<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 17:46:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 17:46:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اوپیک پلس کا تیل کی پیداوار بڑھانے پر غور، حملوں کے باعث اضافے کی صلاحیت محدود</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284664/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اوپیک پلس کی جانب سے اتوار کو تیل کی پیداوار میں اضافے کی منظوری دیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم گروپ کے چار ذرائع کے مطابق یہ اضافہ زیادہ تر کاغذی ہوگا کیونکہ اہم رکن ممالک امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث اپنی پیداوار بڑھانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق جنگ کے باعث آبنائے ہرمز، جو دنیا کی سب سے اہم تیل گزرگاہ ہے، فروری کے آخر سے مؤثر طور پر بند ہے، جس کے نتیجے میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور عراق کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔ یہ وہ ممالک ہیں جو اوپیک پلس میں شامل ہیں اور پیداوار میں نمایاں اضافہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روس سمیت دیگر رکن ممالک بھی مغربی پابندیوں اور یوکرین جنگ کے دوران انفرا اسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان کے باعث پیداوار بڑھانے سے قاصر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیجی ممالک میں میزائل اور ڈرون حملوں سے توانائی تنصیبات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، اور حکام کے مطابق معمول کی پیداوار بحال ہونے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوپیک پلس کے گزشتہ اجلاس میں اپریل کے لیے یومیہ 2 لاکھ 6 ہزار بیرل اضافہ منظور کیا گیا تھا۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس وقت عالمی سپلائی میں 12 سے 15 فیصد کمی ہو چکی ہے اور تیل کی قیمتیں 4 سال کی بلند ترین سطح کے قریب 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کے اجلاس میں مئی کے لیے کوٹے پر غور کیا جائے گا، تاہم ممکنہ اضافہ فوری طور پر مارکیٹ پر اثر نہیں ڈالے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اوپیک پلس کی جانب سے اتوار کو تیل کی پیداوار میں اضافے کی منظوری دیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم گروپ کے چار ذرائع کے مطابق یہ اضافہ زیادہ تر کاغذی ہوگا کیونکہ اہم رکن ممالک امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث اپنی پیداوار بڑھانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق جنگ کے باعث آبنائے ہرمز، جو دنیا کی سب سے اہم تیل گزرگاہ ہے، فروری کے آخر سے مؤثر طور پر بند ہے، جس کے نتیجے میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور عراق کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔ یہ وہ ممالک ہیں جو اوپیک پلس میں شامل ہیں اور پیداوار میں نمایاں اضافہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روس سمیت دیگر رکن ممالک بھی مغربی پابندیوں اور یوکرین جنگ کے دوران انفرا اسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان کے باعث پیداوار بڑھانے سے قاصر ہیں۔</p>
<p>خلیجی ممالک میں میزائل اور ڈرون حملوں سے توانائی تنصیبات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، اور حکام کے مطابق معمول کی پیداوار بحال ہونے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔</p>
<p>اوپیک پلس کے گزشتہ اجلاس میں اپریل کے لیے یومیہ 2 لاکھ 6 ہزار بیرل اضافہ منظور کیا گیا تھا۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس وقت عالمی سپلائی میں 12 سے 15 فیصد کمی ہو چکی ہے اور تیل کی قیمتیں 4 سال کی بلند ترین سطح کے قریب 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔</p>
<p>اتوار کے اجلاس میں مئی کے لیے کوٹے پر غور کیا جائے گا، تاہم ممکنہ اضافہ فوری طور پر مارکیٹ پر اثر نہیں ڈالے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284664</guid>
      <pubDate>Sun, 05 Apr 2026 14:23:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/051418392b863ac.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/051418392b863ac.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
