کی بڑی وجہ ویکسین کی قلت کو قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ تصدیق شدہ کیسز کی تعداد کم دکھائی دے رہی ہے کیونکہ بہت سے مریضوں کے ٹیسٹ نہیں ہو پاتے یا وہ ٹیسٹ سے قبل ہی دم توڑ جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں جون 2024 میں خسرہ کی مہم چلائی جانی تھی لیکن سیاسی بے چینی اور شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے باعث یہ پروگرام تاخیر کا شکار ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پبلک ہیلتھ ماہرین کے مطابق فنڈز کی دستیابی کے باوجود ویکسین کی بروقت خریداری میں ناکامی نے صورتحال کو خوفناک بنا دیا ہے۔ اب ڈھاکہ سمیت 30 متاثرہ علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر ویکسینیشن شروع کر دی گئی ہے، تاکہ اس متعدی بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پنگلہ دیش میں گزشتہ تین ہفتوں کے دوران خسرہ  کے باعث کم از کم 98 بچے جان سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں۔ جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق  حکومت نے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں ویکسینیشن کی مہم تیز کر دی ہے۔</strong></p>
<p>گزشتہ ہفتے وزیراعظم طارق رحمان نے دو سینئر وزراء کو ملک گیر دورے کی ہدایت کی، تاکہ 17 کروڑ آبادی والے اس ملک میں بحران کی شدت کا اندازہ لگا کر امدادی سرگرمیوں کو منظم کیا جا سکے۔</p>
<p>وزارت صحت کے مطابق خسرہ کی علامات کے ساتھ رپورٹ ہونے والے بچوں کی تعداد 6,476 تک پہنچ گئی ہے، جن کی عمریں چھ ماہ سے پانچ سال کے درمیان ہیں۔ کمیونیکیبل ڈیزیز کنٹرول کے ڈائریکٹر حلیم الرشید نے اے ایف پی کو بتایا کہ گزشتہ سالوں کے مقابلے میں اس بار متاثرہ بچوں اور اموات کی شرح کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے اس وبائی صورتحال کی بڑی وجہ ویکسین کی قلت کو قرار دیا ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ تصدیق شدہ کیسز کی تعداد کم دکھائی دے رہی ہے کیونکہ بہت سے مریضوں کے ٹیسٹ نہیں ہو پاتے یا وہ ٹیسٹ سے قبل ہی دم توڑ جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں جون 2024 میں خسرہ کی مہم چلائی جانی تھی لیکن سیاسی بے چینی اور شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے باعث یہ پروگرام تاخیر کا شکار ہوا۔</p>
<p>پبلک ہیلتھ ماہرین کے مطابق فنڈز کی دستیابی کے باوجود ویکسین کی بروقت خریداری میں ناکامی نے صورتحال کو خوفناک بنا دیا ہے۔ اب ڈھاکہ سمیت 30 متاثرہ علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر ویکسینیشن شروع کر دی گئی ہے، تاکہ اس متعدی بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284675</guid>
      <pubDate>Sun, 05 Apr 2026 20:00:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/05194816c2d2be5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/05194816c2d2be5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
